<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 02:07:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 02:07:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'میتھیو بیرٹ پاکستان منتقل ہونا چاہتا تھا'</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1041666/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: بلیک لسٹ میں موجود امریکی شہری میتھیو کریگ بیرٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بیان دیا کہ وہ پاکستان میں مستقل قیام کرنے کی غرض سے امریکا سے واپس آیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بلیک لسٹ میں موجود ایک امریکی شہری کو ہفتہ 6 اگست کو دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے پر اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف پاکستان کسٹم ایکٹ اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ امریکی شہری نے زبردستی پاکستان میں داخل ہونے کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلیک لسٹ ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں گیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ نے انھیں پاکستان کا ویزا جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے تفتیش کے دوران امریکی شہری سے کئی سوالات پوچھے کہ وہ اپنی بیوی بنوشا خان کے بغیر مستقل  طور پر پاکستان کیوں منتقل ہونا چاہتا تھا اور اس نے 24 گھنٹے کے اندر اندر 4 سال کا ملٹی پل ویزا کیسے حاصل کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; اس واقعے کے بعد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی گئی جو امریکی شہری کو ویزے کے اجراء کے خلاف تحقیقات کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; مذکورہ امریکی شہری کو ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے سب انسپکٹر راجہ آصف اور ان کے بیٹے احتشام الحق نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلیئر کیا، جس کے بعد دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکام کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر موجود اہلکار احتشام الحق کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ ان کے والد سب انسپکٹر راجہ آصف فرار ہو گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ میتھیو بیرٹ کو مئی 2011 میں جھنگ بھارتر کے علاقے میں حساس تنصیبات کی تصاویر لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا اورپولیس نے ان کے قبصے سے حساس مقامات کے نقشے بھی برآمد کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اُس وقت میتھیو بیرٹ کے ویزے کی معیاد کی مدت 11 دسمبر 2011 تک تھی تاہم انھیں 4 جون 2011 میں انٹیلی جنس ایجنسی کی درخواست کے بعد فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1041544/' &gt;بلیک لسٹ امریکی شہری اسلام آباد سے گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; امریکا واپس جانے کی بجائے میھتیو بیرٹ روپوش ہوگئے تھے، جنھیں ویزے کے معیاد کی مدت ختم ہونے کے بعد اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادھر ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن ندیم ظفر کو مبینہ طور پر میتھیو بیرٹ کو کلیئر کرانے پر معطل کردیا گیا، ندیم ظفر کو اس سے قبل  2009 میں مبینہ طور پر غیر ملکیوں کے ساتھ روابط رکھنے پر معطل کیا گیا تھا، اُس وقت وہ ایف آئی اے میں انسپکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعدازاں ندیم ظفر چھٹیاں لے کر متحدہ عرب امارات چلے گئے اور 2013 میں وطن واپسی کے بعد ایف آئی اے سے دوبارہ وابستہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;h4&gt;جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم&lt;/h4&gt;
&lt;p class=''&gt;7 اگست کو جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق اسلام آباد ایئر پورٹ میں امریکی شہری کے دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے کی تحقیقات کے لیے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن ریٹائرڈ کیپٹن محمد الیاس کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جے آئی ٹی کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) کے مطابق ٹیم امریکی باشندے کو بلیک لسٹ قرار دیئے جانے کے بعد انھیں دوبارہ پاکستانی ویزا جاری کرنے کے حوالے سے تفتیش کرے گی۔  &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی باشندے کو ویزہ جاری کرنے کے معاملے پر جے آئی ٹی ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ اور ایف آئی اے کے افسران کے خلاف بھی تحقیقات کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جے آئی ٹی ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے کسی بھی افسر یا کسی بھی شخص کا ریکارڈ حاصل کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے 7 دن کے اندر جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 9 اگست 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: بلیک لسٹ میں موجود امریکی شہری میتھیو کریگ بیرٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بیان دیا کہ وہ پاکستان میں مستقل قیام کرنے کی غرض سے امریکا سے واپس آیا تھا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بلیک لسٹ میں موجود ایک امریکی شہری کو ہفتہ 6 اگست کو دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے پر اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف پاکستان کسٹم ایکٹ اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔</p><p class=''>ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ امریکی شہری نے زبردستی پاکستان میں داخل ہونے کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلیک لسٹ ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں گیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ نے انھیں پاکستان کا ویزا جاری کیا تھا۔</p><p class=''>ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے تفتیش کے دوران امریکی شہری سے کئی سوالات پوچھے کہ وہ اپنی بیوی بنوشا خان کے بغیر مستقل  طور پر پاکستان کیوں منتقل ہونا چاہتا تھا اور اس نے 24 گھنٹے کے اندر اندر 4 سال کا ملٹی پل ویزا کیسے حاصل کرلیا۔</p><p class=''> اس واقعے کے بعد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی گئی جو امریکی شہری کو ویزے کے اجراء کے خلاف تحقیقات کرے گی۔</p><p class=''> مذکورہ امریکی شہری کو ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے سب انسپکٹر راجہ آصف اور ان کے بیٹے احتشام الحق نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلیئر کیا، جس کے بعد دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔</p><p class=''>حکام کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر موجود اہلکار احتشام الحق کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ ان کے والد سب انسپکٹر راجہ آصف فرار ہو گئے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ میتھیو بیرٹ کو مئی 2011 میں جھنگ بھارتر کے علاقے میں حساس تنصیبات کی تصاویر لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا اورپولیس نے ان کے قبصے سے حساس مقامات کے نقشے بھی برآمد کیے تھے۔</p><p class=''>اُس وقت میتھیو بیرٹ کے ویزے کی معیاد کی مدت 11 دسمبر 2011 تک تھی تاہم انھیں 4 جون 2011 میں انٹیلی جنس ایجنسی کی درخواست کے بعد فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1041544/' >بلیک لسٹ امریکی شہری اسلام آباد سے گرفتار</a></strong></p><p class=''> امریکا واپس جانے کی بجائے میھتیو بیرٹ روپوش ہوگئے تھے، جنھیں ویزے کے معیاد کی مدت ختم ہونے کے بعد اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔</p><p class=''>ادھر ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن ندیم ظفر کو مبینہ طور پر میتھیو بیرٹ کو کلیئر کرانے پر معطل کردیا گیا، ندیم ظفر کو اس سے قبل  2009 میں مبینہ طور پر غیر ملکیوں کے ساتھ روابط رکھنے پر معطل کیا گیا تھا، اُس وقت وہ ایف آئی اے میں انسپکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔</p><p class=''>بعدازاں ندیم ظفر چھٹیاں لے کر متحدہ عرب امارات چلے گئے اور 2013 میں وطن واپسی کے بعد ایف آئی اے سے دوبارہ وابستہ ہوگئے۔</p><h4>جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم</h4>
<p class=''>7 اگست کو جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق اسلام آباد ایئر پورٹ میں امریکی شہری کے دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے کی تحقیقات کے لیے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن ریٹائرڈ کیپٹن محمد الیاس کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔</p><p class=''>جے آئی ٹی کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) کے مطابق ٹیم امریکی باشندے کو بلیک لسٹ قرار دیئے جانے کے بعد انھیں دوبارہ پاکستانی ویزا جاری کرنے کے حوالے سے تفتیش کرے گی۔  </p><p class=''>امریکی باشندے کو ویزہ جاری کرنے کے معاملے پر جے آئی ٹی ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ اور ایف آئی اے کے افسران کے خلاف بھی تحقیقات کرے گی۔</p><p class=''>جے آئی ٹی ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے کسی بھی افسر یا کسی بھی شخص کا ریکارڈ حاصل کرسکتی ہے۔</p><p class=''>واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے 7 دن کے اندر جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 9 اگست 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1041666</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Aug 2016 13:24:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار کارینمنور عظیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57a951938b6bc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57a951938b6bc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
