<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 07:28:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 09 Aug 2026 07:28:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان کے چھتوں سے محروم اسکول</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035579/</link>
      <description>&lt;h1&gt;بلوچستان کے چھتوں سے محروم اسکول&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.dawnnews.tv/authors/1320/syed-ali-shah"&gt;سید علی شاہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;quot; پلیز یہاں کی تصاویر نہ لیں&amp;quot;، یہ الفاظ ایک اسکول ٹیچر نے کیمرہ مین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہے۔ اس کے ارگرد اس پہاڑی گاﺅں کے چالیس کے قریب بچے زرد یونیفارمز میں ملبوس گاڑیوں کو دیکھ رہے تھے۔ مٹی سے اٹی سڑک سے ہوکر ہم اس گاﺅں کلی عنایت اللہ مچکا کے ایک سرکاری اسکول پہنچے جو کہ افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طویل فاصلے سے بھی ہر ایک دیکھ سکتا ہے کہ اس اسکول کی کوئی چھت یا کھڑکی نہیں، یہ کسی پناہ گاہ کی پیشکش نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹیچر محمد اسمعیل نے مصافحے کے بعد بتایا &amp;quot; پہلے اندر آئیں اور ہم سے بات کریں، اس کے بعد آپ تصاویر لے سکتے ہیں&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f65097c6.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فوٹو عصمت اللہ خان&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;غریبوں کے لیے ایک اسکول&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کوئٹہ۔ چمن نیشنل ہائی وے سے مشرق میں لگ بھگ دو کلو میٹر دور واقع مچکا قلعہ عبداللہ پرائمری اسکول پرویز مشرف کے عہد میں 2003 میں غریب علاقے کے بچوں کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس گاﺅں کی آبادی دیہاڑی دار مزدوروں، سڑک کنارے موجود ہوٹلوں کے عملے اور ٹیکسی ڈرائیوروں پر مشتمل ہے۔ یہاں ایسے طالبعلموں کی اکثریت ہے جن کے والد کراچی منتقل ہوچکے ہیں تاکہ زیادہ کما کر اپنے خاندانوں کی مالی کفالت کرسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اراکین اسمبلی، وزراءاور افسران اس اسکول کے سامنے سے روز گزرتے ہیں مگر چمن اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والے وی آئی پیز اس عمارت کی کسمپرسی کا نوٹس لیتے ہی نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک کمرے کی جگہ کی تعمیر یہاں کے باسیوں نے خود کی ہے جسے کلاس روم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹی کی کچی دیواروں سے بنا احاطہ وقت کی تیزدھار کے باعث خستہ حالی کا شکار ہے، اس کی چھت ٹوٹی ہوئی اور دروازے کہیں نہیں۔ یہاں کی چھت اور کمرے کا بیشتر حصہ کافی عرصے سے پہلے شدید بارشوں کے بعد منہدم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f6e9481e.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فوٹو عصمت اللہ خان&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہاں طالبعلم چھت، دروازے اور کھڑکیوں سے محروم عمارت میں لگ بھگ تین برسوں سے پڑھ رہے ہیں۔یہاں باﺅنڈری وال، ٹوائلٹ نہیں جبکہ پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹیچر محمد اسمعیل کے مطابق &amp;quot; بچے پینے کا پانی قریبی ٹیوب ویل سے لے کر آتے ہیں&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محمد اسمعیل جو پنجاب سے آئے ہیں، گزشتہ تیرہ سال سے اس کمرے میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلی سے پانچویں جماعت کے طالبعلموں کو پڑھاتے ہیں جن کی کل تعداد 70 ہے، مگر کمرے میں اس وقت صرف 40 بچے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f64d74ec.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فوٹو عصمت اللہ خان&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی حالت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;صوبائی محکمہ تعلیم کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق بلوچستان میں حکومتی نگرانی میں چلنے والے پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد ہوچکی ہے، تاہم محکمے کا کہنا ہے کہ وہ 955 اسکولوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کرسکتا جبکہ 1200 سے زائد ابھی تک فعال نہیں ہوسکے ہیں۔ آزادانہ ذرائع صوبے بھر میں حکومتی اسکولوں کی انتہائی خراب تصویر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سیکرٹری تعلیم بلوچستان صبور کاکڑ تصدیق کرتے ہیں &amp;quot; ہم نے ایسے اسکولوں کے فنڈز روک دیئے جن کی تصدیق نہیں کرسکتے&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ تمام شعبون کے مقابلے میں تعلیم اس کی اولین ترجیح ہے، اس نے تعلیم کے شعبے کے لیے چالیس ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں جس کا مقصد تمام طالبعلموں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ محکمہ تعلیم نے کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں اسکولوں میں داخلے کے لیے مہم بھی چلائی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی اداروں کا حصہ بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صوبائی وزیر تعلیم رحیم زیارت وال وضاحت کرتے ہیں &amp;quot; ہمارا مقصد اسکولوں سے باہر بچوں کو لانا ہے&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاہم حکومت اور میڈیا کے درمیان اس حوالے سے تنازع ہے جو صوبے میں اسکولوں سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد کے اعدادوشمار سے متفق نہیں۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے سابق مشیر تعلیم سردار رضا محمد بریج کے بقول یہ تعداد سولہ لاکھ ہے جبکہ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f6b41908.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فوٹو عصمت اللہ خان&lt;/figcaption&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;پڑھنے میں مداخلت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ اسکول واحد ایسا اسکول نہیں جو انفراسٹرکچرک ے بغیر ہی فعال ہے، بڑی تعداد میں اسکولوں کا یہی حال ہے۔ طالبعلموں کو موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور پہلی جماعت کے طالبعلم موسیٰ جان کے مطابق &amp;quot; بارش، آندھی یا ٹھنڈے موسم میں ہم اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;موسم گرم ہو یا سرد، اکثر بچوں کی پڑھائی میں مداخلت کرتا ہے مگر یہ اسکول صرف انفراسٹرکچر سے ہی محروم نہیں، بلکہ یہاں معیار تعلیم اور اچھے اساتذہ کی عدم موجودگی بھی باعث فکر ہے۔ ایسے متعدد اسکولوں میں طالبعلموں کو نہ تو اردو بولنا اور نہ ہی لکھنا آتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جب ہم نے بانی پاکستان کا نام دریافت کیا تو چوتھی جماعت کے طالبعلم نقیب اللہ نے کہا کہ وہ نہیں جانتا۔ تین طالبعلموں نے کوشش کی مگر وہ بھی جواب دینے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس موقع پر ان کے ایک ساتھی نے اپنے بے بس دوستوں کی مدد کی کوشش کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہا &amp;quot; اللہ نے پاکستان کو بنایا ہے&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;h6&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ&lt;/a&gt; ڈاؤن لوڈ کریں۔&lt;/h6&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>بلوچستان کے چھتوں سے محروم اسکول</h1>
<p><a href="http://www.dawnnews.tv/authors/1320/syed-ali-shah">سید علی شاہ</a></p><p>&quot; پلیز یہاں کی تصاویر نہ لیں&quot;، یہ الفاظ ایک اسکول ٹیچر نے کیمرہ مین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہے۔ اس کے ارگرد اس پہاڑی گاﺅں کے چالیس کے قریب بچے زرد یونیفارمز میں ملبوس گاڑیوں کو دیکھ رہے تھے۔ مٹی سے اٹی سڑک سے ہوکر ہم اس گاﺅں کلی عنایت اللہ مچکا کے ایک سرکاری اسکول پہنچے جو کہ افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔</p><p>طویل فاصلے سے بھی ہر ایک دیکھ سکتا ہے کہ اس اسکول کی کوئی چھت یا کھڑکی نہیں، یہ کسی پناہ گاہ کی پیشکش نہیں کرتا۔</p><p>ٹیچر محمد اسمعیل نے مصافحے کے بعد بتایا &quot; پہلے اندر آئیں اور ہم سے بات کریں، اس کے بعد آپ تصاویر لے سکتے ہیں&quot;۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f65097c6.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فوٹو عصمت اللہ خان</figcaption>
				</figure>
<h2>غریبوں کے لیے ایک اسکول</h2>
<p>کوئٹہ۔ چمن نیشنل ہائی وے سے مشرق میں لگ بھگ دو کلو میٹر دور واقع مچکا قلعہ عبداللہ پرائمری اسکول پرویز مشرف کے عہد میں 2003 میں غریب علاقے کے بچوں کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس گاﺅں کی آبادی دیہاڑی دار مزدوروں، سڑک کنارے موجود ہوٹلوں کے عملے اور ٹیکسی ڈرائیوروں پر مشتمل ہے۔ یہاں ایسے طالبعلموں کی اکثریت ہے جن کے والد کراچی منتقل ہوچکے ہیں تاکہ زیادہ کما کر اپنے خاندانوں کی مالی کفالت کرسکیں۔</p><p>اراکین اسمبلی، وزراءاور افسران اس اسکول کے سامنے سے روز گزرتے ہیں مگر چمن اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والے وی آئی پیز اس عمارت کی کسمپرسی کا نوٹس لیتے ہی نہیں۔</p><p>ایک کمرے کی جگہ کی تعمیر یہاں کے باسیوں نے خود کی ہے جسے کلاس روم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹی کی کچی دیواروں سے بنا احاطہ وقت کی تیزدھار کے باعث خستہ حالی کا شکار ہے، اس کی چھت ٹوٹی ہوئی اور دروازے کہیں نہیں۔ یہاں کی چھت اور کمرے کا بیشتر حصہ کافی عرصے سے پہلے شدید بارشوں کے بعد منہدم ہوگیا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f6e9481e.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فوٹو عصمت اللہ خان</figcaption>
