<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 06:20:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 06:20:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بال پین کے ڈھکن پر سوراخ کیوں ہوتا ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1039464/</link>
      <description>&lt;p&gt;بال پین تو یقیناً سب نے ہی استعمال کیا ہوگا؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس پر لگے ہر ڈھکن کے اوپری حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیوں ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر نہیں تو جان لیں کہ وہ سوراخ آپ کی جان بچانے کے بھی کام آتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ہاں 1991 میں ایک فرانسیسی کمپنی نے اپنے بال پین کے ڈھکن میں یہ سوراخ ڈالنا شروع کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اُس وقت کمپنی کا کہنا تھا کہ سوراخ پین کے اندر کے دباﺅ کو مساوی حالت میں اس وقت برقرار رکھتا ہے جب آپ اس پر ڈھکن لگاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح یہ سوراخ پین سے سیاہی کو چھلکنے سے بھی روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اس سے ہٹ کر بھی یہ ننھے سوراخ بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور زندگیاں بچانے کا کام بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر کسی پین کا ڈھکن کسی وجہ سے منہ کے اندر جاکر گلے میں پھنس جائے تو یہ ننھا سوراخ آپ کی سانس کی آمد و رفت بحال رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، کم از کم کچھ وقت تک کے لیے، جب تک طبی امداد حاصل نہ ہوجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر گلے میں ڈھکن پھنسنے کے بعد جلد طبی امداد حاصل نہ کی جائے تو جسم کے اندر موجود مواد اس ننھے سوراخ کو بند کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر 6 سے 15 سال کے بچوں میں پین کے ڈھکن کو نگلنے کے حادثات پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صرف امریکا میں ہی 2000 سے 2010 کے دوران 10 ہزار کیسز سامنے آئے جن میں لوگوں نے پین کے ڈھکن کو نگل لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی کمپنی کے اس انقلابی ڈیزائن کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے اپنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/oByNtkEt9yo?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بال پین تو یقیناً سب نے ہی استعمال کیا ہوگا؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس پر لگے ہر ڈھکن کے اوپری حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیوں ہوتا ہے؟</p>

<p>اگر نہیں تو جان لیں کہ وہ سوراخ آپ کی جان بچانے کے بھی کام آتا ہے۔</p>

<p>جی ہاں 1991 میں ایک فرانسیسی کمپنی نے اپنے بال پین کے ڈھکن میں یہ سوراخ ڈالنا شروع کیے تھے۔</p>

<p>اُس وقت کمپنی کا کہنا تھا کہ سوراخ پین کے اندر کے دباﺅ کو مساوی حالت میں اس وقت برقرار رکھتا ہے جب آپ اس پر ڈھکن لگاتے ہیں۔</p>

<p>اسی طرح یہ سوراخ پین سے سیاہی کو چھلکنے سے بھی روکتے ہیں۔</p>

<p>مگر اس سے ہٹ کر بھی یہ ننھے سوراخ بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور زندگیاں بچانے کا کام بھی کرتے ہیں۔</p>

<p>اگر کسی پین کا ڈھکن کسی وجہ سے منہ کے اندر جاکر گلے میں پھنس جائے تو یہ ننھا سوراخ آپ کی سانس کی آمد و رفت بحال رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، کم از کم کچھ وقت تک کے لیے، جب تک طبی امداد حاصل نہ ہوجائے۔</p>

<p>اگر گلے میں ڈھکن پھنسنے کے بعد جلد طبی امداد حاصل نہ کی جائے تو جسم کے اندر موجود مواد اس ننھے سوراخ کو بند کردیتے ہیں۔</p>

<p>عام طور پر 6 سے 15 سال کے بچوں میں پین کے ڈھکن کو نگلنے کے حادثات پیش آتے ہیں۔</p>

<p>صرف امریکا میں ہی 2000 سے 2010 کے دوران 10 ہزار کیسز سامنے آئے جن میں لوگوں نے پین کے ڈھکن کو نگل لیا۔</p>

<p>فرانسیسی کمپنی کے اس انقلابی ڈیزائن کے بعد دیگر کمپنیوں نے بھی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے اپنایا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/oByNtkEt9yo?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1039464</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Aug 2019 23:11:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/06/5772aa62d1cfc.jpg?r=165943841" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/06/5772aa62d1cfc.jpg?r=1623462821"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
