<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 21:15:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 21:15:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھوٹان: قدرتی حسن اور خوشیوں کا دیس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1037966/03june2016-bhutan-qudrati-husn-aur-khushiyon-ka-dais-waqar-mustafa-aa-bm</link>
      <description>&lt;h1&gt;بھوٹان: قدرتی حسن اور خوشیوں کا دیس&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/authors/2118/waqar-mustafa' &gt;وقار مصطفیٰ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایئر پورٹ پر تلاشی کے دوران کچھ مسافروں کے سامان سے وہ کچھ بھی نکلا جسے ہم ساری عمر ممنوعہ گردانتے رہے مگر کسٹم اہل کار معترض نہیں ہوا۔ اب ایک یورپی مسافر کی باری تھی، اہل کار نے پوچھا کہ کیا اس کے پاس سگریٹ ہیں تو جواب ملا ہاں تین چار ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;چند ہی لمحوں بعد دیکھا تو وہ مسافر سگریٹ کی تعداد کے مطابق کسٹم ڈیوٹی ادا کررہا تھا۔ اہل کار نے ایک دستخط شدہ کاغذ اس مسافر کو تھماتے ہوئے کہا یہ ان سگریٹوں کو پینے کا اجازت نامہ ہے اور مسکراتے ہوئے &amp;#39;تاشی دیلیک&amp;#39; کہہ کر بھوٹان میں خوش گوار قیام کی دعا دی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114b1616dc.jpg'  alt='شہر پارو، بھوٹان &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					شہر پارو، بھوٹان &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114ab5736f.jpg'  alt='پارو شہر کا ایک خوبصورت نظارہ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					پارو شہر کا ایک خوبصورت نظارہ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہندوستان، نیپال اور چین میں گِھرا بھوٹان ایسی ہے حیرتوں کا جہاں ہے۔ 38 ہزار 3 سو 64 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اس ملک میں ساڑھے 7 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بھوٹان کا دارالحکومت تھمپو ہے، زونکھا سب سے بڑی زبان ہے، بدھ مت بڑا مذہب ہے۔ یہاں ہندو بھی خاصی تعداد میں ہیں۔ یہاں کرنسی نگلترم ہے مگر ہندوستانی کرنسی بھی اسی آسانی سے چل جاتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ شاید تمام ملکوں کے بعد  1999 میں جا کر حاصل ہوا، مگر اب تو لڑکے بالے سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا استعمال خوب خوب کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ٹریفک سگنل موجود نہیں ہیں، بلکہ سپاہی ہی ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/57511a89efaa9.jpg'  alt='تھمپو میں واقع تاشیچو دانگ بدھ خانقاہ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					تھمپو میں واقع تاشیچو دانگ بدھ خانقاہ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114ab107a1.jpg'  alt='تھمپو کی مرکزی سڑک اور مارکیٹ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					تھمپو کی مرکزی سڑک اور مارکیٹ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;70 کی دہائی کے وسط تک اس خطے نے خود کو دنیا سے چھپائے رکھا تاکہ بیرونی دنیا اس کی تہذیب کو متاثر نہ کرے۔ پردہ ہٹایا بھی تو ایسے کہ  سیاحوں کو سفر کی منصوبہ بندی اور سفری اخراجات کی ادائیگی پہلے سے ہی کرنا پڑتی ہے۔ 200 سے 250 ڈالر داخلہ فیس الگ سے ہوتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جنوبی ایشیا کے مسافر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ماحول خراب کرنے کے لیے ہر ایرا غیرا نہ آتا پھرے۔ یوں جیب کے حساب سے تو شمار ہمارا بھی اسی قبیل سے ہے، مگر بھلا ہو ایک جنوبی ایشیائی کانفرنس کا، جس میں شرکت اور خطاب کی دعوت سے بھوٹان دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114bb3f395.jpg'  alt='بھوٹان کی روایتی طرز تعمیر کا ایک نمونہ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					بھوٹان کی روایتی طرز تعمیر کا ایک نمونہ &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114a6a13dd.jpg'  alt='پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستانی یا تو نیپال کے شہر کھٹمنڈو سے وہاں جا سکتے ہیں یا ہندوستان کے شہر نئی دلی سے۔ نئی دلی سے ہفتے میں چار فلائٹس بھوٹان کے واحد عالمی ہوائی اڈے پارو لینڈ کرتی ہیں، اور ظاہر ہے کہ واپس بھی آتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پارو تک کے دو گھنٹے بیس منٹ کے سفر میں کچھ دیر تک ہمالیہ بھی دنیا کا تیسرے بلند ترین پہاڑ کنچن جنگا کی شکل میں ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ 28 ہزار 169 فٹ بلند اس  پہاڑ کا کچھ حصہ نیپال اور کچھ ہندوستانی علاقے سکم میں ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جہاز ہی کے کچھ مسافروں سے معلوم ہوا کہ پانچ چوٹیوں کے حامل اس پہاڑ کی ہندوستانی علاقوں سکم اور دارجیلنگ میں پوجا بھی کی جاتی ہے۔ جہاز کے بائیں جانب بیٹھے مسافروں کے لیے کیا خوب منظر ہے، سو ہم بھی دور دور سے یہ سوچ کر دیکھتے رہے کہ واپسی میں شاید ہماری باری آئے گی۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114a932222.jpg'  alt='جہاز کی کھڑکی سے کنچن جنگا کا ایک منظر &amp;mdash; فوٹو وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					جہاز کی کھڑکی سے کنچن جنگا کا ایک منظر &amp;mdash; فوٹو وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/57511b4fea792.jpg'  alt='بھوٹان میں ہر جگہ فرحت بخش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					بھوٹان میں ہر جگہ فرحت بخش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پارو کے ہوائی اڈے پر دو کلومیٹر لمبے رن وے پر اترنے سے تھوڑا پہلے جہاز سے منظر ویسا ہی لگتا ہے جیسا اپنے سکردو کی جانب جاتے ہوئے، پہاڑوں کی نوکیلی، برفیلی چوٹیاں کمزور دلوں کو دہلاتی ہیں اور پائلٹ کی مہارت کا امتحان لیتی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پارو کے ہوائی اڈے پر چھپتی نکلتی دھوپ میں بھیگی سی، سوندھی سی ہوا جسم و جاں کو معطر کیے دیتی تھی۔ جی چاہتا تھا آنکھیں بند ہوں اورسانس ہی چل رہی ہو مگر آنکھوں کا تقاضا تھا کہ ہر طرف پھیلے قدرت کے نظارے سمیٹوں۔ سو گاڑیوں میں بیٹھ کر ہوٹل جانے تک کبھی جی کا کہا مانا کبھی آنکھوں کا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;یوں تو کانفرنس بھی ماحول ہی کے موضوع پر تھی مگر ہم تو اس کے بچاؤ کا عملی نمونہ دیکھ رہے تھے۔ تمباکو نوشی پر سخت پابندیاں ہیں، جو ایئرپورٹ کے واقعے سے ظاہر ہے۔ پلاسٹک بیگز تقریباً دو دہائی پہلے سے غیر قانونی ہیں اور آئین کے تحت 60 فی صد رقبے کو درختوں سے آباد رہنا ہی ہے۔ وہ 250 ڈالر کی قدغن بھی ماحول پر لوگوں کے اثرات کم سے کم رکھنے کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مجموعی قومی پیداوار میں تو غریب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے مگر مجموعی قومی خوشی میں امیر ہے یہ بھوٹان۔ یہ پیمانہ بھوٹان ہی سے مخصوص ہے جو حکومت کے مطابق مادی اور روحانی صحت کے توازن کا مظہر ہے۔ لوگ عام طور پر تھوڑے کو بہت جان کر مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک صاحب کا کہنا تھا کہ بھوٹان میں لوگ دن میں پانچ بار موت کو یاد کرتے ہیں مگر اس عمل میں مایوسی یا دکھ نہیں ہوتا، بلکہ موجودہ لمحے کو بھرپور طور پر جینے کا عزم شامل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114b161688.jpg'  alt='دعائیہ پہیے جسے لوگ دعا مانگ کر گھماتے ہیں &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					دعائیہ پہیے جسے لوگ دعا مانگ کر گھماتے ہیں &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ذرا وقت نکلا تو 1968 میں بنا قومی عجائب گھر دیکھ لیا۔ عجائب گھر تو جیسے ہوتے ہیں، ویسا ہی تھا، اردگرد کا منظر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں خوش کن لگا۔ شہر تھا، عمارتیں تھیں، مگر کنکریٹ کا جنگل نہ تھا، درخت اپنی پوری چھب کے ساتھ موجود تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;108 اسٹوپاز پر مشتمل دوچولاپاس بھی خاصے کی جگہ ہے۔ ان اسٹوپاز پر بدھ تعلیمات لکھی ہوئی ہیں۔ یہاں سے ہر سمت کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھوٹانی افواج کی 2003 میں کسی فتح کی خوشی میں تعمیر کیا گیا تھا، مگر یہ ایک امن کی علامت ہے۔ ایسی خاموشی ہے یہاں کہ ہونٹ خاموش ہوں تب بھی آنکھیں بولتی رہیں۔ صاف دن تھا اور ایسے میں ہمالیہ بھی خوب خوب دکھائی دیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114ab0777b.jpg'  alt='قومی عجائب گھر &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					قومی عجائب گھر &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114bc83972.jpg'  alt='دوچولا پاس کا مقام  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					دوچولا پاس کا مقام  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بھوٹان پن بجلی ہندوستان کو بیچتا ہے، لکڑی، سیمنٹ، سیاحت، زرعی اشیا اور دستکاری بھوٹان کی بڑی برآمدات میں شامل ہیں۔ فوج ہے، مگر بحریہ اور ٖفضائیہ نہیں۔ یہاں موروثی بادشاہت رہی ہے۔ 2006 میں موجودہ بادشاہ جگمے کھیسر نامگائل وانگ چک نے  اقتدار سنبھالنے کے بعد 2008 میں پہلے اور 2013 میں دوسرے انتخابات کروائے۔ بادشاہ نے 2011 میں جیتسن پیما سے شادی کی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ جوڑا کافی مقبولیت کا حامل ہے۔ اس سال کے اوائل میں پہلے بچے کی پیدائش کی خوشی بھوٹان کے لوگوں نے 1 لاکھ 8 ہزار نئے پودے لگا کر منائی۔ وہ درختوں کو لمبی عمر، خوب صورتی اور شفقت کی علامت سمجھتے ہیں۔ پچھلے سال یہاں ایک گھنٹے میں 50 ہزار درخت لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114abf2ec6.jpg'  alt='دست کاری بھوٹان کی بڑی برآمدات میں سے ایک ہے &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					دست کاری بھوٹان کی بڑی برآمدات میں سے ایک ہے &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;درختوں ہی کے جلو میں ہم نے تاکسنگ جانے کی ٹھانی۔ پارو سطح سمندر سے کوئی 7 ہزار فٹ اوپر ہے۔  پہاڑوں کے فاصلے بھی عجب ہوتے ہیں۔ چلے تو ایک چٹان پر واقع ایستادہ بدھ خانقاہ جس کے بارے میں بتایا گیا کہ 3 ہزار فٹ اور اوپر ہے، کچھ ہی دور لگی، مگرعمودی چڑھائی کافی مشکل ثابت ہوئی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہی سمجھ میں آیا کہ اگر صبح جلد روانہ ہوا جائے تو آپ کو تیز چلنے کی ضرورت نہیں پڑتی، شام سے پہلے پہنچنے پر آپ رکتے، مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور تصاویر بناتے واپس جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;راستے میں کوڑے کے ڈبے نظرآئے جنہیں اسکول کالج کے رضا کار صاف کرتے ہیں۔ یوں راستہ بھی صاف تھا، منزل بھی۔ یہاں تو بادل بھی آپ کی دسترس میں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575119fb51a15.jpg'  alt='سامنے دکھائی دینے والی تاکسنگ خانقاہ تک پہنچنے میں 20 منٹ اور لگ گئے تھے  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					سامنے دکھائی دینے والی تاکسنگ خانقاہ تک پہنچنے میں 20 منٹ اور لگ گئے تھے  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/57511996cd01d.jpg'  alt='تاکسنگ خانقاہ  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					تاکسنگ خانقاہ  &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاکسنگ وہ خانقاہ ہے جو شیر کی آماجگاہ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ روایت ہے کہ گُرو رِن پوشے اڑتی شیرنی پر براجمان یہاں تیرہ سو سال پہلے ظہور پذیر ہوئے، اور بھوٹان کے لوگوں کو بدھ مت کی تعلیم دی۔ یہ خانقاہ کئی بار تعمیر ہوچکی ہے۔ 1998 میں آگ سے تباہ ہونے کے بعد 2005 میں اسے پھر سے تعمیر کیا گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس خانقاہ سے تھوڑا پہلے دو سو فٹ کی بلندی سے گرتی آبشار خوب بھلی لگتی ہے۔ خانقاہ کے اندر مکھن کے دیے جلتے ہیں۔ یہاں کیمرہ ممنوع ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114bac0734.jpg'  alt='تاکسنگ خانقاہ سے تھوڑا پہلے دو سو فٹ کی بلندی سے گرتی آبشار &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					تاکسنگ خانقاہ سے تھوڑا پہلے دو سو فٹ کی بلندی سے گرتی آبشار &amp;mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بھوٹان میں پرندے اور جنگلی جانور بہت ہیں۔ ان کے لیے ماحول کو سازگار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تا کہ وہ کہیں اور ہجرت نہ کر جائیں۔ بے ڈھنگی و خستہ حال عمارتیں گرا دی جاتی ہیں، بجلی کے تار چھپا دیے جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;گُرو رِن پوشے کی تعلیمات میں فطرت کی طاقت اور قدر و قیمت پر یقین نمایاں ہے۔ شاید اسی پر عمل کرتے ہوئے بھوٹان فطرت کی حفاظت کا راستہ اپنائے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/urdu/users/2118.jpg?160603105603'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
وقار مصطفیٰ صحافت کا 26 سالہ تجربہ رکھتے ہیں، اور یونیسیف اور رائٹرز کے علاوہ کئی ملکی و بین الاقوامی صحافتی اداروں میں کام کر چکے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>بھوٹان: قدرتی حسن اور خوشیوں کا دیس</h1>
<p><a href='http://www.dawnnews.tv/authors/2118/waqar-mustafa' >وقار مصطفیٰ</a></p><p>ایئر پورٹ پر تلاشی کے دوران کچھ مسافروں کے سامان سے وہ کچھ بھی نکلا جسے ہم ساری عمر ممنوعہ گردانتے رہے مگر کسٹم اہل کار معترض نہیں ہوا۔ اب ایک یورپی مسافر کی باری تھی، اہل کار نے پوچھا کہ کیا اس کے پاس سگریٹ ہیں تو جواب ملا ہاں تین چار ہیں۔ </p><p>چند ہی لمحوں بعد دیکھا تو وہ مسافر سگریٹ کی تعداد کے مطابق کسٹم ڈیوٹی ادا کررہا تھا۔ اہل کار نے ایک دستخط شدہ کاغذ اس مسافر کو تھماتے ہوئے کہا یہ ان سگریٹوں کو پینے کا اجازت نامہ ہے اور مسکراتے ہوئے &#39;تاشی دیلیک&#39; کہہ کر بھوٹان میں خوش گوار قیام کی دعا دی۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114b1616dc.jpg'  alt='شہر پارو، بھوٹان &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					شہر پارو، بھوٹان &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114ab5736f.jpg'  alt='پارو شہر کا ایک خوبصورت نظارہ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					پارو شہر کا ایک خوبصورت نظارہ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>ہندوستان، نیپال اور چین میں گِھرا بھوٹان ایسی ہے حیرتوں کا جہاں ہے۔ 38 ہزار 3 سو 64 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اس ملک میں ساڑھے 7 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔</p><p>بھوٹان کا دارالحکومت تھمپو ہے، زونکھا سب سے بڑی زبان ہے، بدھ مت بڑا مذہب ہے۔ یہاں ہندو بھی خاصی تعداد میں ہیں۔ یہاں کرنسی نگلترم ہے مگر ہندوستانی کرنسی بھی اسی آسانی سے چل جاتی ہے۔</p><p> ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ شاید تمام ملکوں کے بعد  1999 میں جا کر حاصل ہوا، مگر اب تو لڑکے بالے سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا استعمال خوب خوب کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ٹریفک سگنل موجود نہیں ہیں، بلکہ سپاہی ہی ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/57511a89efaa9.jpg'  alt='تھمپو میں واقع تاشیچو دانگ بدھ خانقاہ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					تھمپو میں واقع تاشیچو دانگ بدھ خانقاہ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114ab107a1.jpg'  alt='تھمپو کی مرکزی سڑک اور مارکیٹ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					تھمپو کی مرکزی سڑک اور مارکیٹ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>70 کی دہائی کے وسط تک اس خطے نے خود کو دنیا سے چھپائے رکھا تاکہ بیرونی دنیا اس کی تہذیب کو متاثر نہ کرے۔ پردہ ہٹایا بھی تو ایسے کہ  سیاحوں کو سفر کی منصوبہ بندی اور سفری اخراجات کی ادائیگی پہلے سے ہی کرنا پڑتی ہے۔ 200 سے 250 ڈالر داخلہ فیس الگ سے ہوتی ہے۔ </p><p>جنوبی ایشیا کے مسافر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ماحول خراب کرنے کے لیے ہر ایرا غیرا نہ آتا پھرے۔ یوں جیب کے حساب سے تو شمار ہمارا بھی اسی قبیل سے ہے، مگر بھلا ہو ایک جنوبی ایشیائی کانفرنس کا، جس میں شرکت اور خطاب کی دعوت سے بھوٹان دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114bb3f395.jpg'  alt='بھوٹان کی روایتی طرز تعمیر کا ایک نمونہ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					بھوٹان کی روایتی طرز تعمیر کا ایک نمونہ &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114a6a13dd.jpg'  alt='پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>پاکستانی یا تو نیپال کے شہر کھٹمنڈو سے وہاں جا سکتے ہیں یا ہندوستان کے شہر نئی دلی سے۔ نئی دلی سے ہفتے میں چار فلائٹس بھوٹان کے واحد عالمی ہوائی اڈے پارو لینڈ کرتی ہیں، اور ظاہر ہے کہ واپس بھی آتی ہیں۔</p><p>پارو تک کے دو گھنٹے بیس منٹ کے سفر میں کچھ دیر تک ہمالیہ بھی دنیا کا تیسرے بلند ترین پہاڑ کنچن جنگا کی شکل میں ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ 28 ہزار 169 فٹ بلند اس  پہاڑ کا کچھ حصہ نیپال اور کچھ ہندوستانی علاقے سکم میں ہے۔ </p><p>جہاز ہی کے کچھ مسافروں سے معلوم ہوا کہ پانچ چوٹیوں کے حامل اس پہاڑ کی ہندوستانی علاقوں سکم اور دارجیلنگ میں پوجا بھی کی جاتی ہے۔ جہاز کے بائیں جانب بیٹھے مسافروں کے لیے کیا خوب منظر ہے، سو ہم بھی دور دور سے یہ سوچ کر دیکھتے رہے کہ واپسی میں شاید ہماری باری آئے گی۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114a932222.jpg'  alt='جہاز کی کھڑکی سے کنچن جنگا کا ایک منظر &mdash; فوٹو وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					جہاز کی کھڑکی سے کنچن جنگا کا ایک منظر &mdash; فوٹو وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/57511b4fea792.jpg'  alt='بھوٹان میں ہر جگہ فرحت بخش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					بھوٹان میں ہر جگہ فرحت بخش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>پارو کے ہوائی اڈے پر دو کلومیٹر لمبے رن وے پر اترنے سے تھوڑا پہلے جہاز سے منظر ویسا ہی لگتا ہے جیسا اپنے سکردو کی جانب جاتے ہوئے، پہاڑوں کی نوکیلی، برفیلی چوٹیاں کمزور دلوں کو دہلاتی ہیں اور پائلٹ کی مہارت کا امتحان لیتی ہیں۔ </p><p>پارو کے ہوائی اڈے پر چھپتی نکلتی دھوپ میں بھیگی سی، سوندھی سی ہوا جسم و جاں کو معطر کیے دیتی تھی۔ جی چاہتا تھا آنکھیں بند ہوں اورسانس ہی چل رہی ہو مگر آنکھوں کا تقاضا تھا کہ ہر طرف پھیلے قدرت کے نظارے سمیٹوں۔ سو گاڑیوں میں بیٹھ کر ہوٹل جانے تک کبھی جی کا کہا مانا کبھی آنکھوں کا۔ </p><p>یوں تو کانفرنس بھی ماحول ہی کے موضوع پر تھی مگر ہم تو اس کے بچاؤ کا عملی نمونہ دیکھ رہے تھے۔ تمباکو نوشی پر سخت پابندیاں ہیں، جو ایئرپورٹ کے واقعے سے ظاہر ہے۔ پلاسٹک بیگز تقریباً دو دہائی پہلے سے غیر قانونی ہیں اور آئین کے تحت 60 فی صد رقبے کو درختوں سے آباد رہنا ہی ہے۔ وہ 250 ڈالر کی قدغن بھی ماحول پر لوگوں کے اثرات کم سے کم رکھنے کے لیے ہے۔</p><p>مجموعی قومی پیداوار میں تو غریب ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے مگر مجموعی قومی خوشی میں امیر ہے یہ بھوٹان۔ یہ پیمانہ بھوٹان ہی سے مخصوص ہے جو حکومت کے مطابق مادی اور روحانی صحت کے توازن کا مظہر ہے۔ لوگ عام طور پر تھوڑے کو بہت جان کر مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ </p><p>ایک صاحب کا کہنا تھا کہ بھوٹان میں لوگ دن میں پانچ بار موت کو یاد کرتے ہیں مگر اس عمل میں مایوسی یا دکھ نہیں ہوتا، بلکہ موجودہ لمحے کو بھرپور طور پر جینے کا عزم شامل ہوتا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114b161688.jpg'  alt='دعائیہ پہیے جسے لوگ دعا مانگ کر گھماتے ہیں &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					دعائیہ پہیے جسے لوگ دعا مانگ کر گھماتے ہیں &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>ذرا وقت نکلا تو 1968 میں بنا قومی عجائب گھر دیکھ لیا۔ عجائب گھر تو جیسے ہوتے ہیں، ویسا ہی تھا، اردگرد کا منظر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں خوش کن لگا۔ شہر تھا، عمارتیں تھیں، مگر کنکریٹ کا جنگل نہ تھا، درخت اپنی پوری چھب کے ساتھ موجود تھے۔</p><p>108 اسٹوپاز پر مشتمل دوچولاپاس بھی خاصے کی جگہ ہے۔ ان اسٹوپاز پر بدھ تعلیمات لکھی ہوئی ہیں۔ یہاں سے ہر سمت کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھوٹانی افواج کی 2003 میں کسی فتح کی خوشی میں تعمیر کیا گیا تھا، مگر یہ ایک امن کی علامت ہے۔ ایسی خاموشی ہے یہاں کہ ہونٹ خاموش ہوں تب بھی آنکھیں بولتی رہیں۔ صاف دن تھا اور ایسے میں ہمالیہ بھی خوب خوب دکھائی دیا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114ab0777b.jpg'  alt='قومی عجائب گھر &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					قومی عجائب گھر &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114bc83972.jpg'  alt='دوچولا پاس کا مقام  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					دوچولا پاس کا مقام  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>بھوٹان پن بجلی ہندوستان کو بیچتا ہے، لکڑی، سیمنٹ، سیاحت، زرعی اشیا اور دستکاری بھوٹان کی بڑی برآمدات میں شامل ہیں۔ فوج ہے، مگر بحریہ اور ٖفضائیہ نہیں۔ یہاں موروثی بادشاہت رہی ہے۔ 2006 میں موجودہ بادشاہ جگمے کھیسر نامگائل وانگ چک نے  اقتدار سنبھالنے کے بعد 2008 میں پہلے اور 2013 میں دوسرے انتخابات کروائے۔ بادشاہ نے 2011 میں جیتسن پیما سے شادی کی۔ </p><p>یہ جوڑا کافی مقبولیت کا حامل ہے۔ اس سال کے اوائل میں پہلے بچے کی پیدائش کی خوشی بھوٹان کے لوگوں نے 1 لاکھ 8 ہزار نئے پودے لگا کر منائی۔ وہ درختوں کو لمبی عمر، خوب صورتی اور شفقت کی علامت سمجھتے ہیں۔ پچھلے سال یہاں ایک گھنٹے میں 50 ہزار درخت لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114abf2ec6.jpg'  alt='دست کاری بھوٹان کی بڑی برآمدات میں سے ایک ہے &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					دست کاری بھوٹان کی بڑی برآمدات میں سے ایک ہے &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>درختوں ہی کے جلو میں ہم نے تاکسنگ جانے کی ٹھانی۔ پارو سطح سمندر سے کوئی 7 ہزار فٹ اوپر ہے۔  پہاڑوں کے فاصلے بھی عجب ہوتے ہیں۔ چلے تو ایک چٹان پر واقع ایستادہ بدھ خانقاہ جس کے بارے میں بتایا گیا کہ 3 ہزار فٹ اور اوپر ہے، کچھ ہی دور لگی، مگرعمودی چڑھائی کافی مشکل ثابت ہوئی۔ </p><p>یہی سمجھ میں آیا کہ اگر صبح جلد روانہ ہوا جائے تو آپ کو تیز چلنے کی ضرورت نہیں پڑتی، شام سے پہلے پہنچنے پر آپ رکتے، مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور تصاویر بناتے واپس جا سکتے ہیں۔</p><p>راستے میں کوڑے کے ڈبے نظرآئے جنہیں اسکول کالج کے رضا کار صاف کرتے ہیں۔ یوں راستہ بھی صاف تھا، منزل بھی۔ یہاں تو بادل بھی آپ کی دسترس میں ہوتے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575119fb51a15.jpg'  alt='سامنے دکھائی دینے والی تاکسنگ خانقاہ تک پہنچنے میں 20 منٹ اور لگ گئے تھے  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					سامنے دکھائی دینے والی تاکسنگ خانقاہ تک پہنچنے میں 20 منٹ اور لگ گئے تھے  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/57511996cd01d.jpg'  alt='تاکسنگ خانقاہ  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					تاکسنگ خانقاہ  &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>تاکسنگ وہ خانقاہ ہے جو شیر کی آماجگاہ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ روایت ہے کہ گُرو رِن پوشے اڑتی شیرنی پر براجمان یہاں تیرہ سو سال پہلے ظہور پذیر ہوئے، اور بھوٹان کے لوگوں کو بدھ مت کی تعلیم دی۔ یہ خانقاہ کئی بار تعمیر ہوچکی ہے۔ 1998 میں آگ سے تباہ ہونے کے بعد 2005 میں اسے پھر سے تعمیر کیا گیا۔ </p><p>اس خانقاہ سے تھوڑا پہلے دو سو فٹ کی بلندی سے گرتی آبشار خوب بھلی لگتی ہے۔ خانقاہ کے اندر مکھن کے دیے جلتے ہیں۔ یہاں کیمرہ ممنوع ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/06/575114bac0734.jpg'  alt='تاکسنگ خانقاہ سے تھوڑا پہلے دو سو فٹ کی بلندی سے گرتی آبشار &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					تاکسنگ خانقاہ سے تھوڑا پہلے دو سو فٹ کی بلندی سے گرتی آبشار &mdash; تصویر وقار مصطفیٰ
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>بھوٹان میں پرندے اور جنگلی جانور بہت ہیں۔ ان کے لیے ماحول کو سازگار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تا کہ وہ کہیں اور ہجرت نہ کر جائیں۔ بے ڈھنگی و خستہ حال عمارتیں گرا دی جاتی ہیں، بجلی کے تار چھپا دیے جاتے ہیں۔ </p><p>گُرو رِن پوشے کی تعلیمات میں فطرت کی طاقت اور قدر و قیمت پر یقین نمایاں ہے۔ شاید اسی پر عمل کرتے ہوئے بھوٹان فطرت کی حفاظت کا راستہ اپنائے ہوئے ہے۔</p><hr>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/urdu/users/2118.jpg?160603105603'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			
وقار مصطفیٰ صحافت کا 26 سالہ تجربہ رکھتے ہیں، اور یونیسیف اور رائٹرز کے علاوہ کئی ملکی و بین الاقوامی صحافتی اداروں میں کام کر چکے ہیں۔ </p><hr>
<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1037966</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jun 2016 12:34:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وقار مصطفیٰ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/06/57512570bb438.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/06/57512570bb438.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
