<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:18:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:18:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب آپریشن پر تناؤ: نواز شریف کی جنرل راحیل سے ملاقات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035656/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پنجاب میں فوج کی زیر قیادت   شروع ہونے والےانسداد دہشت گردی آپریشن  کے نتیجے میں  سول-عسکری تناؤ پر غور کیلئے وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کوفوجی  سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ نواز شریف نے  ملکی اور داخلی سیکیورٹی امور پر ایک اعلی سطح کے اجلاس  کی سربراہی کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نےوزیر اعظم کی معاونت کی  جبکہ آئی ایس آئی سربراہ  لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر آرمی چیف کے ہمراہ موجود تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کچھ حلقے پنجاب آپریشن پر گزشتہ جمعرات سے اب تک ہونےوالی تین اعلی سطحی  سول-عسکری ملاقاتوں کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں  تو وہیں   کچھ مبصرین شکوک و شبہات ظاہر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس سے پہلے پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف وزیر داخلہ  اور  پھر دوسری مرتبہ  وزیر خزانہ اسحاق ڈار ’دفاعی بجٹ کے امور‘ پر آرمی چیف سے جی ایچ کیو میں ملاقات کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان ملاقاتوں میں فوج سول قیادت پر زور دیتی آئی ہے کہ وہ  آگے بڑھ کر لاہور خود کش دھماکے کے بعد صوبے میں شروع ہونے والے  یک طرفہ فوجی  آپریشن   کی اونر شپ لے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دعوی کیا جاتا ہے کہ پنجاب حکومت کی مسلسل مزاحمت اور پولیس سمیت صوبائی قانو ن نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے فوج یک طرفہ آپریشن شروع کرنے پر مجبور ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاہم، ایک اہم نقطہ جس کے بارے میں زیادہ گفتگو  نہیں کی جاتی وہ اس آپریشن کے بعد  سول اورعسکری قیادت  کے درمیان پیدا ہونے والی بد اعتمادی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;نجی گفتگو میں کچھ حکام الزام لگاتے ہیں کہ پنجاب پولیس ماضی میں  اہم خفیہ معلومات افشا کرتی رہی ہے،  جس سےصوبے میں  آپریشن متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب، حکومت کا اصرار ہے کہ مسلح افواج سے مدد طلب کرنا صوبائی حکومت کا استحقاق ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر خطرے کی نوعیت دیکھتے ہوئے   اس کا فیصلہ کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ ان تین اعلی سطحی ملاقاتوں  کے نتیجے میں باہمی تناؤ کتنا کم ہوا کیونکہ دونوں فریقین اس معاملے پر کھلے عام بات کرنے سے اجتناب کر رہےہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاہم، کچھ حلقے وزیر اعظم ہاؤس کے مختصر بیان میں پنجاب آپریشن کا ذکر نہ ہونے کو  کشیدگی برقرار ہونے کی علامت قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آئندہ کچھ دنوں میں پنجاب آپریشن کی شدت سے اس کا مستقبل واضح ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فوج کہہ چکی ہے کہ صوبے میں آپریشن اسی شدت سے جاری رہے گا جیسے لاہور دھماکے کے  بعد 28 مارچ کو شروع کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فوج کا کہنا ہے کہ وہ  ملٹری انٹیلی جنس، رینجرز اور بعض موقعوں پر پولیس کی مددسے صوبے بھر میں کارروائیاں کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فوج نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ صوبے میں تاحال کتنے آپریشن اور گرفتاریاں کی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 5 اپریل، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پنجاب میں فوج کی زیر قیادت   شروع ہونے والےانسداد دہشت گردی آپریشن  کے نتیجے میں  سول-عسکری تناؤ پر غور کیلئے وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کوفوجی  سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔</p><p>وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ نواز شریف نے  ملکی اور داخلی سیکیورٹی امور پر ایک اعلی سطح کے اجلاس  کی سربراہی کی۔</p><p>اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نےوزیر اعظم کی معاونت کی  جبکہ آئی ایس آئی سربراہ  لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر آرمی چیف کے ہمراہ موجود تھے۔</p><p>کچھ حلقے پنجاب آپریشن پر گزشتہ جمعرات سے اب تک ہونےوالی تین اعلی سطحی  سول-عسکری ملاقاتوں کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں  تو وہیں   کچھ مبصرین شکوک و شبہات ظاہر کر رہے ہیں۔</p><p>خیال رہے کہ اس سے پہلے پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف وزیر داخلہ  اور  پھر دوسری مرتبہ  وزیر خزانہ اسحاق ڈار ’دفاعی بجٹ کے امور‘ پر آرمی چیف سے جی ایچ کیو میں ملاقات کر چکے ہیں۔</p><p>ان ملاقاتوں میں فوج سول قیادت پر زور دیتی آئی ہے کہ وہ  آگے بڑھ کر لاہور خود کش دھماکے کے بعد صوبے میں شروع ہونے والے  یک طرفہ فوجی  آپریشن   کی اونر شپ لے۔</p><p>دعوی کیا جاتا ہے کہ پنجاب حکومت کی مسلسل مزاحمت اور پولیس سمیت صوبائی قانو ن نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے فوج یک طرفہ آپریشن شروع کرنے پر مجبور ہوئی۔</p><p>تاہم، ایک اہم نقطہ جس کے بارے میں زیادہ گفتگو  نہیں کی جاتی وہ اس آپریشن کے بعد  سول اورعسکری قیادت  کے درمیان پیدا ہونے والی بد اعتمادی ہے۔</p><p>نجی گفتگو میں کچھ حکام الزام لگاتے ہیں کہ پنجاب پولیس ماضی میں  اہم خفیہ معلومات افشا کرتی رہی ہے،  جس سےصوبے میں  آپریشن متاثر ہوئے۔</p><p>دوسری جانب، حکومت کا اصرار ہے کہ مسلح افواج سے مدد طلب کرنا صوبائی حکومت کا استحقاق ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر خطرے کی نوعیت دیکھتے ہوئے   اس کا فیصلہ کرے گی۔</p><p>کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ ان تین اعلی سطحی ملاقاتوں  کے نتیجے میں باہمی تناؤ کتنا کم ہوا کیونکہ دونوں فریقین اس معاملے پر کھلے عام بات کرنے سے اجتناب کر رہےہیں۔</p><p>تاہم، کچھ حلقے وزیر اعظم ہاؤس کے مختصر بیان میں پنجاب آپریشن کا ذکر نہ ہونے کو  کشیدگی برقرار ہونے کی علامت قرار دیتے ہیں۔</p><p>آئندہ کچھ دنوں میں پنجاب آپریشن کی شدت سے اس کا مستقبل واضح ہو جائے گا۔</p><p>فوج کہہ چکی ہے کہ صوبے میں آپریشن اسی شدت سے جاری رہے گا جیسے لاہور دھماکے کے  بعد 28 مارچ کو شروع کیا گیا تھا۔</p><p>فوج کا کہنا ہے کہ وہ  ملٹری انٹیلی جنس، رینجرز اور بعض موقعوں پر پولیس کی مددسے صوبے بھر میں کارروائیاں کر رہی ہے۔</p><p>فوج نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ صوبے میں تاحال کتنے آپریشن اور گرفتاریاں کی گئیں۔</p><p><em>یہ خبر 5 اپریل، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی</em></p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035656</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Apr 2016 13:20:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/04/570300bc7aeeb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/04/570300bc7aeeb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
