<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 07:15:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 07:15:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی فائرنگ: حملہ آور نے فیس بک پر ہوٹل آنے کی دعوت دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1040807/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;میونخ: جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کرکے 9 افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی شناخت 18 سالہ علی ڈیوڈ سنبلی کے نام سے ہوگئی ۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی &lt;a href='http://www.telegraph.co.uk/news/2016/07/23/munich-shooting-german-iranian-gunman-targeted-children-outside/' &gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ علی سنبلی نے حملے سے قبل فیس بک پر جعلی اکائونٹ کے ذریعے لوگوں کو شام 4 بجے او ای زی شاپنگ سینٹر میں موجود میک ڈونلڈ آنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040729/' &gt;جرمنی: شاپنگ سینٹر میں فائرنگ، 9 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/57948c9cc1200.jpg'  alt='فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کے مطابق حملہ آور نے لڑکی بن کر سیلینا آکم کے نام سے بنائے جانے والے فیس بک اکائونٹ کے ذریعے پیغام دیا &amp;#39;آج شام چار بجے میک ڈونلڈ آئیں اور آپ جو چاہیں گے میں آپ کو دوں گی بشرطیکہ وہ چیز زیادہ مہنگی نہ ہو۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علی سنبلی کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس نے اپنے حملے کے دوران صرف ترک اور عرب پس منظر رکھنے والوں کو نشانہ بنایا اور یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اسکول میں ترک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے ایک گروپ نے علی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علی سنبلی کو جاننے والے ایک شخص نے فیس بک پر لوگوں کو آگاہ بھی کیا تھا کہ وہ جعلی اکائونٹ بناکر لوگوں کو گمراہ کررہا ہے اور وہ ذہنی انتشار کا شکار نوجوان ہے جو توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/579487034cb9d.jpg'  alt='میونخ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے شدت غم سے نڈھال  لواحقین یادگار پر گلدستے رکھ رہے ہیں&amp;mdash;فوٹو/ اے پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;
					میونخ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے شدت غم سے نڈھال  لواحقین یادگار پر گلدستے رکھ رہے ہیں—فوٹو/ اے پی
				&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			

علی سنبلی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تمام افراد کم عمر تھے صرف ایک خاتون ایسی تھیں جن کی عمر 45 برس تھی اور وہ ترک نژاد تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہلاک ہونے والوں میں چار بچوں کا ایک گروپ بھی شامل ہے جن کی عمریں 14 سے 15 برس کے درمیان ہیں اور وہ ریسٹورنٹ کے اندر کھانے میں مصروف تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان میں سے دو ترک نژاد لڑکے اور دو کوسوو خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں جبکہ پروسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ علی سنبلی ذہنی طور پر بیمار تھا اور کئی ماہ سے زیر علاج بھی تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علی کے گھر پر چھاپے کے دوران ایسی کتابیں ملی ہیں جن میں ماضی میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کا ذکر ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040748/' &gt;میونخ فائرنگ: &amp;#39;حملہ آور بچوں کو ہی نشانہ بنارہا تھا&amp;#39;&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;جرمن اخبار بائلڈ کی رپورٹ کے مطابق حملے کے روز سنبلی نے کمپیوٹر گیم کے دوران اپنے دوستوں سے کہا کہ &amp;#39;میک ڈونلڈز آجائو پھر میں تمہیں پکڑوں گا اور گولی مار دوں گا۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علی سنبلی کے اپارٹمنٹ میں رہنے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ اس نے اپنے کلاس فیلوز سے کہا تھا کہ &amp;#39;میں تم سب کو قتل کردوں گا۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علی کو بچپن سے جاننے والے لوگوں نے بتایا کہ وہ بہت ہی شرمیلا اور سست قسم کا لڑکا تھا اور انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ وہ قتل جیسا سنگین جرم بھی کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>میونخ: جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ مال میں فائرنگ کرکے 9 افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی شناخت 18 سالہ علی ڈیوڈ سنبلی کے نام سے ہوگئی ۔