<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 11:31:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 11:31:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھریسا مے برطانوی وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1040077/</link>
      <description>&lt;p&gt;لندن: برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ وہ رواں ہفتے بدھ کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے، جس کے بعد برطانیہ کی موجودہ وزیر داخلہ تھریسا مے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے ڈاؤنگ اسٹریٹ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ &amp;#39;میرے جانے کے بعد اسی شب ایک نیا وزیراعظم موجود ہوگا&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039148' &gt;برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انھوں نے مستعفی ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بدھ ہی کے روز مستعفی ہونے سے قبل وہ آخری مرتبہ پارلیمنٹ میں سوالات کی نشست میں شرکت اور ملکہ ایلزبتھ سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2016/07/5783cc819a954.jpg'  alt='موجودہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون.' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					موجودہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون.
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ایک ریفرنڈم میں برطانوی عوام کی جانب سے &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039206' &gt;یورپی یونین سے علیحدگی&lt;/a&gt; اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی بحران میں اضافہ ہوگیا ہے، جس نے کیمرون کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کی کنزرویٹو پارٹی کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی لیبر پارٹی کے جرمی کوربائن کو بھی ان کے عہدے کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تھریسا مے نے بھی کیمرون کی طرح برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کی تھی اور ریفرنڈم کے دوران انھوں نے زور دیا تھا کہ وہ ووٹ کا احترام کریں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1038967' &gt;سعیدہ وارثی برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حامی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ &amp;#39;یورپی یونین میں رہنے کیلئے اب کوئی وجہ باقی نہیں بچی، نہ ہی اس کیلئے کوئی بیک ڈور کوششیں کی جائیں گی اور نہ ہی کوئی دوسرا ریفرنڈم ہی ہوگا&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ مے نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے رواں سال کے اختتام تک مذاکرات کا آغاز چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لندن: برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ وہ رواں ہفتے بدھ کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے، جس کے بعد برطانیہ کی موجودہ وزیر داخلہ تھریسا مے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گی۔</p><p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے ڈاؤنگ اسٹریٹ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ &#39;میرے جانے کے بعد اسی شب ایک نیا وزیراعظم موجود ہوگا&#39;۔</p><p><strong>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039148' >برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم</a></strong></p><p>انھوں نے مستعفی ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بدھ ہی کے روز مستعفی ہونے سے قبل وہ آخری مرتبہ پارلیمنٹ میں سوالات کی نشست میں شرکت اور ملکہ ایلزبتھ سے بھی ملاقات کریں گے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/medium/2016/07/5783cc819a954.jpg'  alt='موجودہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون.' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					موجودہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون.
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p>خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ایک ریفرنڈم میں برطانوی عوام کی جانب سے <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039206' >یورپی یونین سے علیحدگی</a> اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی بحران میں اضافہ ہوگیا ہے، جس نے کیمرون کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔</p><p>ان کی کنزرویٹو پارٹی کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی لیبر پارٹی کے جرمی کوربائن کو بھی ان کے عہدے کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p><p>تھریسا مے نے بھی کیمرون کی طرح برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کی تھی اور ریفرنڈم کے دوران انھوں نے زور دیا تھا کہ وہ ووٹ کا احترام کریں گی۔</p><p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1038967' >سعیدہ وارثی برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کی حامی</a></strong></p><p>ان کا کہنا تھا کہ &#39;یورپی یونین میں رہنے کیلئے اب کوئی وجہ باقی نہیں بچی، نہ ہی اس کیلئے کوئی بیک ڈور کوششیں کی جائیں گی اور نہ ہی کوئی دوسرا ریفرنڈم ہی ہوگا&#39;۔</p><p>واضح رہے کہ مے نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے رواں سال کے اختتام تک مذاکرات کا آغاز چاہتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1040077</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Jul 2016 23:33:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/5783e624c025d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="180" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/5783e624c025d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
