<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 23:43:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 23:43:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلشنِ اقبال سے گلشنِ ابدی تک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035373/</link>
      <description>&lt;p&gt;پھول سے نازک بچے جب اسکول سے تھک کر گھر واپس آتے تو آرام کرنے کے بعد ماؤں کو صرف یہ کہہ کر تنگ کرتے کہ ہمیں کھیلنے کے لیے پارک لے کر چلیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جھولوں پر بیٹھے ان مسکراتے پھولوں کو ان کی مائیں دیکھ کر یہی سوچتی ہوں گی کہ پروردگار میرے بچے کی ہمیشہ حفاظت کرنا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن کیا کوئی یہ بات جانتا تھا یا سوچ بھی سکتا تھا کہ پارک جانے کی فرمائش کرنے والے بچے اب اپنی زندگی میں پارک جانے سے بھی خوفزدہ رہیں گے؟&lt;/p&gt;&lt;p&gt;27 مارچ 2016 کا سورج لاہور کے لیے اتنا تباہ کن ثابت ہوا کہ مردوں اور عورتوں سمیت بچوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا ڈالا۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;تصاویر: &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1035340/"&gt;اقبال کا گلشن خون میں لت پت&lt;/a&gt;&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;شام کے وقت جو بچے اپنے والدین کے ہمراہ پارک میں جھولے جھولنے آئے تھے، وہ بچے جو دنیا کے باغ میں کھیلتے کھیلتے جنت کے باغ میں پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جو گزر گئے سو گزر گئے، لیکن کیا سوچا ہے ان بچوں کا کیا ہوگا جو اس حملے میں بچ گئے؟ اور اس بچے کا بھی جس کا پورا گھرانہ اس سانحہ میں چل بسا اور اس معصوم کو اکیلا چھوڑ گیا؟&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کیا یہ بچے اب کبھی پارک جائیں گے؟ کیا یہ بچے اب کبھی اسکول سے تھک کر گھر واپس آنے کے بعد اپنی والدہ سے فرمائش کریں گے کہ انہیں کسی پارک لے کر جایا جائے؟ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;کیا یہ بچے اب اپنے والد کی انگلی تھام کر کسی جھولے پر بیٹھنے جا پائیں گے؟&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس جنگ نے نہ صرف ہمارے ملک اور ہماری قوم کو جانی نقصان پہنچایا ہے، بلکہ ہر حملے کے بعد بچ جانے والوں پر ایسے شدید ترین نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو عمر بھر کا روگ بن کر رہ جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آخر کب تک ہمارے ملک میں بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا؟ آخر کب تک اس ہی طرح معصوم پھول دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہمارے ملک کو آگے بڑھانے والے ان بچوں کی زندگیاں تباہ کی جائیں گی؟ آخر کب تک مائیں اپنے بچوں کی لاشوں پر آنسو بہائیں گی؟ آخر کب تک ایک باپ اپنے بیٹے کا جنازہ اٹھائے گا؟ آخر کب تک سیاست دان صرف مذمت کا سہارا لیں گے؟ آخر کب تک ہر سانحہ کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی؟ آخر کب تک ہم ان خبروں کو ٹی وی پر دیکھ صرف افسوس کریں گے اور جند لمحوں بعد چینل تبدیل کرکے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائیں گے؟ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;کیا یہ وہی ملک ہے جسے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں لوگوں نے قربانی دے کر حاصل کیا تھا، اس دن کے لیے کہ ہم اپنے بچوں کو اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اب پارکوں سے بھی دور رکھیں؟ &lt;/p&gt;&lt;h5&gt;یہ پڑھیں : &lt;a href="http://www.dawnnews.tv/news/1035326/"&gt;لاہور پارک دھماکے میں 72 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h5&gt;
