<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:21:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:21:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہمند ایجنسی: نماز جمعہ میں خودکش دھماکا،24 ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1043728/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/zk2OgZsKpfo?enablejsapi=1' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;پشاور: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں خود کش دھماکے سے 24 افراد ہلاک جبکہ 31 زخمی ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایجنسی کی تحصیل انبار کے علاقے پائی خان میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/02/56c564c7421b6.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دھماکے کے وقت نماز جمعہ کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام پر پہنچ کر اسے فوری طور پر گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں کئی زخمی افراد کو باجوڑ ایجنسی اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس حوالے سے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے چارسدہ، باجوڑ ایجنسی اور پشاور ،منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکا خود کش تھا، حملہ آور مسجد کے برآمدے میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے نماز جمعہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ مہمند ایجنسی افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقے میں وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں سے ایک ہے.&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک افغان سرحد پر ان قبائلی علاقوں میں فوج متعدد آپریشنز کر چکی ہے جس کے بعد یہاں سیکیورٹی صورتحال بہتر کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مہمند ایجنسی کے ساتھ واقع خیبر ایجنسی میں گذشتہ 2 برس میں 2 آپریشن خیبر-ون اور خیبر-ٹو کیے گئے جبکہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مہمند ایجنسی میں امن کے لیے &amp;#39;امن کمیٹی&amp;#39; بھی بنائی گئی. رواں برس مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی کی کمیٹی نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار واپس کیے تھے، اس موقع پر امن کمیٹی کے چیف ملک سلطان نے کہا تھا کہ علاقے میں امن قائم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عبداللہ شاہ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انتظامیہ نے پہلی بار &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1030881' &gt;&lt;strong&gt;سرحدی چوکیوں کی حفاظت کے لیے 300 اہلکار تعینات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/zk2OgZsKpfo?enablejsapi=1' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''><strong>پشاور: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں خود کش دھماکے سے 24 افراد ہلاک جبکہ 31 زخمی ہو گئے۔</strong></p><p class=''>پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایجنسی کی تحصیل انبار کے علاقے پائی خان میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا ہوا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/02/56c564c7421b6.jpg'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>دھماکے کے وقت نماز جمعہ کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔</p><p class=''>دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p><p class=''>سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام پر پہنچ کر اسے فوری طور پر گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں کئی زخمی افراد کو باجوڑ ایجنسی اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔</p><p class=''>اس حوالے سے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے چارسدہ، باجوڑ ایجنسی اور پشاور ،منتقل کیا جا رہا ہے۔</p><p class=''>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکا خود کش تھا، حملہ آور مسجد کے برآمدے میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔</p><p class=''>صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے نماز جمعہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی گئی۔</p><p class=''>واضح رہے کہ مہمند ایجنسی افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقے میں وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں سے ایک ہے.</p><p class=''>پاک افغان سرحد پر ان قبائلی علاقوں میں فوج متعدد آپریشنز کر چکی ہے جس کے بعد یہاں سیکیورٹی صورتحال بہتر کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مہمند ایجنسی کے ساتھ واقع خیبر ایجنسی میں گذشتہ 2 برس میں 2 آپریشن خیبر-ون اور خیبر-ٹو کیے گئے جبکہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا۔</p><p class=''>مہمند ایجنسی میں امن کے لیے &#39;امن کمیٹی&#39; بھی بنائی گئی. رواں برس مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی کی کمیٹی نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار واپس کیے تھے، اس موقع پر امن کمیٹی کے چیف ملک سلطان نے کہا تھا کہ علاقے میں امن قائم ہو چکا ہے۔</p><p class=''>اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عبداللہ شاہ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انتظامیہ نے پہلی بار <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1030881' ><strong>سرحدی چوکیوں کی حفاظت کے لیے 300 اہلکار تعینات</strong></a> کئے ہیں۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1043728</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Sep 2016 22:40:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی اکبرویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57dbcf5ac5560.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57dbcf5ac5560.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
