<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:48:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:48:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈیا میں پاکستانی ڈراموں پر بھی پابندی ؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1044146/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;پہلے تو بولی وڈ فلموں میں پاکستانی اداکاروں پر پابندی کی بات ہوئی اور اب پاکستانی ڈرامے بھی اس کی زد میں آنے والے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گزشتہ روز زی نیٹ ورک کے چیئرمین سبھاش چندرا نے اپنے ٹوئیٹس میں اس بات کا عندیہ دیا کہ ان کے چینیل زندگی ٹی وی کے پروگرامز پر نظرثانی کرتے ہوئے اس پر پاکستانی مواد نشر کرنے کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کے بقول یہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں کیے جانے والے خطاب کا ردعمل ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/subhashchandra/status/779686949346877440"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ پاکستانی فنکاروں کو ہندوستان سے جانا ہوگا اور ہماری توجہ اب پاکستانی ڈراموں کی بجائے انڈین مسلمانوں کی کہانیوں پر ہوگی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
			&lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
				&lt;a href="https://twitter.com/subhashchandra/status/779686949346877440"&gt;&lt;/a&gt;
			&lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;زندگی زی نیٹ ورک کا ایسا چینیل ہے جس پر پاکستان، مصر اور ترکی کے ڈراموں کو دکھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسی چینیل پر زندگی گلزار ہے اور ہمسفر ڈرامے نشر ہوئے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انڈین پاکستانی اسٹارز کے پرستار ہوگئے اور حال ہی میں اس چینیل پر فواد خان فیسٹیول کا انعقاد بھی ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چند روز پہلے انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق قوم پرست جماعت ایم این ایس چترا پت سنہا کے رکن امے کھوپکر نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’ہم پاکستانی اداکاروں اور آرٹسٹوں کو ہندوستان چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیتے ہیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو ایم این ایس جماعت خود انہیں باہر نکال دے گی‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1043955/' &gt;&amp;#39;ڈیئر فواد! اب وقت ہے کہ واپس پاکستان چلے جائیں&amp;#39;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کے کئی مقبول اداکار اور آرٹسٹ ہندوستان میں مختلف پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں جن میں فواد خان، علی ظفر، ماورا حسین، عمران عباس، ماہرہ خان، گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>پہلے تو بولی وڈ فلموں میں پاکستانی اداکاروں پر پابندی کی بات ہوئی اور اب پاکستانی ڈرامے بھی اس کی زد میں آنے والے ہیں۔</p><p class=''>گزشتہ روز زی نیٹ ورک کے چیئرمین سبھاش چندرا نے اپنے ٹوئیٹس میں اس بات کا عندیہ دیا کہ ان کے چینیل زندگی ٹی وی کے پروگرامز پر نظرثانی کرتے ہوئے اس پر پاکستانی مواد نشر کرنے کا سلسلہ ختم ہوسکتا ہے۔</p><p class=''>ان کے بقول یہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں کیے جانے والے خطاب کا ردعمل ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
				<a href="https://twitter.com/subhashchandra/status/779686949346877440"></a>
			</blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ پاکستانی فنکاروں کو ہندوستان سے جانا ہوگا اور ہماری توجہ اب پاکستانی ڈراموں کی بجائے انڈین مسلمانوں کی کہانیوں پر ہوگی۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
			<blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
				<a href="https://twitter.com/subhashchandra/status/779686949346877440"></a>
			</blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>زندگی زی نیٹ ورک کا ایسا چینیل ہے جس پر پاکستان، مصر اور ترکی کے ڈراموں کو دکھایا جاتا ہے۔</p><p class=''>اسی چینیل پر زندگی گلزار ہے اور ہمسفر ڈرامے نشر ہوئے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انڈین پاکستانی اسٹارز کے پرستار ہوگئے اور حال ہی میں اس چینیل پر فواد خان فیسٹیول کا انعقاد بھی ہوا۔</p><p class=''>چند روز پہلے انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق قوم پرست جماعت ایم این ایس چترا پت سنہا کے رکن امے کھوپکر نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’ہم پاکستانی اداکاروں اور آرٹسٹوں کو ہندوستان چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیتے ہیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو ایم این ایس جماعت خود انہیں باہر نکال دے گی‘۔</p><p class=''>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1043955/' >&#39;ڈیئر فواد! اب وقت ہے کہ واپس پاکستان چلے جائیں&#39;</a></p><p class=''>واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کے کئی مقبول اداکار اور آرٹسٹ ہندوستان میں مختلف پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں جن میں فواد خان، علی ظفر، ماورا حسین، عمران عباس، ماہرہ خان، گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم شامل ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1044146</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Sep 2016 17:20:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/09/57e7c044dbad6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/09/57e7c044dbad6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