&lt;p&gt;ہم ہر صبح اپنے بچوں کو موت کے منہ میں بھیجنے کے لیے تیار کرتے ہیں اور اگر وہ خیریت سے گھر واپس آجائیں تو سکون کا سانس لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;نہ ہی ہمارے اسکول محفوظ ہیں، نہ ہی ہماری یونیورسٹیاں، نہ ہی ہمارے پارک محفوظ ہیں اور نہ ہی ہمارے گھر۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بچوں پر سرمایہ کاری کی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے، پر سانحہ پشاور، سانحہ باچا خان یونیورسٹی، سانحہ گلشنِ اقبال پارک، اور ایسے لاتعداد سانحوں میں اس قوم کا مستقبل جیسے برباد ہوا ہے، اس کی مذمت کرنے کے لیے اب الفاظ بھی ختم ہو چکے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;خودکش حملہ آور نے ایک دھماکے سے نہ جانے کتنے پھول روند دیے، لیکن جو پیچھے چھوڑ دیا وہ اس ماں کی آہ و بکا تھی، وہ ماں جس نے راتوں کو جاگ کر اپنے بچے کو سلایا ہوگا، وہ ماں جو خود تو بھوکی رہ گئی لیکن اس نے اپنے بچوں کا پیٹ بھردیا، وہ ماں جو اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر صرف یہ سوچتی کہ یہ بچے اس کی زندگی کا سہارا ہیں، وہ ماں جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے کی لاش اٹھائی اور وہ ماں جس نے اپنے مسکراتے پھول کا خون سے آلود کپڑے اٹھائے، وہ ماں جو اب پوری زندگی صرف یہ سوچیں گی کہ کاش میں اپنے بچے کو اس تاریخ پر پارک نہ بھیجتی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کاش ہمارے ملک میں مزید ایسی مائیں نہ نظر آئیں جو اپنے آنگن کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتے ہوئے دیکھ کر بھی کچھ نہ کر پائیں۔ کاش کہ ہمیں ہوش آجائے، کاش کہ ہمارے ملک کے بچے ایک بار پھر ہر میدان میں سب سے آگے ہوں، کاش ہمارا ملک اس دہشت گردی سے پاک ہوجائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کاش وہ دن جلد آئے!&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پھول سے نازک بچے جب اسکول سے تھک کر گھر واپس آتے تو آرام کرنے کے بعد ماؤں کو صرف یہ کہہ کر تنگ کرتے کہ ہمیں کھیلنے کے لیے پارک لے کر چلیں۔</p><p>جھولوں پر بیٹھے ان مسکراتے پھولوں کو ان کی مائیں دیکھ کر یہی سوچتی ہوں گی کہ پروردگار میرے بچے کی ہمیشہ حفاظت کرنا۔</p><p>لیکن کیا کوئی یہ بات جانتا تھا یا سوچ بھی سکتا تھا کہ پارک جانے کی فرمائش کرنے والے بچے اب اپنی زندگی میں پارک جانے سے بھی خوفزدہ رہیں گے؟</p><p>27 مارچ 2016 کا سورج لاہور کے لیے اتنا تباہ کن ثابت ہوا کہ مردوں اور عورتوں سمیت بچوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا ڈالا۔</p><h4>تصاویر: <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1035340/">اقبال کا گلشن خون میں لت پت</a></h4>
<p>شام کے وقت جو بچے اپنے والدین کے ہمراہ پارک میں جھولے جھولنے آئے تھے، وہ بچے جو دنیا کے باغ میں کھیلتے کھیلتے جنت کے باغ میں پہنچ گئے۔</p><p>جو گزر گئے سو گزر گئے، لیکن کیا سوچا ہے ان بچوں کا کیا ہوگا جو اس حملے میں بچ گئے؟ اور اس بچے کا بھی جس کا پورا گھرانہ اس سانحہ میں چل بسا اور اس معصوم کو اکیلا چھوڑ گیا؟</p><p>کیا یہ بچے اب کبھی پارک جائیں گے؟ کیا یہ بچے اب کبھی اسکول سے تھک کر گھر واپس آنے کے بعد اپنی والدہ سے فرمائش کریں گے کہ انہیں کسی پارک لے کر جایا جائے؟ </p><p>کیا یہ بچے اب اپنے والد کی انگلی تھام کر کسی جھولے پر بیٹھنے جا پائیں گے؟</p><p>اس جنگ نے نہ صرف ہمارے ملک اور ہماری قوم کو جانی نقصان پہنچایا ہے، بلکہ ہر حملے کے بعد بچ جانے والوں پر ایسے شدید ترین نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو عمر بھر کا روگ بن کر رہ جاتے ہیں۔ </p><p>آخر کب تک ہمارے ملک میں بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا؟ آخر کب تک اس ہی طرح معصوم پھول دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہمارے ملک کو آگے بڑھانے والے ان بچوں کی زندگیاں تباہ کی جائیں گی؟ آخر کب تک مائیں اپنے بچوں کی لاشوں پر آنسو بہائیں گی؟ آخر کب تک ایک باپ اپنے بیٹے کا جنازہ اٹھائے گا؟ آخر کب تک سیاست دان صرف مذمت کا سہارا لیں گے؟ آخر کب تک ہر سانحہ کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی؟ آخر کب تک ہم ان خبروں کو ٹی وی پر دیکھ صرف افسوس کریں گے اور جند لمحوں بعد چینل تبدیل کرکے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائیں گے؟ </p><p>کیا یہ وہی ملک ہے جسے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں لوگوں نے قربانی دے کر حاصل کیا تھا، اس دن کے لیے کہ ہم اپنے بچوں کو اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے اب پارکوں سے بھی دور رکھیں؟ </p><h5>یہ پڑھیں : <a href="http://www.dawnnews.tv/news/1035326/">لاہور پارک دھماکے میں 72 افراد ہلاک</a></h5>
<p>ہم ہر صبح اپنے بچوں کو موت کے منہ میں بھیجنے کے لیے تیار کرتے ہیں اور اگر وہ خیریت سے گھر واپس آجائیں تو سکون کا سانس لیتے ہیں۔</p><p>نہ ہی ہمارے اسکول محفوظ ہیں، نہ ہی ہماری یونیورسٹیاں، نہ ہی ہمارے پارک محفوظ ہیں اور نہ ہی ہمارے گھر۔</p><p>کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بچوں پر سرمایہ کاری کی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے، پر سانحہ پشاور، سانحہ باچا خان یونیورسٹی، سانحہ گلشنِ اقبال پارک، اور ایسے لاتعداد سانحوں میں اس قوم کا مستقبل جیسے برباد ہوا ہے، اس کی مذمت کرنے کے لیے اب الفاظ بھی ختم ہو چکے ہیں۔ </p><p>خودکش حملہ آور نے ایک دھماکے سے نہ جانے کتنے پھول روند دیے، لیکن جو پیچھے چھوڑ دیا وہ اس ماں کی آہ و بکا تھی، وہ ماں جس نے راتوں کو جاگ کر اپنے بچے کو سلایا ہوگا، وہ ماں جو خود تو بھوکی رہ گئی لیکن اس نے اپنے بچوں کا پیٹ بھردیا، وہ ماں جو اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر صرف یہ سوچتی کہ یہ بچے اس کی زندگی کا سہارا ہیں، وہ ماں جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے کی لاش اٹھائی اور وہ ماں جس نے اپنے مسکراتے پھول کا خون سے آلود کپڑے اٹھائے، وہ ماں جو اب پوری زندگی صرف یہ سوچیں گی کہ کاش میں اپنے بچے کو اس تاریخ پر پارک نہ بھیجتی۔</p><p>کاش ہمارے ملک میں مزید ایسی مائیں نہ نظر آئیں جو اپنے آنگن کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتے ہوئے دیکھ کر بھی کچھ نہ کر پائیں۔ کاش کہ ہمیں ہوش آجائے، کاش کہ ہمارے ملک کے بچے ایک بار پھر ہر میدان میں سب سے آگے ہوں، کاش ہمارا ملک اس دہشت گردی سے پاک ہوجائے۔</p><p>کاش وہ دن جلد آئے!</p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035373</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Mar 2016 14:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (میمونہ رضا نقوی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56fa3dae3012b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="590" width="984">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56fa3dae3012b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/03/56fa3d88df318.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/03/56fa3d88df318.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
