<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 08:11:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 08:11:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی کوہ پیما بلندیوں کے سفر پر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1042079/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: کئی پاکستانی نوجوان کوہ پیما لڑکے لڑکیوں نے اسلام آباد کے مضافات میں نئی بلندیاں طے کرلیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان کے گلگت بلتستان میں موجود دنیا کی سب سے بڑی پہاڑی سلسلوں میں قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ شامل ہیں جو طویل عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی بلندی 8611 میٹرز ہے، جسے دنیا کی بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں چڑھنے میں زیادہ مشکل تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لیکن پہاڑی شمال کے پیشہ ور افراد کی کہانیوں کے باوجود ملک کے باقی حصوں میں پہاڑ چڑھنے کا یہ کھیل اتنا مقبول نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد میں ایکو ایڈوینچر کلب کے مالک نذیر احمد نے نوجوانوں کے لیے ایک ایکٹیویٹی کا اہتمام کیا جن کا ماننا ہے کہ اب کوہ پیمائی میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کے مطابق اس کلب کا آغاز انہوں نے 4 سال قبل کیا تھا جس میں اب 500 ممبران شامل ہیں جو ہر ہفتے کو مرگلا پر جمع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان میں سے کئی افراد کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہر کوہ پیما کو اس کی صلاحیت دیکھتے ہوئے آگے بھیجا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کئی مقامی افراد اس ٹریننگ میں حصہ لے رہے ہیں جو ایسے اپنا شوق ماننے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ کوہ پیمائی کو 2020 میں ٹوکیو میں ہونے والے اولمپک اسپورٹس کا پہلی بار حصہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہر شہر میں قدرتی پہاڑی سلسلے میں موجود نہیں اس لیے دوسرے شہروں میں اس ایکٹیویٹی کو جاری رکھنے کے کیے مصنوعی دیوار بنائی گئیں ہیں، 2013 میں لاہور پارک میں بھی ایک ایسی مصنوعی دیوار بنائی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کئی اور کھیلوں کی طرح کوہ پیمائی بھی صنف کے لحاظ سے تقسیم نہیں، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس کا حصہ بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: کئی پاکستانی نوجوان کوہ پیما لڑکے لڑکیوں نے اسلام آباد کے مضافات میں نئی بلندیاں طے کرلیں۔</p><p class=''>پاکستان کے گلگت بلتستان میں موجود دنیا کی سب سے بڑی پہاڑی سلسلوں میں قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ شامل ہیں جو طویل عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔</p><p class=''>دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی بلندی 8611 میٹرز ہے، جسے دنیا کی بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں چڑھنے میں زیادہ مشکل تصور کیا جاتا ہے۔</p><p class=''>لیکن پہاڑی شمال کے پیشہ ور افراد کی کہانیوں کے باوجود ملک کے باقی حصوں میں پہاڑ چڑھنے کا یہ کھیل اتنا مقبول نہیں۔</p><p class=''>اسلام آباد میں ایکو ایڈوینچر کلب کے مالک نذیر احمد نے نوجوانوں کے لیے ایک ایکٹیویٹی کا اہتمام کیا جن کا ماننا ہے کہ اب کوہ پیمائی میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔</p><p class=''>ان کے مطابق اس کلب کا آغاز انہوں نے 4 سال قبل کیا تھا جس میں اب 500 ممبران شامل ہیں جو ہر ہفتے کو مرگلا پر جمع ہوتے ہیں۔</p><p class=''>ان میں سے کئی افراد کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہر کوہ پیما کو اس کی صلاحیت دیکھتے ہوئے آگے بھیجا جاتا ہے۔</p><p class=''>کئی مقامی افراد اس ٹریننگ میں حصہ لے رہے ہیں جو ایسے اپنا شوق ماننے لگے ہیں۔</p><p class=''>واضح رہے کہ کوہ پیمائی کو 2020 میں ٹوکیو میں ہونے والے اولمپک اسپورٹس کا پہلی بار حصہ بنایا جائے گا۔</p><p class=''>ہر شہر میں قدرتی پہاڑی سلسلے میں موجود نہیں اس لیے دوسرے شہروں میں اس ایکٹیویٹی کو جاری رکھنے کے کیے مصنوعی دیوار بنائی گئیں ہیں، 2013 میں لاہور پارک میں بھی ایک ایسی مصنوعی دیوار بنائی گئی۔</p><p class=''>کئی اور کھیلوں کی طرح کوہ پیمائی بھی صنف کے لحاظ سے تقسیم نہیں، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس کا حصہ بنتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1042079</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Aug 2016 15:46:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d39099a01.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d39099a01.jpg"/>
        <media:title>کلب کی ایک ممبر اسلام آباد کے نواہی علاقے شاہدرہ میں کوہ پیمائی کی ٹریننگ سیشن کو مکمل کررہی ہیں — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d38e18c57.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d38e18c57.jpg"/>
        <media:title>ٹریننگ سیشن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نظر آتی ہے — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d39297deb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d39297deb.jpg"/>
        <media:title>کلب کی اکثر خواتین ارکان بے خواف ہو کر پہاڑوں پر چڑھ رہی ہوتی ہیں — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d3929db4f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d3929db4f.jpg"/>
        <media:title>ٹرینگ کے دوران کوہ پیماء ایک دوسرے کی مدد بھی کر رہے ہوتے ہیں — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d392e2ee0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d392e2ee0.jpg"/>
        <media:title>چار سال کے دوران کوہ پیمائی کے اس کلب میں 500 لڑکے لڑکیاں ممبران بن چکے ہیں — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d394746ce.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d394746ce.jpg"/>
        <media:title>اس کلب کا آغاز  4 سال قبل کیا گیا تھا — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d39514794.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d39514794.jpg"/>
        <media:title>ہر کوہ پیما کو اس کی صلاحیت دیکھتے ہوئے آگے بھیجا جاتا ہے — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d394c39d1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d394c39d1.jpg"/>
        <media:title>کئی اور کھیلوں کی طرح کوہ پیمائی بھی صنف کے لحاظ سے تقسیم نہیں — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d38daad99.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d38daad99.jpg"/>
        <media:title>لاہور میں موجود ایک کلب میں کوہ پیمائی کی ٹریننگ جاری — فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57b2d39181361.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57b2d39181361.jpg"/>
        <media:title>لاہور کے انسٹرکٹر جمشید خان ایک مصنوعی دیوار پر چڑھ رہے ہیں— فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
