<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Multimedia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:25:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 12:25:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں پولیس گردی کےخلاف سیاہ فام سراپا احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1044001/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;امریکا کی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد وہاں کی سیاہ فام برادری بڑھتی ہوئی پولیس گردی اور نسلی امتیاز کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے روز بھی جاری رہا اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے گورنر پیٹ میک کوری نے ایمرجنسی نافذ کردی  جبکہ نیشنل گارڈ ہائی وے پٹرول افسران کا ہدایات دیں کہ وہ مظاہرین کو قابو کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مدد کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں اب تک ایک شخص ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوچکا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی بلکہ ہلاک ہونے والا شخص مظاہرین کی کی فائرنگ سے مارا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ منگل 20 ستمبر کو پولیس اہلکار ایک مشتبہ شخص کو ڈھونڈ رہے تھے جو ایک اپارٹمنٹ کی پارکنگ میں چھپ گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس اہلکار وہاں پہنچے تو انہوں نے ایک سیاہ فام شخص 43 سالہ کیتھ لامونٹ اسکاٹ کو اپنی گاڑی سے ہاتھ میں پستول لیے اترتے ہوئے دیکھا۔ پولیس کے مطابق وہ شخص اہلکاروں کو دیکھ کر گھبراگیا اور واپس گاڑی میں بیٹھنے لگا، پولیس اہلکار اس کے نزدیک گئے اور اسے اسلحہ پھینک کر باہر آنے کا کہا لیکن وہ شخص اسلحہ کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کے مطابق اسکاٹ کے ہاتھ پر اسلحہ دیکھ کر افسران کو اپنی جان خطرے میں معلوم ہوئی اور ایک افسر برینٹلی ونسن نے گولی چلادی جو اسکاٹ کو لگی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ جس پولیس افسر نے اسکاٹ پر گولی چلائی وہ خود بھی سیاہ فام تھا جبکہ مقتول شخص کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب پولیس آئی تو اسکاٹ اپنے بیٹے کی اسکول سے واپسی کا بس اسٹاپ پر انتظار کررہا تھا اور اس کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ کتاب تھی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>امریکا کی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد وہاں کی سیاہ فام برادری بڑھتی ہوئی پولیس گردی اور نسلی امتیاز کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔</p><p class=''>فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے روز بھی جاری رہا اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے گورنر پیٹ میک کوری نے ایمرجنسی نافذ کردی  جبکہ نیشنل گارڈ ہائی وے پٹرول افسران کا ہدایات دیں کہ وہ مظاہرین کو قابو کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مدد کریں۔</p><p class=''>پولیس کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں اب تک ایک شخص ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوچکا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی بلکہ ہلاک ہونے والا شخص مظاہرین کی کی فائرنگ سے مارا گیا۔</p><p class=''>یاد رہے کہ منگل 20 ستمبر کو پولیس اہلکار ایک مشتبہ شخص کو ڈھونڈ رہے تھے جو ایک اپارٹمنٹ کی پارکنگ میں چھپ گیا تھا۔</p><p class=''>پولیس اہلکار وہاں پہنچے تو انہوں نے ایک سیاہ فام شخص 43 سالہ کیتھ لامونٹ اسکاٹ کو اپنی گاڑی سے ہاتھ میں پستول لیے اترتے ہوئے دیکھا۔ پولیس کے مطابق وہ شخص اہلکاروں کو دیکھ کر گھبراگیا اور واپس گاڑی میں بیٹھنے لگا، پولیس اہلکار اس کے نزدیک گئے اور اسے اسلحہ پھینک کر باہر آنے کا کہا لیکن وہ شخص اسلحہ کے ساتھ گاڑی سے باہر نکلا۔</p><p class=''>پولیس کے مطابق اسکاٹ کے ہاتھ پر اسلحہ دیکھ کر افسران کو اپنی جان خطرے میں معلوم ہوئی اور ایک افسر برینٹلی ونسن نے گولی چلادی جو اسکاٹ کو لگی۔</p><p class=''>دلچسپ بات یہ ہے کہ جس پولیس افسر نے اسکاٹ پر گولی چلائی وہ خود بھی سیاہ فام تھا جبکہ مقتول شخص کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب پولیس آئی تو اسکاٹ اپنے بیٹے کی اسکول سے واپسی کا بس اسٹاپ پر انتظار کررہا تھا اور اس کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ کتاب تھی۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Multimedia</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1044001</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Sep 2016 14:17:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e39481563de.jpg?r=318059518" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e39481563de.jpg?r=2032631592"/>
        <media:title>شارلٹ کے علاقے میں سب سے زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے جہاں سیاہ فام شخص کی ہلاکت ہوئی تھی—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e3947562fc8.jpg?r=2036858670" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e3947562fc8.jpg?r=956146842"/>
        <media:title>بعض مشتعل مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں اشتعال دلانے کی کوشش کی—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e3947589055.jpg?r=1061255406" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e3947589055.jpg?r=5626906"/>
        <media:title>پولیس کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال اور نسلی امتیاز کے خلاف مشتعل افراد نے املاک کو بھی نقصان پہنچایا—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e39474c8f6b.jpg?r=270513634" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e39474c8f6b.jpg?r=1869025617"/>
        <media:title>فائیو اسٹار ہوٹلز اور اہم عمارتوں کی حفاظت کے لیے پولیس کی ڈنڈا بردار فورس تعینات کی گئی—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e394757973e.jpg?r=1149723737" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e394757973e.jpg?r=30615478"/>
        <media:title>پولیس نے مظاہرین کو حساس مقامات کی جانب جانے سے روکا تو وہ سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کرنے لگے—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e394818221a.jpg?r=1353609794" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e394818221a.jpg?r=305636459"/>
        <media:title>کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے ہوئی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e39475b77f8.jpg?r=935824821" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e39475b77f8.jpg?r=587750732"/>
        <media:title>سیاہ فام مظاہرین مطالبہ کررہے تھے کہ نسل کی بنیاد پر انہیں قتل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e394743af12.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e394743af12.jpg"/>
        <media:title>مظاہرین نے ہاتھ اٹھا کر ریلی نکالی جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے گرفتار کیا جائے نہ کہ گولی مار دی جائے—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e39481880b6.jpg?r=2146473017" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e39481880b6.jpg?r=615847942"/>
        <media:title>مظاہرے میں بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جو یہ کہہ رہے تھے کہ سیاہ فام افراد کی زندگی بھی اہمیت رکھتی ہے—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e3947561f57.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e3947561f57.jpg"/>
        <media:title>پولیس کے خلاف احتجاج میں سفید فام افراد نے بھی شرکت کی —اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e39475a16f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e39475a16f4.jpg"/>
        <media:title>سیاہ فام نوجوانوں نے پولیس کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا— اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e3947449df2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e3947449df2.jpg"/>
        <media:title>یونیورسٹی کے طلبا نے زمین پر لیٹ کر مقتول اسکاٹ کو خراج عقیدت پیش کیا—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e394757f412.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e394757f412.jpg"/>
        <media:title>امریکا میں ماضی میں بھی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے واقعات سامنے آچکے ہیں—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e394801e933.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e394801e933.jpg"/>
        <media:title>ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسا ملک جس کا صدر خود سیاہ فام ہے وہاں نسلی امتیاز کی بات کرنا سمجھ سے بالاتر ہے—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e394816142e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e394816142e.jpg"/>
        <media:title>پولیس کے خلاف مظاہرین دوٹوک الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ ’انصاف نہیں تو امن نہیں‘—اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
