<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 20:41:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 20:41:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایس پی آر کے تحت کتنے ایف ایم چینلز چلائے جارہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1040572/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد : سماجی کارکن اور ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں پاک فوج کےشعبہ تعلقات عامہ یعنی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے میڈیا سیل کے تحت چلنے والے ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد اور فنڈنگ کی تفصیلات سے متعلق پیٹشن دائر کردی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ وفاقی حکومت اور پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیرٹی اتھارٹی) سے جواب طلب کرے کہ ملک بھر میں آئی ایس پی آر کے کتنے ایف ایم اسٹیشن چلائے جارہے ہیں؟&lt;/p&gt;&lt;p&gt;درخواست گزار نے پیٹشن میں یہ بھی درخواست کی کہ وہ حکومت سے آئی ایس پی آر کی جانب سے حاصل ہونے والی آمدنی سمیت فلموں اور اور ڈراموں کے پروڈکشن میں ہونے والے اخراجات کی تفیصلات طلب کرے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ رواں سال 15 جون کو عاصمہ جہانگیر نے آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل کو مانیٹر کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے ان کو پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے وزیر اطلاعات ونشریات کی جانب سے عدالتی حکم عدولی کے خلاف حامد میر، چیئرمین پیمرا اور دیگر کی درخواست پر کیس کی سماعت کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1038730' &gt;’آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل کو مانیٹر کیا جائے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پیٹشن میں کہا گیا کہ حکومت عدالت کو مطلع  کرے کہ آئی ایس پی آر کے تحت چلنے والے ایف ایم اسٹیشنز میں کسی پیشہ ور صحافی کی خدمات بھی لے جارہی ہیں یا نہیں؟&lt;/p&gt;&lt;p&gt;درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل کی نگرانی اور ان کی  فنڈنگ کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور ان کا میڈیا ملک میں من گھڑت اور بے بنیاد خبریں پھیلارہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس پی آر سوشل میڈیا پر بہت سرگرم ہے لیکن سوشل میڈیا لوگوں کو بدنام  کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت درست معلومات کو یقینی بناناضروری ہے، ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر خرچ کئے جانے والے وسائل کی تفصیلات بتانے کی ممانعت ہو۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;درخواست گزار نے نشاندہی کی کہ عدالت عظمیٰ پبلسٹی فنڈز کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنے پر حکومت سے جواب طلب کررہی ہے تو عدالت آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل اور ان کے اخراجات کے بارے میں بھی جواب طلب کرسکتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں میڈیا اور اطلاعات کو کنٹرول کرنے کے تین اہم مراکز ہیں، پہلا حکومت کے زیر اثر میڈیا، دوسرا پرائیوٹ میڈیا اور تیسرا آئی ایس پی آر جو ہر قانون سے مستثنیٰ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پرائیوٹ ریڈیو اسٹیشنوں ایم ایف 89.04 اور ایف ایم 96 آئی ایس پی آر کے تحت چلائے جارہے ہیں لیکن پیمرا ان ریڈیو اسٹیشنوں کو ریگولیٹ کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;درخواست گزار نے پٹیشن میں لکھا کہ آئی ایس پی آر نے 18 جون 2010 کو ایف ایم 96 ریڈیو اسٹیشن لائنسس کے لیے پیمرا سے درخواست کی تھی تاہم پیمرا نے آئی ایس پی آر کو لائنسس دینے سے انکار کردیا تھا لیکن پھر بھی ایم ایف 89.04 اور ایف ایم 96 کی نشریات 55 شہروں میں آن آیئر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا نے آئی ایس پی آر کی جانب سے چلائے جانے والے ریڈیو چینلز اور سوشل میڈیا کے استعمال کو قانون کے دائرے میں نہ لاکر امتیازی سلوک کیا اور یہ آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 20 جولائی 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد : سماجی کارکن اور ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں پاک فوج کےشعبہ تعلقات عامہ یعنی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے میڈیا سیل کے تحت چلنے والے ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد اور فنڈنگ کی تفصیلات سے متعلق پیٹشن دائر کردی۔