				</figure>
<p>یہاں طالبعلم چھت، دروازے اور کھڑکیوں سے محروم عمارت میں لگ بھگ تین برسوں سے پڑھ رہے ہیں۔یہاں باﺅنڈری وال، ٹوائلٹ نہیں جبکہ پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں۔</p><p>ٹیچر محمد اسمعیل کے مطابق &quot; بچے پینے کا پانی قریبی ٹیوب ویل سے لے کر آتے ہیں&quot;۔</p><p>محمد اسمعیل جو پنجاب سے آئے ہیں، گزشتہ تیرہ سال سے اس کمرے میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلی سے پانچویں جماعت کے طالبعلموں کو پڑھاتے ہیں جن کی کل تعداد 70 ہے، مگر کمرے میں اس وقت صرف 40 بچے تھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f64d74ec.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فوٹو عصمت اللہ خان</figcaption>
				</figure>
<h2>صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی حالت</h2>
<p>صوبائی محکمہ تعلیم کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق بلوچستان میں حکومتی نگرانی میں چلنے والے پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد ہوچکی ہے، تاہم محکمے کا کہنا ہے کہ وہ 955 اسکولوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کرسکتا جبکہ 1200 سے زائد ابھی تک فعال نہیں ہوسکے ہیں۔ آزادانہ ذرائع صوبے بھر میں حکومتی اسکولوں کی انتہائی خراب تصویر پیش کرتے ہیں۔</p><p>سیکرٹری تعلیم بلوچستان صبور کاکڑ تصدیق کرتے ہیں &quot; ہم نے ایسے اسکولوں کے فنڈز روک دیئے جن کی تصدیق نہیں کرسکتے&quot;۔</p><p>صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ تمام شعبون کے مقابلے میں تعلیم اس کی اولین ترجیح ہے، اس نے تعلیم کے شعبے کے لیے چالیس ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں جس کا مقصد تمام طالبعلموں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ محکمہ تعلیم نے کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں اسکولوں میں داخلے کے لیے مہم بھی چلائی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی اداروں کا حصہ بنایا جاسکے۔</p><p>صوبائی وزیر تعلیم رحیم زیارت وال وضاحت کرتے ہیں &quot; ہمارا مقصد اسکولوں سے باہر بچوں کو لانا ہے&quot;۔</p><p>تاہم حکومت اور میڈیا کے درمیان اس حوالے سے تنازع ہے جو صوبے میں اسکولوں سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد کے اعدادوشمار سے متفق نہیں۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے سابق مشیر تعلیم سردار رضا محمد بریج کے بقول یہ تعداد سولہ لاکھ ہے جبکہ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/04/56ff9f6b41908.jpg'  alt='فوٹو عصمت اللہ خان' /></div>
				<figcaption class="media__caption  ">
					فوٹو عصمت اللہ خان</figcaption>
				</figure>
<h2>پڑھنے میں مداخلت</h2>
<p>یہ اسکول واحد ایسا اسکول نہیں جو انفراسٹرکچرک ے بغیر ہی فعال ہے، بڑی تعداد میں اسکولوں کا یہی حال ہے۔ طالبعلموں کو موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور پہلی جماعت کے طالبعلم موسیٰ جان کے مطابق &quot; بارش، آندھی یا ٹھنڈے موسم میں ہم اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں&quot;۔</p><p>موسم گرم ہو یا سرد، اکثر بچوں کی پڑھائی میں مداخلت کرتا ہے مگر یہ اسکول صرف انفراسٹرکچر سے ہی محروم نہیں، بلکہ یہاں معیار تعلیم اور اچھے اساتذہ کی عدم موجودگی بھی باعث فکر ہے۔ ایسے متعدد اسکولوں میں طالبعلموں کو نہ تو اردو بولنا اور نہ ہی لکھنا آتی ہے۔</p><p>جب ہم نے بانی پاکستان کا نام دریافت کیا تو چوتھی جماعت کے طالبعلم نقیب اللہ نے کہا کہ وہ نہیں جانتا۔ تین طالبعلموں نے کوشش کی مگر وہ بھی جواب دینے میں ناکام رہے۔</p><p>اس موقع پر ان کے ایک ساتھی نے اپنے بے بس دوستوں کی مدد کی کوشش کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے کہا &quot; اللہ نے پاکستان کو بنایا ہے&quot;۔</p><hr>
<h6>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ</a> ڈاؤن لوڈ کریں۔</h6>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035579</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Apr 2016 23:23:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/04/57000da3ee032.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="180" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/04/57000da3ee032.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
