<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 07:13:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 07:13:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>17سال سے کراچی کی بلیوں کی &amp;rsquo;میزبان&amp;lsquo; خاتون</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1040229/</link>
      <description>&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2FDawnNews%2Fvideos%2F1143104029097960%2F&amp;show_text=0&amp;width=560" width="800" height="480" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p&gt;کراچی: کوئی ایسا شخص جو پالتو جانور رکھنے کا شوقین نہیں اس کے لیے یہ کہانی خاصی انوکھی ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حال ہی میں، ہم نے ایک خاتون کے بلیوں سے لگاؤ اور درجن بھر بلیوں کو روزانہ کھانا کھلانے کی ویڈیو شیئر کی تھی۔ یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی اور سوشل میڈیا پر بلیوں کا راج ہوگیا، شاید لوگوں کو بلیاں کافی پسند ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میرے ایڈیٹر کو لگا کہ ان خاتون سے ملنا اور اُن سے اس حوالے پر بات کرنا اچھا خیال ہے۔ مجھے ایسا نہیں لگا تھا لیکن میں انکار نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ مجھے اس نوکری پر آئے کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بس پھر کیا تھا، ایک گرم دن میں 2 کیمرہ مین لے کر کراچی کے علاقے گلشن اقبال پہنچا، جہاں وہ خاتون رہائش پذیر ہیں۔ ہمارا مقصد یہی جاننا تھا کہ سڑک پر موجود بلیوں کو کھانا کھلانے میں خاص بات کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہم اس جگہ پر مغرب ہونے سے ایک گھنٹہ قبل ہی پہنچ گئے، وہاں کے چوکیدار نے ہمیں بتایا کہ وہ خاتون مغرب کے فوری بعد بلیوں کو کھانا کھلاتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس دوران ہم پارک میں گھومے پھرے، کچھ تصاویر لیں اور کوشش کی کہ ہمیں اردگرد اس حوالے سے کوئی انٹرویو دینے کے لیے مل جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس دوران ہم نے ان خاتون کے حوالے سے کچھ لڑکوں سے بات کی، وہ یہ بتاتے ہوئے بے حد خوش تھے کہ وہ کب سے اس خاتون کو سڑک پر بلیوں کو کھانا کھلاتے دیکھ رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب بھی وہ بلیوں کے نزدیک سے گزرتے ہیں تو کیسے یہ خاتون انہیں ڈانٹتی تھیں یا وہ ان سے یہ بھی پوچھنے پر خوفزدہ رہتے کہ آخر وہ اتنی ساری بلیوں کو کھانا کھلاتی ہی کیوں ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/57872cfbe125f.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;چوکیدار جسے ہم نے آخر کار بات کرنے پر راضی کرلیا تھا، کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کا تیسرا شخص ہے جو اس گھر میں نوکری کررہا ہے، پچھلے دو لوگوں نے بھی اسے بلیوں کی کہانی کے بارے میں بتایا تھا۔ اگر یہ شمار صحیح ہے تو یہ خاتون تقریباً 17 سال سے بلیوں کو کھانا کھلا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جب وہ خاتون اپنے گھر سے پانچ گوشت سے بھرے بیگ لے کر باہر آئیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ کوئی ایک روز بھی ایسا نہیں گزرا جب انہوں نے بلیوں کو کھانا مہیا نہ کیا ہو۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/578726d47e067.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بلیاں بھی سڑک کے پار جمع ہونا شروع ہوگئیں اور جب تک وہ خاتون وہاں پہنچیں تقریباً تین درجن بلیاں یہاں جمع ہوچکی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; مجھے ایک جگہ پر اتنی ساری بلیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر نہایت عجیب سا محسوس ہوا، لیکن وہ خاتون بالکل پریشان دکھائی نہیں دیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جن لوگوں کا ہم نے انٹرویو کیا تھا ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ یہ بلیاں ان خاتون کے بچوں جیسی ہیں۔ کسی نے کہا یہ انسانوں سے نفرت کرتی ہیں اور انہیں صرف بلیوں سے پیار ہے۔ سب کے پاس اپنی اپنی کہانیاں موجود تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/5787264dd7b25.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کی اپنی کہانی کچھ یوں تھی: کئی سال پہلے، انہیں اپنے گھر کے باہر ایک بھوکی بلی ملی اور ان سے یہ بات برداشت نہیں ہورہی تھی کہ ایک بلی بھوک کی وجہ سے مر جائے اس لیے انہوں نے اس بلی کو کھانا کھلایا اور تب سے اب تک یہی کررہی ہیں۔ اس کے بعد بلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، انہوں نے ایک کے ساتھ شروعات کی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں بلیوں کو کھانا کھلاتی رہی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ خاتون ایک دن بھی نہیں چھوڑتی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ افطار کرنے بھی نہیں جاتی یا اس وقت کسی بھی جگہ نہیں جاتی ہیں۔ وہ تو حج اور عمرہ کرنے بھی نہیں گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کی زندگی میں ایک بار ایسا وقت بھی آیا جب وہ بلیوں کو کھانا دینے نہیں جاسکی کیوں کہ ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور وہ چل پھر نہیں سکتی تھیں۔ لیکن اُس وقت بھی انہوں نے کسی اور کا انتظام کیا جو کہ ان کی غیر موجودگی میں بلیوں کو کھانا دے سکے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/578726d6720ff.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ کافی تھکی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ وہ اب جوان نہیں اور چھڑی کے سہارے چلتی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آخر انہیں اس کام کے لیے کس نے متاثر کیا۔ مجھے اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ صرف جانوروں سے ان کی محبت کا نتیجہ ہے۔ مجھے لگا کہ شاید یہ ان کی عادت یا زندگی کا مقصد ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مجھے ان سے کوئی جواب تو نہیں ملا، لیکن انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ کئی سالوں سے یہ کام کرنے کے بعد اب وہ کافی تھک چکی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل سے شروع کیا ہوا کام اب مزدوری بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے بلیوں کا خیال رکھنا شروع کردیں گے تو وہ اس کام کو ختم کردیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن کسی کے لیے بھی اتنی ساری بلیوں کو کھانا کھلانا عام بات نہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کے علاقے میں کوئی یہ کام کرنے کے لیے دلچسپی لے گا۔ یہ دیکھ کر ایسا بھی لگتا ہے کہ ان خاتون کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں۔ بہت سے لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اگرچہ کبھی کبھار وہ لوگوں سے اپنے بارے میں اچھی باتیں بھی سن لیتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں نہیں جانتا کہ یہ خاتون کتنے عرصے تک اس کام کو جاری رکھ سکتی ہیں، لیکن جس دن وہ رکیں تو ان کی گلی کے لوگ انہیں یقیناً یاد کریں گے۔ مجھے ان بلیوں کے بارے میں بھی نہیں معلوم۔ فیس بک پر کئی میمز (مزاحیہ تصاویر) کو دیکھ کر مجھے یہ تو معلوم ہوگیا کہ بلی بہت زیادہ وفادار جانور تو نہیں۔ لیکن میرے خیال سے سچی محبت یہی ہے کہ بغیر توقع رکھے کسی کے لیے کچھ کیا جائے۔ لیکن ایمانداری کی بات کی جائے تو میں چاہتا ہوں کہ یہ خاتون اب کچھ آرام کرلیں۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2FDawnNews%2Fvideos%2F1143104029097960%2F&show_text=0&width=560" width="800" height="480" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowTransparency="true" allowFullScreen="true"></iframe>
<p>کراچی: کوئی ایسا شخص جو پالتو جانور رکھنے کا شوقین نہیں اس کے لیے یہ کہانی خاصی انوکھی ثابت ہوسکتی ہے۔</p><p>حال ہی میں، ہم نے ایک خاتون کے بلیوں سے لگاؤ اور درجن بھر بلیوں کو روزانہ کھانا کھلانے کی ویڈیو شیئر کی تھی۔ یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی اور سوشل میڈیا پر بلیوں کا راج ہوگیا، شاید لوگوں کو بلیاں کافی پسند ہیں۔</p><p>میرے ایڈیٹر کو لگا کہ ان خاتون سے ملنا اور اُن سے اس حوالے پر بات کرنا اچھا خیال ہے۔ مجھے ایسا نہیں لگا تھا لیکن میں انکار نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ مجھے اس نوکری پر آئے کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔</p><p>بس پھر کیا تھا، ایک گرم دن میں 2 کیمرہ مین لے کر کراچی کے علاقے گلشن اقبال پہنچا، جہاں وہ خاتون رہائش پذیر ہیں۔ ہمارا مقصد یہی جاننا تھا کہ سڑک پر موجود بلیوں کو کھانا کھلانے میں خاص بات کیا ہے۔</p><p>ہم اس جگہ پر مغرب ہونے سے ایک گھنٹہ قبل ہی پہنچ گئے، وہاں کے چوکیدار نے ہمیں بتایا کہ وہ خاتون مغرب کے فوری بعد بلیوں کو کھانا کھلاتی ہیں۔</p><p>اس دوران ہم پارک میں گھومے پھرے، کچھ تصاویر لیں اور کوشش کی کہ ہمیں اردگرد اس حوالے سے کوئی انٹرویو دینے کے لیے مل جائے۔</p><p>اس دوران ہم نے ان خاتون کے حوالے سے کچھ لڑکوں سے بات کی، وہ یہ بتاتے ہوئے بے حد خوش تھے کہ وہ کب سے اس خاتون کو سڑک پر بلیوں کو کھانا کھلاتے دیکھ رہے ہیں۔ </p><p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب بھی وہ بلیوں کے نزدیک سے گزرتے ہیں تو کیسے یہ خاتون انہیں ڈانٹتی تھیں یا وہ ان سے یہ بھی پوچھنے پر خوفزدہ رہتے کہ آخر وہ اتنی ساری بلیوں کو کھانا کھلاتی ہی کیوں ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/57872cfbe125f.jpg'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p>چوکیدار جسے ہم نے آخر کار بات کرنے پر راضی کرلیا تھا، کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کا تیسرا شخص ہے جو اس گھر میں نوکری کررہا ہے، پچھلے دو لوگوں نے بھی اسے بلیوں کی کہانی کے بارے میں بتایا تھا۔ اگر یہ شمار صحیح ہے تو یہ خاتون تقریباً 17 سال سے بلیوں کو کھانا کھلا رہی ہیں۔</p><p>جب وہ خاتون اپنے گھر سے پانچ گوشت سے بھرے بیگ لے کر باہر آئیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ کوئی ایک روز بھی ایسا نہیں گزرا جب انہوں نے بلیوں کو کھانا مہیا نہ کیا ہو۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/578726d47e067.jpg'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p>سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بلیاں بھی سڑک کے پار جمع ہونا شروع ہوگئیں اور جب تک وہ خاتون وہاں پہنچیں تقریباً تین درجن بلیاں یہاں جمع ہوچکی تھیں۔</p><p> مجھے ایک جگہ پر اتنی ساری بلیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر نہایت عجیب سا محسوس ہوا، لیکن وہ خاتون بالکل پریشان دکھائی نہیں دیں۔</p><p>جن لوگوں کا ہم نے انٹرویو کیا تھا ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ یہ بلیاں ان خاتون کے بچوں جیسی ہیں۔ کسی نے کہا یہ انسانوں سے نفرت کرتی ہیں اور انہیں صرف بلیوں سے پیار ہے۔ سب کے پاس اپنی اپنی کہانیاں موجود تھیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/5787264dd7b25.jpg'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p>ان کی اپنی کہانی کچھ یوں تھی: کئی سال پہلے، انہیں اپنے گھر کے باہر ایک بھوکی بلی ملی اور ان سے یہ بات برداشت نہیں ہورہی تھی کہ ایک بلی بھوک کی وجہ سے مر جائے اس لیے انہوں نے اس بلی کو کھانا کھلایا اور تب سے اب تک یہی کررہی ہیں۔ اس کے بعد بلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، انہوں نے ایک کے ساتھ شروعات کی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں بلیوں کو کھانا کھلاتی رہی۔</p><p>یہ خاتون ایک دن بھی نہیں چھوڑتی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ افطار کرنے بھی نہیں جاتی یا اس وقت کسی بھی جگہ نہیں جاتی ہیں۔ وہ تو حج اور عمرہ کرنے بھی نہیں گئیں۔</p><p>ان کی زندگی میں ایک بار ایسا وقت بھی آیا جب وہ بلیوں کو کھانا دینے نہیں جاسکی کیوں کہ ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور وہ چل پھر نہیں سکتی تھیں۔ لیکن اُس وقت بھی انہوں نے کسی اور کا انتظام کیا جو کہ ان کی غیر موجودگی میں بلیوں کو کھانا دے سکے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/578726d6720ff.jpg'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p>وہ کافی تھکی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ وہ اب جوان نہیں اور چھڑی کے سہارے چلتی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آخر انہیں اس کام کے لیے کس نے متاثر کیا۔ مجھے اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ صرف جانوروں سے ان کی محبت کا نتیجہ ہے۔ مجھے لگا کہ شاید یہ ان کی عادت یا زندگی کا مقصد ہے۔</p><p>مجھے ان سے کوئی جواب تو نہیں ملا، لیکن انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ کئی سالوں سے یہ کام کرنے کے بعد اب وہ کافی تھک چکی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل سے شروع کیا ہوا کام اب مزدوری بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے بلیوں کا خیال رکھنا شروع کردیں گے تو وہ اس کام کو ختم کردیں گی۔</p><p>لیکن کسی کے لیے بھی اتنی ساری بلیوں کو کھانا کھلانا عام بات نہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کے علاقے میں کوئی یہ کام کرنے کے لیے دلچسپی لے گا۔ یہ دیکھ کر ایسا بھی لگتا ہے کہ ان خاتون کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں۔ بہت سے لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اگرچہ کبھی کبھار وہ لوگوں سے اپنے بارے میں اچھی باتیں بھی سن لیتی ہیں۔</p><p>میں نہیں جانتا کہ یہ خاتون کتنے عرصے تک اس کام کو جاری رکھ سکتی ہیں، لیکن جس دن وہ رکیں تو ان کی گلی کے لوگ انہیں یقیناً یاد کریں گے۔ مجھے ان بلیوں کے بارے میں بھی نہیں معلوم۔ فیس بک پر کئی میمز (مزاحیہ تصاویر) کو دیکھ کر مجھے یہ تو معلوم ہوگیا کہ بلی بہت زیادہ وفادار جانور تو نہیں۔ لیکن میرے خیال سے سچی محبت یہی ہے کہ بغیر توقع رکھے کسی کے لیے کچھ کیا جائے۔ لیکن ایمانداری کی بات کی جائے تو میں چاہتا ہوں کہ یہ خاتون اب کچھ آرام کرلیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1040229</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Jul 2016 14:10:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جہانزیب حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/578738023acde.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/578738023acde.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
