<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 20:35:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 20:35:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچ سماجی کارکن عبدالواحد کراچی سے 'لاپتہ'</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1041165/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;کراچی: لیاری کے علاقے چاکیواڑہ سے تعلق رکھنے والے بلوچ سماجی کارکن اور ناشر عبد الواحد بلوچ رواں برس 26 جولائی سے لاپتہ ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ نے ان کی گمشدگی کا الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عبد الواحد بلوچ کراچی سول ہسپتال میں ایک ٹیلی فون آپریٹر کے عہدے پر ملازمت کرتے تھے، انھیں کتابوں سے عشق تھا اور وہ بلوچ مصنفین اور لکھاریوں کی کتابیں اور پوسٹرز شائع کرنے میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عبد الواحد بلوچ کے قریبی دوست اور پڑوسی غلام محمد کے مطابق &amp;#39;جب بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلوچ کارکنوں اور ماہی گیروں کی جانب سے بھوک ہڑتال، ریلی اور احتجاجی مظاہرے کیے جاتے تو وہ ان کے حق کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، وہ ایک کامریڈ کی طرح تھا اور تقریباً روز ہی کراچی پریس کلب جایا کرتے تھے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عبدالواحد کے 4 بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان سے بات کرتے ہوئے واحد بلوچ کی 20 سالہ بیٹی ہانی نے بتایا کہ &amp;#39;منگل کی شام میرے والد، اپنے دوست صابر علی صابر اور دو بچوں کے ساتھ  گاڑی میں کسی تقریب سے واپس آرہے تھے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس 2 افراد نے سپر ہائی وے ٹول پلازہ پر ان کی گاڑی کو روکا اور میرے والد سے اپنا شناختی کارڈ دکھانے کے لیے کہا‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہانی نے اپنے والد کے ساتھ ہونے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ &amp;#39;ایک شخص نے کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، جس طرح بلوچستان میں لیویز اہلکار پہنتے ہیں، اس شخص نے میرے والد سے شناختی کارڈ مانگا اور شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد وہ اپنے موبائل پر کچھ چیک کرنے لگا، پھر اس نے میرے والد کو سامان سمیت گاڑی سے اترنے کے لیے کہا اور ان کو لے گئے جبکہ ڈرائیور کو فوری طور پر وہ علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا&amp;#39;۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; ہانی کے مطابق &amp;#39;دو افراد نیلے رنگ کی گاڑی ویگو کے قریب کھڑے ہوئے تھے جس میں ان کو والد کو لے جایا گیا&amp;#39;۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ میرے خاندان اور والد کے کچھ دوست واقعے کی رپورٹ درج کروانے ٹول پلازہ کے قریب ہی واقع گڈاپ پولیس اسٹیشن پہنچے تو پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور مشورہ دیا کہ 3 دن تک انتظار کریں، ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی واپس آجائیں&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) سے رابطہ کیا جہاں ہم نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے تمام تفصیلات مہیا کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کراچی سول اسپتال کی انتظامیہ نے گڈاپ پولیس اسٹیشن میں اپنے ملازم عبدالواحد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی ہے، جہاں وہ گزشتہ 25 برس سے ملازمت کررہے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایچ آر سی پی سندھ  کے وائس چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے بتایا کہ عبدالواحد بلوچ کے خاندان نے بدھ کو ان سے رابطہ کرنے کے بعد درخواست جمع کروائی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ ’ایک چیز مجھے بہت تکلیف دیتی ہے کہ پولیس اسٹیشن اور پاکستان رینجرز چیک پوسٹ کے ساتھ ہی ٹول پلازہ واقع ہے اور اس علاقے میں کیسے ایک شخص کو آرام سے پکڑ کر لے جایا جاسکتا ہے‘۔  &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسد بٹ نے مزید کیا کہ ہم نے ان کے اہلخانہ سے کہا کہ وہ گڈاپ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائیں تاکہ ان کا کیس مضبوط ہوسکے، اگر وہ اپنا کیس عدالت میں لے جانا چاہیں تو انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 30 جولائی 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>کراچی: لیاری کے علاقے چاکیواڑہ سے تعلق رکھنے والے بلوچ سماجی کارکن اور ناشر عبد الواحد بلوچ رواں برس 26 جولائی سے لاپتہ ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ نے ان کی گمشدگی کا الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کیا ہے۔ </p><p class=''>عبد الواحد بلوچ کراچی سول ہسپتال میں ایک ٹیلی فون آپریٹر کے عہدے پر ملازمت کرتے تھے، انھیں کتابوں سے عشق تھا اور وہ بلوچ مصنفین اور لکھاریوں کی کتابیں اور پوسٹرز شائع کرنے میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔</p><p class=''>عبد الواحد بلوچ کے قریبی دوست اور پڑوسی غلام محمد کے مطابق &#39;جب بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلوچ کارکنوں اور ماہی گیروں کی جانب سے بھوک ہڑتال، ریلی اور احتجاجی مظاہرے کیے جاتے تو وہ ان کے حق کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، وہ ایک کامریڈ کی طرح تھا اور تقریباً روز ہی کراچی پریس کلب جایا کرتے تھے&#39;۔</p><p class=''>عبدالواحد کے 4 بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔</p><p class=''>ڈان سے بات کرتے ہوئے واحد بلوچ کی 20 سالہ بیٹی ہانی نے بتایا کہ &#39;منگل کی شام میرے والد، اپنے دوست صابر علی صابر اور دو بچوں کے ساتھ  گاڑی میں کسی تقریب سے واپس آرہے تھے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس 2 افراد نے سپر ہائی وے ٹول پلازہ پر ان کی گاڑی کو روکا اور میرے والد سے اپنا شناختی کارڈ دکھانے کے لیے کہا‘۔</p><p class=''>ہانی نے اپنے والد کے ساتھ ہونے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ &#39;ایک شخص نے کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، جس طرح بلوچستان میں لیویز اہلکار پہنتے ہیں، اس شخص نے میرے والد سے شناختی کارڈ مانگا اور شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد وہ اپنے موبائل پر کچھ چیک کرنے لگا، پھر اس نے میرے والد کو سامان سمیت گاڑی سے اترنے کے لیے کہا اور ان کو لے گئے جبکہ ڈرائیور کو فوری طور پر وہ علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا&#39;۔ </p><p class=''> ہانی کے مطابق &#39;دو افراد نیلے رنگ کی گاڑی ویگو کے قریب کھڑے ہوئے تھے جس میں ان کو والد کو لے جایا گیا&#39;۔ </p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ میرے خاندان اور والد کے کچھ دوست واقعے کی رپورٹ درج کروانے ٹول پلازہ کے قریب ہی واقع گڈاپ پولیس اسٹیشن پہنچے تو پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور مشورہ دیا کہ 3 دن تک انتظار کریں، ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی واپس آجائیں&#39;۔</p><p class=''>انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) سے رابطہ کیا جہاں ہم نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے تمام تفصیلات مہیا کیں۔</p><p class=''>کراچی سول اسپتال کی انتظامیہ نے گڈاپ پولیس اسٹیشن میں اپنے ملازم عبدالواحد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی ہے، جہاں وہ گزشتہ 25 برس سے ملازمت کررہے تھے۔ </p><p class=''>ایچ آر سی پی سندھ  کے وائس چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے بتایا کہ عبدالواحد بلوچ کے خاندان نے بدھ کو ان سے رابطہ کرنے کے بعد درخواست جمع کروائی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ ’ایک چیز مجھے بہت تکلیف دیتی ہے کہ پولیس اسٹیشن اور پاکستان رینجرز چیک پوسٹ کے ساتھ ہی ٹول پلازہ واقع ہے اور اس علاقے میں کیسے ایک شخص کو آرام سے پکڑ کر لے جایا جاسکتا ہے‘۔  </p><p class=''>اسد بٹ نے مزید کیا کہ ہم نے ان کے اہلخانہ سے کہا کہ وہ گڈاپ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائیں تاکہ ان کا کیس مضبوط ہوسکے، اگر وہ اپنا کیس عدالت میں لے جانا چاہیں تو انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p><p class=''><strong><em>یہ خبر 30 جولائی 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1041165</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Jul 2016 11:33:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سحر بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/579c42a48d8bb.jpg?r=814782358" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/579c42a48d8bb.jpg?r=217208624"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
