<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:54:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:54:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب: رواں سال کی 85ویں سزائے موت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1036280/</link>
      <description>&lt;p&gt;ریاض: سعودی عرب میں قتل کے ایک مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد سے رواں سال میں اب تک ملک میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حسین المغافی پر الزام تھا کہ اس نے جھگڑے کے دوران چاقو کے شدید وار سے اپنے ایک ہم وطن کو ہلاک کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سعودی وزارت داخلہ کے جاری بیان میں کہا کہ مجرم کی سزا موت پر شہر مکہ میں عمل درآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے مجرموں کے سر قلم کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ سعودی عرب میں رواں سال 2 جنوری کو 47 افراد کی سزائے موت دی گئی جن کے بارے میں سعودی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال سعودی عرب دنیا میں سزائے موت دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پرتھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایمنسٹی کے اعداد شمار کے مطابق گذشتہ سال پاکستان نے 326 افراد کو سزائے موت دی جبکہ ایران سزائے موت دینے والے ممالک میں پہلے نمبر پر تھا، جس نے 977 افراد کو سزائے موت دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکی صدر باراک اوباما کے سعودی عرب کے سرکاری دورے پر آمد سے کچھ گھنٹوں قبل ہی حیسن المغافی کی سزائے موت پر عمل درآمد کروایا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس موقع پر برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم نے باراک اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ ان تین افراد کی سزائے موت پر بات کریں جو گرفتاری کے وقت بالغ نہیں تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان میں شیعہ مذہبی رہنما نمر النمر کا بھتیجا بھی شامل ہے جن کا سر 2 جنوری کو سزائے موت دیئے جانے والے 47 دہشت گردوں کے ساتھ قلم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv"&gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ریاض: سعودی عرب میں قتل کے ایک مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد سے رواں سال میں اب تک ملک میں سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔</p><p>خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حسین المغافی پر الزام تھا کہ اس نے جھگڑے کے دوران چاقو کے شدید وار سے اپنے ایک ہم وطن کو ہلاک کردیا تھا۔</p><p>سعودی وزارت داخلہ کے جاری بیان میں کہا کہ مجرم کی سزا موت پر شہر مکہ میں عمل درآمد کیا گیا۔</p><p>خیال رہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے مجرموں کے سر قلم کیے جاتے ہیں۔</p><p>واضح رہے کہ سعودی عرب میں رواں سال 2 جنوری کو 47 افراد کی سزائے موت دی گئی جن کے بارے میں سعودی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔</p><p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال سعودی عرب دنیا میں سزائے موت دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پرتھا۔</p><p>ایمنسٹی کے اعداد شمار کے مطابق گذشتہ سال پاکستان نے 326 افراد کو سزائے موت دی جبکہ ایران سزائے موت دینے والے ممالک میں پہلے نمبر پر تھا، جس نے 977 افراد کو سزائے موت دی تھی۔</p><p>یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکی صدر باراک اوباما کے سعودی عرب کے سرکاری دورے پر آمد سے کچھ گھنٹوں قبل ہی حیسن المغافی کی سزائے موت پر عمل درآمد کروایا۔</p><p>اس موقع پر برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم نے باراک اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ ان تین افراد کی سزائے موت پر بات کریں جو گرفتاری کے وقت بالغ نہیں تھے۔</p><p>ان میں شیعہ مذہبی رہنما نمر النمر کا بھتیجا بھی شامل ہے جن کا سر 2 جنوری کو سزائے موت دیئے جانے والے 47 دہشت گردوں کے ساتھ قلم کیا گیا تھا۔</p><hr>
<p><strong>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href="https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv">ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1036280</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Apr 2016 23:19:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/04/5717c65dc5d54.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="180" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/04/5717c65dc5d54.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
