<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 18:46:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 18:46:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صومالیہ کے ہوٹل پر الشباب کا حملہ، 15 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1042947/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;موغادیشو: صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں صدارتی محل کے قریب واقع ایک مشہور ہوٹل پر شدت پسند تنظیم &amp;#39;الشباب&amp;#39; کے خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شدت پسندوں نے منگل کو ایک کار کو ایس وائی ایل ہوٹل کے باہر دھماکے سے اڑا دیا، جو صومالیہ کے صدارتی محل کے قریب ہی واقع ہے ۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; موغادیشو کے پولیس چیف بشار ابشیر غیدی نے بتایا کہ حملے میں 15 افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حملے کے وقت ہوٹل میں موجود متعدد صحافی بھی زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040922/' &gt;صومالیہ میں ایئرپورٹ کے قریب 2 دھماکے، 13ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایک عینی شاہد کے مطابق ایک زوردار دھماکا ہوا اور پھر جائے وقوع سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایلمی احمد نامی ایک شخص نے اے ایف پی کو بتایا کہ &amp;#39;میں نے اس علاقے کی طرف ایک کار کو جاتے دیکھا اور پھر دھویں اور آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیئے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دھماکے کے نتیجے میں سڑک، ارد گرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کئی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1032404' &gt;صومالیہ: ایک اور ہوٹل پر الشباب کا حملہ،20ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صدارتی محل سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ہوٹل تاجروں اور سفارتکاروں میں مشہور تھا، جس پر رواں برس جنوری اور فروری میں بھی حملے کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گذشتہ ہفتے بھی صومالیہ میں ساحل کے کنارے واقع ایک ریسٹورنٹ پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صومالیہ کی 22 ہزار سے زائد فورسز الشباب کے خلاف سرگرم عمل ہیں، جس نے 2011 میں موغادیشو میں کارروائیوں کا آغاز کیا اور جو اب بھی حکومتی فورسز کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>موغادیشو: صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں صدارتی محل کے قریب واقع ایک مشہور ہوٹل پر شدت پسند تنظیم &#39;الشباب&#39; کے خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے۔</p><p class=''>خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شدت پسندوں نے منگل کو ایک کار کو ایس وائی ایل ہوٹل کے باہر دھماکے سے اڑا دیا، جو صومالیہ کے صدارتی محل کے قریب ہی واقع ہے ۔</p><p class=''> موغادیشو کے پولیس چیف بشار ابشیر غیدی نے بتایا کہ حملے میں 15 افراد ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوئے۔</p><p class=''>انھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔</p><p class=''>حملے کے وقت ہوٹل میں موجود متعدد صحافی بھی زخمی ہوئے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1040922/' >صومالیہ میں ایئرپورٹ کے قریب 2 دھماکے، 13ہلاک</a></strong></p><p class=''>ایک عینی شاہد کے مطابق ایک زوردار دھماکا ہوا اور پھر جائے وقوع سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے۔</p><p class=''>ایلمی احمد نامی ایک شخص نے اے ایف پی کو بتایا کہ &#39;میں نے اس علاقے کی طرف ایک کار کو جاتے دیکھا اور پھر دھویں اور آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیئے&#39;۔</p><p class=''>دھماکے کے نتیجے میں سڑک، ارد گرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کئی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔</p><p class=''>القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1032404' >صومالیہ: ایک اور ہوٹل پر الشباب کا حملہ،20ہلاک</a></strong></p><p class=''>صدارتی محل سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ہوٹل تاجروں اور سفارتکاروں میں مشہور تھا، جس پر رواں برس جنوری اور فروری میں بھی حملے کیے جاچکے ہیں۔</p><p class=''>گذشتہ ہفتے بھی صومالیہ میں ساحل کے کنارے واقع ایک ریسٹورنٹ پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p><p class=''>صومالیہ کی 22 ہزار سے زائد فورسز الشباب کے خلاف سرگرم عمل ہیں، جس نے 2011 میں موغادیشو میں کارروائیوں کا آغاز کیا اور جو اب بھی حکومتی فورسز کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1042947</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Aug 2016 15:05:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/08/57c6ab05ca02a.jpg?r=222012288" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/08/57c6ab05ca02a.jpg?r=482479266"/>
        <media:title>الشباب کے شدت پسندوں نے ایک کار کو صدارتی محل کے قریب واقع ہوٹل کے باہر دھماکے سے اڑا دیا—۔فائل فوٹو/ اے پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
