<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 15:41:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 15:41:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکی میں کب کب فوجی حکومت بنی؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1040353/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکی میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی حالیہ کوشش تو ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس سے پہلے بھی ترکی کی 4 منتخب حکومتیں فوجی بغاوت کا شکار ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;موجودہ صدر رجب طیب اردگان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی 14 برس سے اقتدار میں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی 2002 میں پہلی بار اقتدار میں آئی، جس کے بعد 2007 اور 2010 کے انتخابات میں بھی اسے ہی کامیابی حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس دوران 2 بڑی فوجی بغاوتیں ناکام بنانے کا اعلان کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040350/' &gt;جب ترک عوام نے فوجی بغاوت ناکام بنائی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;2013میں بھی فوجی بغاوت کو کچلا گیا جبکہ 2015 میں ترک کرنسی گرنے لگی تو فوجی بوٹ آنے کی صدائیں بلند ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ترکی میں پہلی فوجی بغاوت &lt;strong&gt;1960&lt;/strong&gt; ہوئی، جب جنرل کمال گروسیل نے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، اس بغاوت کے بعد منتخب وزیراعظم عدنان میندرس کو 1960 میں پھانسی دی گئی، انہوں نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں ملک میں آذان پر عائد پابندی ختم کی تھی جبکہ زرعی شعبے میں ترقی کے کئی اقدامات کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040342/' &gt;ترکی میں فوجی بغاوت ناکام، 194افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;دوسری بارمارچ &lt;strong&gt;1971&lt;/strong&gt; میں ترک فوج نے حکومتی امورمیں مداخلت کی اور چیف آف جنرل اسٹاف ممدوح تغمگ نے وزیراعظم سلیمان ڈیمرل کو خط لکھ کر طرزحکومت بہتر بنانے کی ہدایت کی، جس پر سیلمان ڈیمرل نے اقتدار سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، تاہم ملک کئی سال تک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1980&lt;/strong&gt; میں جنرلز کے گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی شروع کی اور ستمبر میں ترکی میں تیسری مرتبہ مارشل لاء نافذ کیا گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040346/' &gt;ترکی بغاوت: &amp;#39;بھائی کو بھائی کا خون نہیں بہانا چاہیے&amp;#39;&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;یہ سب سے بدترین مارشل لاء کہلاتا ہے، کیونکہ اس میں ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ کئی افراد کو پھانسیاں بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک آئینی ترمیم کے ذریعے 2010 میں ترک عدالتوں نے 1980 کی بغاوت پر 3 جنرلز سمیت 300 سے زائد فوجی اہلکاروں کو سزائیں بھی سنائیں، ان بغاوتوں پر جنرلز کو 20-20 سال قید کی سزادی گئی، لیکن چونکہ ان کی عمریں 80 سال سے زائد تھیں، لہذا اپیل پر ان کو معاف کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ترک فوج نے چوتھی مرتبہ &lt;strong&gt;1997&lt;/strong&gt; میں اسلامک ویلفیئرپارٹی کی سربراہی میں بننے والی مخلوط حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا، اس کے بعد اس سیاسی جماعت کا وجود ختم ہو گیا تھا، جبکہ معزول ہونے والے وزیراعظم نجم الدین اربکان پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی بھی عائد کی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040347/' &gt;ترکی : آرمی چیف بازیاب،فوجی بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صدر رجب طیب اردگان بھی اسلامک ویلفیئر پارٹی کے رکن تھے جنہوں نے بعد ازاں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) بنائی جو کہ 2002 سے برسراقتدار ہے۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکی میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی حالیہ کوشش تو ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس سے پہلے بھی ترکی کی 4 منتخب حکومتیں فوجی بغاوت کا شکار ہو چکی ہیں۔</p><p>موجودہ صدر رجب طیب اردگان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی 14 برس سے اقتدار میں ہے۔</p><p>جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی 2002 میں پہلی بار اقتدار میں آئی، جس کے بعد 2007 اور 2010 کے انتخابات میں بھی اسے ہی کامیابی حاصل ہوئی۔</p><p>اس دوران 2 بڑی فوجی بغاوتیں ناکام بنانے کا اعلان کیا گیا۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040350/' >جب ترک عوام نے فوجی بغاوت ناکام بنائی</a></h6>
<p>2013میں بھی فوجی بغاوت کو کچلا گیا جبکہ 2015 میں ترک کرنسی گرنے لگی تو فوجی بوٹ آنے کی صدائیں بلند ہوئی تھیں۔</p><p>ترکی میں پہلی فوجی بغاوت <strong>1960</strong> ہوئی، جب جنرل کمال گروسیل نے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، اس بغاوت کے بعد منتخب وزیراعظم عدنان میندرس کو 1960 میں پھانسی دی گئی، انہوں نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں ملک میں آذان پر عائد پابندی ختم کی تھی جبکہ زرعی شعبے میں ترقی کے کئی اقدامات کیے تھے۔</p><h6>مزید پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040342/' >ترکی میں فوجی بغاوت ناکام، 194افراد ہلاک</a></h6>
<p>دوسری بارمارچ <strong>1971</strong> میں ترک فوج نے حکومتی امورمیں مداخلت کی اور چیف آف جنرل اسٹاف ممدوح تغمگ نے وزیراعظم سلیمان ڈیمرل کو خط لکھ کر طرزحکومت بہتر بنانے کی ہدایت کی، جس پر سیلمان ڈیمرل نے اقتدار سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، تاہم ملک کئی سال تک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔</p><p><strong>1980</strong> میں جنرلز کے گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی شروع کی اور ستمبر میں ترکی میں تیسری مرتبہ مارشل لاء نافذ کیا گیا۔ </p><h6>یہ بھی پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040346/' >ترکی بغاوت: &#39;بھائی کو بھائی کا خون نہیں بہانا چاہیے&#39;</a></h6>
<p>یہ سب سے بدترین مارشل لاء کہلاتا ہے، کیونکہ اس میں ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ کئی افراد کو پھانسیاں بھی دی گئی۔</p><p>ایک آئینی ترمیم کے ذریعے 2010 میں ترک عدالتوں نے 1980 کی بغاوت پر 3 جنرلز سمیت 300 سے زائد فوجی اہلکاروں کو سزائیں بھی سنائیں، ان بغاوتوں پر جنرلز کو 20-20 سال قید کی سزادی گئی، لیکن چونکہ ان کی عمریں 80 سال سے زائد تھیں، لہذا اپیل پر ان کو معاف کر دیا گیا۔</p><p>ترک فوج نے چوتھی مرتبہ <strong>1997</strong> میں اسلامک ویلفیئرپارٹی کی سربراہی میں بننے والی مخلوط حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا، اس کے بعد اس سیاسی جماعت کا وجود ختم ہو گیا تھا، جبکہ معزول ہونے والے وزیراعظم نجم الدین اربکان پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی بھی عائد کی گئی۔</p><h6>مزید پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040347/' >ترکی : آرمی چیف بازیاب،فوجی بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند</a></h6>
<p>موجودہ صدر رجب طیب اردگان بھی اسلامک ویلفیئر پارٹی کے رکن تھے جنہوں نے بعد ازاں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) بنائی جو کہ 2002 سے برسراقتدار ہے۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1040353</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Jul 2016 15:45:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکڈان نیوز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/5789f60fd0071.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/5789f60fd0071.jpg?0.03810856445623334"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