</p><p class=''>برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی <a href='http://www.telegraph.co.uk/news/2016/07/23/munich-shooting-german-iranian-gunman-targeted-children-outside/' >رپورٹ</a> کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ علی سنبلی نے حملے سے قبل فیس بک پر جعلی اکائونٹ کے ذریعے لوگوں کو شام 4 بجے او ای زی شاپنگ سینٹر میں موجود میک ڈونلڈ آنے کی دعوت دی۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040729/' >جرمنی: شاپنگ سینٹر میں فائرنگ، 9 افراد ہلاک</a></h6>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/57948c9cc1200.jpg'  alt='فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
				</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>پولیس کے مطابق حملہ آور نے لڑکی بن کر سیلینا آکم کے نام سے بنائے جانے والے فیس بک اکائونٹ کے ذریعے پیغام دیا &#39;آج شام چار بجے میک ڈونلڈ آئیں اور آپ جو چاہیں گے میں آپ کو دوں گی بشرطیکہ وہ چیز زیادہ مہنگی نہ ہو۔&#39;</p><p class=''>علی سنبلی کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس نے اپنے حملے کے دوران صرف ترک اور عرب پس منظر رکھنے والوں کو نشانہ بنایا اور یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اسکول میں ترک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے ایک گروپ نے علی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔</p><p class=''>علی سنبلی کو جاننے والے ایک شخص نے فیس بک پر لوگوں کو آگاہ بھی کیا تھا کہ وہ جعلی اکائونٹ بناکر لوگوں کو گمراہ کررہا ہے اور وہ ذہنی انتشار کا شکار نوجوان ہے جو توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/07/579487034cb9d.jpg'  alt='میونخ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے شدت غم سے نڈھال  لواحقین یادگار پر گلدستے رکھ رہے ہیں&mdash;فوٹو/ اے پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">
					میونخ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے شدت غم سے نڈھال  لواحقین یادگار پر گلدستے رکھ رہے ہیں—فوٹو/ اے پی
				</figcaption>
			</figure>
<p>			

علی سنبلی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تمام افراد کم عمر تھے صرف ایک خاتون ایسی تھیں جن کی عمر 45 برس تھی اور وہ ترک نژاد تھیں۔</p><p class=''>ہلاک ہونے والوں میں چار بچوں کا ایک گروپ بھی شامل ہے جن کی عمریں 14 سے 15 برس کے درمیان ہیں اور وہ ریسٹورنٹ کے اندر کھانے میں مصروف تھے۔</p><p class=''>ان میں سے دو ترک نژاد لڑکے اور دو کوسوو خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں تھیں۔</p><p class=''>پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں جبکہ پروسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ علی سنبلی ذہنی طور پر بیمار تھا اور کئی ماہ سے زیر علاج بھی تھا۔</p><p class=''>علی کے گھر پر چھاپے کے دوران ایسی کتابیں ملی ہیں جن میں ماضی میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کا ذکر ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040748/' >میونخ فائرنگ: &#39;حملہ آور بچوں کو ہی نشانہ بنارہا تھا&#39;</a></h6>
<p class=''>جرمن اخبار بائلڈ کی رپورٹ کے مطابق حملے کے روز سنبلی نے کمپیوٹر گیم کے دوران اپنے دوستوں سے کہا کہ &#39;میک ڈونلڈز آجائو پھر میں تمہیں پکڑوں گا اور گولی مار دوں گا۔&#39;</p><p class=''>علی سنبلی کے اپارٹمنٹ میں رہنے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ اس نے اپنے کلاس فیلوز سے کہا تھا کہ &#39;میں تم سب کو قتل کردوں گا۔&#39;</p><p class=''>علی کو بچپن سے جاننے والے لوگوں نے بتایا کہ وہ بہت ہی شرمیلا اور سست قسم کا لڑکا تھا اور انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ وہ قتل جیسا سنگین جرم بھی کرسکتا ہے۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1040807</guid>
      <pubDate>Sun, 24 Jul 2016 15:15:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/5794840e1d99c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/5794840e1d99c.jpg"/>
        <media:title>میونخ کے شاپنگ مال میں فائرنگ کرنے والا علی ڈیوڈ سنبلی—فوٹو بشکریہ ٹیلی گراف</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
