<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:33:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:33:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035608/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: بیرون ملک ٹیکس  کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی  شخصیات کے &amp;#39;آف شور&amp;#39; مالی معاملات عیاں ہو گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاناما پیپرز کی جانب سے International Consortium of Investigative Journalists  کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی &amp;#39;آف شور&amp;#39; کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان دستاویزات میں روس کے ولادمیر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور  پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;h4&gt;آف شور اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟&lt;/h4&gt;
&lt;p class=''&gt;کسی بھی دوسرے ملک میں آف شور بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالیاتی لین دین کے نگران اداروں سے یا ٹیکس سے بچنے  کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنیاں یا شخصیات اس کے لیے عموماً شیل کمپنیوں کا استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد اصل مالکان کے ناموں اور اس میں استعمال فنڈز کو چھپانا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی اس معلوما ت کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیٹا میں مریم کو برٹش ورجن آئس لینڈ میں موجود نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کا مالک ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی ایس آئی جے کی جاری دستاویزات میں نیلسن انٹرپرائزز کا پتہ جدہ میں سرور پیلس بتایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جون، 2012 کی ایک دستاویز میں  مریم صفدر کو ’ beneficial owner‘ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی سی آئی جے کے مطابق، حسین اور مریم نے لندن میں اپنی جائیداد گروی رکھتے ہوئے نیسکول اور دوسری کمپنی کیلئے Deutsche Bank Geneva سے 13.8 ملین ڈالرز قرض حاصل کرنے سے متعلق جون، 2007 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد میں جولائی، 2014 میں دونوں کمپنیاں ایک اور ایجنٹ کو منتقل کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسی طرح حسن نواز شریف کو برٹش ورجن آئس لینڈز میں ہینگون پراپرٹی ہولڈنگز کا ’واحد ڈائریکٹر ‘ ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہینگون نے اگست، 2007 میں لائبیریا میں واقع کیسکون ہولڈنگز اسٹیبلشمنٹ لمیٹڈ کو 11.2 ملین ڈالرز میں خرید لیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;iframe src="https://projects.icij.org/panama-papers/power-players/?lang=en#19" scrolling="no" style="min-width: 100%; width: 100px; height: 90vh; border: 0;" allowfullscreen webkitallowfullscreen mozallowfullscreen&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p class=''&gt;ضروری نہیں افشا ہونے والی یہ دستاویزات غیر قانونی سرگرمیوں کا ثبوت ہوں کیونکہ برطانوی روزنامہ دی گارجین کے مطابق آف شور ڈھانچہ استعمال کرنا قانونی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دی گارجین کا کہنا ہے کہ آف شور ڈھانچہ استعمال کرنے کے کئی جائز وجوہات بھی ہیں، مثلاً روس اور یوکرائن سمیت کئی ملکوں میں کاروباری شخصیات مجرموں کے ’حملوں‘ سے بچنے کیلئے اپنے اثاثے آف شور رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دستاویزات میں یوکرائن، آرجنٹائن اور یو اے ای کے صدور، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے رشتہ داروں، شام کے بشار الاسد، چین کے سابق وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کوفی عنان کے بیٹے کے نام بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں اس ڈیٹا سے مزید اہم معلومات سامنے آئیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 4 اپریل، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href='https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv' &gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: بیرون ملک ٹیکس  کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی  شخصیات کے &#39;آف شور&#39; مالی معاملات عیاں ہو گئے۔</p><p class=''>پاناما پیپرز کی جانب سے International Consortium of Investigative Journalists  کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی &#39;آف شور&#39; کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔</p><p class=''>ان دستاویزات میں روس کے ولادمیر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور  پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل ہیں۔</p><hr>
<h4>آف شور اکاؤنٹس کیا ہوتے ہیں؟</h4>
<p class=''>کسی بھی دوسرے ملک میں آف شور بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالیاتی لین دین کے نگران اداروں سے یا ٹیکس سے بچنے  کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p><p class=''>کمپنیاں یا شخصیات اس کے لیے عموماً شیل کمپنیوں کا استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد اصل مالکان کے ناموں اور اس میں استعمال فنڈز کو چھپانا ہوتا ہے۔</p><hr>
<p class=''>موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی اس معلوما ت کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔</p><p class=''>ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔</p><p class=''>ڈیٹا میں مریم کو برٹش ورجن آئس لینڈ میں موجود نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کا مالک ظاہر کیا گیا ہے۔</p><p class=''>آئی ایس آئی جے کی جاری دستاویزات میں نیلسن انٹرپرائزز کا پتہ جدہ میں سرور پیلس بتایا گیا۔</p><p class=''>جون، 2012 کی ایک دستاویز میں  مریم صفدر کو ’ beneficial owner‘ قرار دیا گیا ہے۔</p><p class=''>آئی سی آئی جے کے مطابق، حسین اور مریم نے لندن میں اپنی جائیداد گروی رکھتے ہوئے نیسکول اور دوسری کمپنی کیلئے Deutsche Bank Geneva سے 13.8 ملین ڈالرز قرض حاصل کرنے سے متعلق جون، 2007 میں ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے۔</p><p class=''>بعد میں جولائی، 2014 میں دونوں کمپنیاں ایک اور ایجنٹ کو منتقل کر دی گئیں۔</p><p class=''>اسی طرح حسن نواز شریف کو برٹش ورجن آئس لینڈز میں ہینگون پراپرٹی ہولڈنگز کا ’واحد ڈائریکٹر ‘ ظاہر کیا گیا ہے۔</p><p class=''>ہینگون نے اگست، 2007 میں لائبیریا میں واقع کیسکون ہولڈنگز اسٹیبلشمنٹ لمیٹڈ کو 11.2 ملین ڈالرز میں خرید لیا تھا۔</p><iframe src="https://projects.icij.org/panama-papers/power-players/?lang=en#19" scrolling="no" style="min-width: 100%; width: 100px; height: 90vh; border: 0;" allowfullscreen webkitallowfullscreen mozallowfullscreen></iframe>
<p class=''>ضروری نہیں افشا ہونے والی یہ دستاویزات غیر قانونی سرگرمیوں کا ثبوت ہوں کیونکہ برطانوی روزنامہ دی گارجین کے مطابق آف شور ڈھانچہ استعمال کرنا قانونی ہے۔</p><p class=''>دی گارجین کا کہنا ہے کہ آف شور ڈھانچہ استعمال کرنے کے کئی جائز وجوہات بھی ہیں، مثلاً روس اور یوکرائن سمیت کئی ملکوں میں کاروباری شخصیات مجرموں کے ’حملوں‘ سے بچنے کیلئے اپنے اثاثے آف شور رکھتے ہیں۔</p><p class=''>دستاویزات میں یوکرائن، آرجنٹائن اور یو اے ای کے صدور، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے رشتہ داروں، شام کے بشار الاسد، چین کے سابق وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے سابق سربراہ کوفی عنان کے بیٹے کے نام بھی موجود ہیں۔</p><p class=''>امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں اس ڈیٹا سے مزید اہم معلومات سامنے آئیں گی۔</p><p class=''><em>یہ خبر 4 اپریل، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی</em></p><hr>
<p class=''><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href='https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv' >ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035608</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Apr 2017 19:50:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/04/5701ec5f43553.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/04/5701ec5f43553.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
