<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:11:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:11:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان میں 'نظروں سے اوجھل ٹرین' کی تیاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1035921/</link>
      <description>&lt;p&gt;جاپان کی ایک ریلوے کمپنی 2018 میں اپنے قیام کی 100 ویں سالگرہ ایک نئی قسم کی تیز رفتار ٹرینوں کو متعارف کرکے منانا چاہتی ہے جو &amp;#39; پس منظر میں گم ہوجاتی ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جاپانی کمپنی سیبو ریلوے ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے، سیاحت اور جائیدادوں کا کاروبار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اب وہ ایسی ٹرینیں متعارف کرانے والی ہے جو گرگٹ کی طرح کسی بھی ماحول کا حصہ بن جاتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ نظروں سے اوجھل نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;معروف جاپانی آرکیٹیکٹ Kazuyo Sejimaکو اس ٹرین کے ڈیزائن کے لیے منتخب کیا گیا جو اپنے پرانے منصوبوں میں صاف، روشن سطح کو استعمال کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں جن میں گلاس، ماربل یا میٹل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آرکیٹیکٹ کے مطابق ٹوکیو سے Chichibu کے پہاڑوں تک کے سفر کے دوران میں نے سوچا کہ زیادہ اچھا یہ رہے گا کہ ٹرین یہاں کے متنوع مناظر میں مدغم ہوجائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس نئی ٹرین ریڈر ایرو کا بیرونی حصہ نیم شفاف اور شیشوں پر مشتمل سطح پر مبنی ہے اور آرکیٹکٹ کا دعویٰ ہے کہ ایسی ٹرین لوگوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، جس کے دوران مسافر خود کو بہت زیادہ پرسکون محسوس کریں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ابھی ڈیزائن تک محدود اس ٹرین کو ہٹاچی لمیٹڈ تیار کرے گی اور یہی کمپنی اس سے پہلے جاپان کی 200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی ٹرینیں بھی تیار کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--daily-motion  '&gt;&lt;iframe src='https://www.dailymotion.com/embed/video/x43n6fk' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				&lt;/figure&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ&lt;/a&gt; ڈاؤن لوڈ کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جاپان کی ایک ریلوے کمپنی 2018 میں اپنے قیام کی 100 ویں سالگرہ ایک نئی قسم کی تیز رفتار ٹرینوں کو متعارف کرکے منانا چاہتی ہے جو &#39; پس منظر میں گم ہوجاتی ہے&#39;۔</p><p>جاپانی کمپنی سیبو ریلوے ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے، سیاحت اور جائیدادوں کا کاروبار کرتی ہے۔</p><p>اب وہ ایسی ٹرینیں متعارف کرانے والی ہے جو گرگٹ کی طرح کسی بھی ماحول کا حصہ بن جاتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ نظروں سے اوجھل نظر آتی ہیں۔</p><p>معروف جاپانی آرکیٹیکٹ Kazuyo Sejimaکو اس ٹرین کے ڈیزائن کے لیے منتخب کیا گیا جو اپنے پرانے منصوبوں میں صاف، روشن سطح کو استعمال کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں جن میں گلاس، ماربل یا میٹل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔</p><p>آرکیٹیکٹ کے مطابق ٹوکیو سے Chichibu کے پہاڑوں تک کے سفر کے دوران میں نے سوچا کہ زیادہ اچھا یہ رہے گا کہ ٹرین یہاں کے متنوع مناظر میں مدغم ہوجائے۔</p><p>اس نئی ٹرین ریڈر ایرو کا بیرونی حصہ نیم شفاف اور شیشوں پر مشتمل سطح پر مبنی ہے اور آرکیٹکٹ کا دعویٰ ہے کہ ایسی ٹرین لوگوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، جس کے دوران مسافر خود کو بہت زیادہ پرسکون محسوس کریں گے۔</p><p>ابھی ڈیزائن تک محدود اس ٹرین کو ہٹاچی لمیٹڈ تیار کرے گی اور یہی کمپنی اس سے پہلے جاپان کی 200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی ٹرینیں بھی تیار کرچکی ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--daily-motion  '><iframe src='https://www.dailymotion.com/embed/video/x43n6fk' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				</figure>
<hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ</a> ڈاؤن لوڈ کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1035921</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Apr 2016 18:45:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/04/570baa5a2747f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/04/570baa5a2747f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
