<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 06:12:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 06:12:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نواز شریف فوج سے خوفزدہ ہیں، عمران خان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1041989/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے فوج سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نواز شریف نے کئی بار آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع اور فیلڈ مارشل بننے کی پیش کش کی کیونکہ وہ فوج سے خوفزدہ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے اس بیان کے بعد اس حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں کہ آپریشن ضرب عضب میں کامیابیوں کے حوالے سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ہائی رینک فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، خیال رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت رواں سال نومبر میں ختم ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جنوری 2016 میں جب سوشل میڈیا پر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بحث جاری تھی تو اُس وقت آرمی چیف نے ایک واضح بیان دیا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں نہں ہیں اور مقررہ وقت پر عہدہ چھوڑ دیں گے۔  &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1041979/' &gt;پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عمران خان کے اس دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ ‘عمران خان ہمیشہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کے حوالے سے مشہور ہیں، ان کا دعویٰ من گھرٹ ہے، میں ان کی افواہوں پر کیسے بیان دے سکتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آرمی چیف پہلے ہی مقررہ وقت پر ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کرچکے ہیں اور صرف حکومت ہی اس افواہ پر وضاحت پیش کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عمران خان نے اپنے خطاب میں پیش گوئی کی تھی کہ &amp;#39;اگلا 14 اگست پاکستان کے لیے حقیقی طور پر آزادی کا دن ہوگا، جب ملک حکمرانوں کے ظلم و ستم سے پاک ہوگا، کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے کئی سالوں سے عوام کو تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر ضروری سہولیات سے محروم رکھا ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکمرانوں نے دھوکے بازی سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور وہ کرپٹ سرکاری ملازمین کےساتھ مل کر پیسہ بٹورنے میں مصروف ہیں، ان پر نطر رکھنے والے کوئی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) صرف چھوٹے مجرموں کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جس نے ملک کو لوٹا اس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا چیئرمین مقرر کردیا جاتا ہے اور الیکشن کے دوران معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے اپنی مرضی کے لوگوں کو الیکشن کمیشن میں اعلیٰ عہدوں پر بٹھادیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عمران خان کا کہنا تھا کہ تارکین وکن پاکستان میں واپس آکر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک میں کرپشن کی وجہ سے وہ دبئی اور ملائیشیا جیتے ممالک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے ایف بی آر کے دو عہدے داران ڈاکٹر ارشد اور امجد ٹوانہ پر شریف خاندان کے ٹیکس ریکارڈ  میں &amp;#39;فکسنگ‘ کا بھی الزام لگایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی چیئرمین نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اس دعوے کی حمایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) دہشت گردی کے خلاف متعلقہ نتائج حاصل نہ کرسکا کیونکہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے لیے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ حکومت وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور مدارس میں اصلاحات لانے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 15 جولائی 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے فوج سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی۔</p><p class=''>اسلام آباد میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نواز شریف نے کئی بار آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع اور فیلڈ مارشل بننے کی پیش کش کی کیونکہ وہ فوج سے خوفزدہ ہیں۔</p><p class=''>پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے اس بیان کے بعد اس حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں کہ آپریشن ضرب عضب میں کامیابیوں کے حوالے سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ہائی رینک فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی جائے گی۔</p><p class=''>دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، خیال رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت رواں سال نومبر میں ختم ہورہی ہے۔</p><p class=''>جنوری 2016 میں جب سوشل میڈیا پر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بحث جاری تھی تو اُس وقت آرمی چیف نے ایک واضح بیان دیا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں نہں ہیں اور مقررہ وقت پر عہدہ چھوڑ دیں گے۔  </p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1041979/' >پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا؟</a></strong></p><p class=''>دوسری جانب وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عمران خان کے اس دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ ‘عمران خان ہمیشہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کے حوالے سے مشہور ہیں، ان کا دعویٰ من گھرٹ ہے، میں ان کی افواہوں پر کیسے بیان دے سکتا ہوں‘۔</p><p class=''>سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آرمی چیف پہلے ہی مقررہ وقت پر ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کرچکے ہیں اور صرف حکومت ہی اس افواہ پر وضاحت پیش کرسکتی ہے۔</p><p class=''>عمران خان نے اپنے خطاب میں پیش گوئی کی تھی کہ &#39;اگلا 14 اگست پاکستان کے لیے حقیقی طور پر آزادی کا دن ہوگا، جب ملک حکمرانوں کے ظلم و ستم سے پاک ہوگا، کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے کئی سالوں سے عوام کو تعلیم، صحت اور زندگی کی دیگر ضروری سہولیات سے محروم رکھا ہے&#39;۔</p><p class=''>انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکمرانوں نے دھوکے بازی سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور وہ کرپٹ سرکاری ملازمین کےساتھ مل کر پیسہ بٹورنے میں مصروف ہیں، ان پر نطر رکھنے والے کوئی نہیں ہے۔</p><p class=''>پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) صرف چھوٹے مجرموں کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جس نے ملک کو لوٹا اس کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا چیئرمین مقرر کردیا جاتا ہے اور الیکشن کے دوران معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے اپنی مرضی کے لوگوں کو الیکشن کمیشن میں اعلیٰ عہدوں پر بٹھادیا جاتا ہے۔</p><p class=''>عمران خان کا کہنا تھا کہ تارکین وکن پاکستان میں واپس آکر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک میں کرپشن کی وجہ سے وہ دبئی اور ملائیشیا جیتے ممالک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے ایف بی آر کے دو عہدے داران ڈاکٹر ارشد اور امجد ٹوانہ پر شریف خاندان کے ٹیکس ریکارڈ  میں &#39;فکسنگ‘ کا بھی الزام لگایا۔</p><p class=''>پی ٹی آئی چیئرمین نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اس دعوے کی حمایت کی کہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) دہشت گردی کے خلاف متعلقہ نتائج حاصل نہ کرسکا کیونکہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے لیے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔</p><p class=''>ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ حکومت وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور مدارس میں اصلاحات لانے میں بھی ناکام ہوگئی ہے۔ </p><p class=''><strong><em>یہ خبر 15 جولائی 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1041989</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Aug 2016 11:57:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خاور گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b1301e00d6a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b1301e00d6a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
