<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:18:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:18:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہندوستان کا سپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1037256/</link>
      <description>&lt;p&gt;بالاسور: ہندوستان نے ریاست اڑیسہ کے ساحلی علاقے میں، بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مقامی طور پر تیار کیے گئے سپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈیفنس ریسرچ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) ذرائع کا کہنا ہے تجربے کے دوران سپرسونک میزائل نے کامیابی سے فضا میں ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ میزائل کا تجربہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 15 منٹ پر کیا گیا، جس دوران سپر سونک میزائل کو عبد الکلام جزیرے پر پوزیشن کیا گیا تھا اور اس نے ٹریکنگ ریڈار سے سگنل ملتے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1037243' &gt;’ہندوستان کی جوابی حملے کی صلاحیت سے پاکستان پر دباؤ‘&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;ڈی آر ڈی او کے ایک سائنسدان نے کہا کہ میزائل کے تباہ کن ہونے کے اثر کو مختلف ٹریکنگ ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد یقینی بنایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈی آر ڈی او کے ذرائع نے مزید کہا کہ ساڑھے 7 میٹر لمبا سپر سونک میزائل نیوی گیشن سسٹم، جدید کمپیوٹر اور الیکٹرو مکینکل ایکٹیویٹر سے لیس ہے، جبکہ اس کا اپنا موبائل لانچر بھی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے لیے میزائل کے ساتھ محفوظ ڈیٹا لنک، آزاد ٹریکنگ اور جدید ترین ریڈار کی صلاحیت بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 16 مئی 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/1LHHvurKATw?enablejsapi=1' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے &lt;a href='https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv' &gt;ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ&lt;/a&gt; کریں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بالاسور: ہندوستان نے ریاست اڑیسہ کے ساحلی علاقے میں، بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مقامی طور پر تیار کیے گئے سپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا۔</p><p>ڈیفنس ریسرچ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) ذرائع کا کہنا ہے تجربے کے دوران سپرسونک میزائل نے کامیابی سے فضا میں ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔</p><p>ذرائع کا کہنا تھا کہ میزائل کا تجربہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 15 منٹ پر کیا گیا، جس دوران سپر سونک میزائل کو عبد الکلام جزیرے پر پوزیشن کیا گیا تھا اور اس نے ٹریکنگ ریڈار سے سگنل ملتے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1037243' >’ہندوستان کی جوابی حملے کی صلاحیت سے پاکستان پر دباؤ‘</a></h6>
<p>ڈی آر ڈی او کے ایک سائنسدان نے کہا کہ میزائل کے تباہ کن ہونے کے اثر کو مختلف ٹریکنگ ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد یقینی بنایا گیا۔</p><p>ڈی آر ڈی او کے ذرائع نے مزید کہا کہ ساڑھے 7 میٹر لمبا سپر سونک میزائل نیوی گیشن سسٹم، جدید کمپیوٹر اور الیکٹرو مکینکل ایکٹیویٹر سے لیس ہے، جبکہ اس کا اپنا موبائل لانچر بھی ہے۔</p><p>ذرائع کا کہنا تھا کہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے لیے میزائل کے ساتھ محفوظ ڈیٹا لنک، آزاد ٹریکنگ اور جدید ترین ریڈار کی صلاحیت بھی موجود ہے۔</p><p><strong><em>یہ خبر 16 مئی 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</em></strong></p><figure class='media  issue1144 w-full   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/1LHHvurKATw?enablejsapi=1' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><hr>
<p>آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے <a href='https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pepperpk.dawntv' >ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ</a> کریں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1037256</guid>
      <pubDate>Mon, 16 May 2016 13:59:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/05/57394bea188c7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/05/57394bea188c7.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