</p><p>انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ وفاقی حکومت اور پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیرٹی اتھارٹی) سے جواب طلب کرے کہ ملک بھر میں آئی ایس پی آر کے کتنے ایف ایم اسٹیشن چلائے جارہے ہیں؟</p><p>درخواست گزار نے پیٹشن میں یہ بھی درخواست کی کہ وہ حکومت سے آئی ایس پی آر کی جانب سے حاصل ہونے والی آمدنی سمیت فلموں اور اور ڈراموں کے پروڈکشن میں ہونے والے اخراجات کی تفیصلات طلب کرے۔ </p><p>خیال رہے کہ رواں سال 15 جون کو عاصمہ جہانگیر نے آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل کو مانیٹر کرنے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے ان کو پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔</p><p>جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے وزیر اطلاعات ونشریات کی جانب سے عدالتی حکم عدولی کے خلاف حامد میر، چیئرمین پیمرا اور دیگر کی درخواست پر کیس کی سماعت کی تھی۔</p><p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1038730' >’آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل کو مانیٹر کیا جائے‘</a></strong></p><p>پیٹشن میں کہا گیا کہ حکومت عدالت کو مطلع  کرے کہ آئی ایس پی آر کے تحت چلنے والے ایف ایم اسٹیشنز میں کسی پیشہ ور صحافی کی خدمات بھی لے جارہی ہیں یا نہیں؟</p><p>درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل کی نگرانی اور ان کی  فنڈنگ کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور ان کا میڈیا ملک میں من گھڑت اور بے بنیاد خبریں پھیلارہا ہے۔</p><p>پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس پی آر سوشل میڈیا پر بہت سرگرم ہے لیکن سوشل میڈیا لوگوں کو بدنام  کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت درست معلومات کو یقینی بناناضروری ہے، ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر خرچ کئے جانے والے وسائل کی تفصیلات بتانے کی ممانعت ہو۔</p><p>درخواست گزار نے نشاندہی کی کہ عدالت عظمیٰ پبلسٹی فنڈز کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنے پر حکومت سے جواب طلب کررہی ہے تو عدالت آئی ایس پی آر کے میڈیا سیل اور ان کے اخراجات کے بارے میں بھی جواب طلب کرسکتی ہے۔ </p><p>درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں میڈیا اور اطلاعات کو کنٹرول کرنے کے تین اہم مراکز ہیں، پہلا حکومت کے زیر اثر میڈیا، دوسرا پرائیوٹ میڈیا اور تیسرا آئی ایس پی آر جو ہر قانون سے مستثنیٰ ہے۔</p><p>پرائیوٹ ریڈیو اسٹیشنوں ایم ایف 89.04 اور ایف ایم 96 آئی ایس پی آر کے تحت چلائے جارہے ہیں لیکن پیمرا ان ریڈیو اسٹیشنوں کو ریگولیٹ کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ </p><p>درخواست گزار نے پٹیشن میں لکھا کہ آئی ایس پی آر نے 18 جون 2010 کو ایف ایم 96 ریڈیو اسٹیشن لائنسس کے لیے پیمرا سے درخواست کی تھی تاہم پیمرا نے آئی ایس پی آر کو لائنسس دینے سے انکار کردیا تھا لیکن پھر بھی ایم ایف 89.04 اور ایف ایم 96 کی نشریات 55 شہروں میں آن آیئر ہوتی ہیں۔</p><p>درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا نے آئی ایس پی آر کی جانب سے چلائے جانے والے ریڈیو چینلز اور سوشل میڈیا کے استعمال کو قانون کے دائرے میں نہ لاکر امتیازی سلوک کیا اور یہ آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ </p><p><strong><em>یہ خبر 20 جولائی 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1040572</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Jul 2016 15:19:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصراقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/578f077af1e26.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/578f077af1e26.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
