<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:14:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:14:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سادہ چاول موٹاپے کے خلاف مفید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1042785/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اگر تو آپ سفید چاول کھانے کے شوقین ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ موٹاپے سے بچاﺅ میں مدد دینے والی غذا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آرسیرو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق نشاستہ کی مزاحمت کرنے والے کاربوہائیڈریٹس کا استعمال موٹاپے کے کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ کاربوہائیڈریٹس بیج، اجناس، سفید چاول اور پاستا وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیق کے مطابق یہ کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور معدے میں فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جنھیں ہمارا جسم توانائی کے طور پر جلاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ کاربوہائیڈریٹس سفید ڈبل روٹی یا میٹھی اشیاءمیں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹس سے مختلف ہوتے ہیں جو فوری طور پر جسم میں جذب ہوکر جلنے کی بجائے چربی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفید چاول اور پاستا میں موٹاپے سے تحفظ دینے والے کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں اور سادہ چاول کا اکثر استعمال موٹاپے سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ جب نشاستہ کی مزاحمت کرنے والی غذا کا استعمال کیا جاتا ہے تو پیٹ جلد بھر جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ کھانے سے قاصر رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا جسمانی توانائی کا باعث بنتی ہے اور چربی کو گھلاتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ تحقیق طبی جریدے نیوٹریشن جرنل میں شائع ہوئی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اگر تو آپ سفید چاول کھانے کے شوقین ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ موٹاپے سے بچاﺅ میں مدد دینے والی غذا ہے۔</p><p class=''>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔</p><p class=''>آرسیرو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق نشاستہ کی مزاحمت کرنے والے کاربوہائیڈریٹس کا استعمال موٹاپے کے کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p><p class=''>یہ کاربوہائیڈریٹس بیج، اجناس، سفید چاول اور پاستا وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔</p><p class=''>تحقیق کے مطابق یہ کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور معدے میں فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جنھیں ہمارا جسم توانائی کے طور پر جلاتا ہے۔</p><p class=''>یہ کاربوہائیڈریٹس سفید ڈبل روٹی یا میٹھی اشیاءمیں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹس سے مختلف ہوتے ہیں جو فوری طور پر جسم میں جذب ہوکر جلنے کی بجائے چربی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور موٹاپے کا باعث بنتے ہیں۔</p><p class=''>اس تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفید چاول اور پاستا میں موٹاپے سے تحفظ دینے والے کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں اور سادہ چاول کا اکثر استعمال موٹاپے سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p><p class=''>تحقیق میں بتایا گیا کہ جب نشاستہ کی مزاحمت کرنے والی غذا کا استعمال کیا جاتا ہے تو پیٹ جلد بھر جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ کھانے سے قاصر رہتے ہیں۔</p><p class=''>محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا جسمانی توانائی کا باعث بنتی ہے اور چربی کو گھلاتی ہے۔</p><p class=''>یہ تحقیق طبی جریدے نیوٹریشن جرنل میں شائع ہوئی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1042785</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Aug 2016 00:37:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57c33d5dc279e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57c33d5dc279e.jpg"/>
        <media:title>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— کریٹیو کامنز فوٹو</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
