<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:03:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:03:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توہین رسالت کیس: آسیہ بی بی کی آخری اپیل کی سماعت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1045035/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;لاہور: توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف آخری اپیل کی سماعت جمعرات کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے یہ آسیہ بی  بی کی اپنی سزائے موت کے خلاف آخری اپیل ہوگی اور اگر یہ اپیل بھی مسترد ہوگئی تو پھر آسیہ کے پاس آخری راستہ براہ راست صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں ہو گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے ماہر مصطفیٰ قادری نے حال ہی میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقدمے میں پاکستانی ریاست اور عوام کا ضمیر داؤ پر لگا ہوا ہے: کیا پاکستان کمزور لوگوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے؟کیا پاکستان ان کے حقوق کا دفاع اس وقت بھی کرتا ہے جب لگائے جانے والے جھوٹے الزامات ان معاملات سے متعلق ہوں جنہیں بیشتر پاکستانی مقدس مانتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1024173' &gt;آسیہ بی بی کی سزائے موت پر عملدر آمد مؤخر&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;آسیہ بی بی کو 2010 میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی حالانکہ ان کے وکلاء آسیہ کی بے گناہی پر اصرار کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام جون 2009 میں لگایا گیا تھا جب ایک مقام پر مزدوری کے دوران ساتھ کام کرنے والی مسلم خواتین سے ان کا جھگڑا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسیہ سے پانی لانے کے لیے کہا گیا تھا تاہم وہاں موجود مسلم خواتین نے اعتراض کیا کہ چونکہ آسیہ غیر مسلم ہے لہٰذا اسے پانی کو نہیں چھونا چاہیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں خواتین مقامی مولوی کے پاس گئیں اور الزام لگایا کہ آسیہ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، پاکستان میں اس جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1012770' &gt;توہین رسالت کی مجرم آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ میں اپیل&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اس سے قبل بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف متعدد اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اور اگر اب سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزا برقرار رکھی اور ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا تو پاکستان میں توہین رسالت کے الزام میں دی جانے والی یہ پہلی سزا ہوگی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انسانی حقوق کے وکیل شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ ’اگر ایسا ہوگیا تو اس کے اقلیتوں، انسانی حقوق اور توہین رسالت کے قوانین پر ہولناک اثرات مرتب ہوں گے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے اور آسیہ بی بی کی سزائے موت پر عمل درآمد پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے لیے بڑا دھچکہ ہوگا جو پہلے ہی خوف کے سائے میں زندگی بسر کررہی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں ہوتا ہے تو ’دنیا کو ایک واضح پیغام جائے گا کہ پاکستان قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ آسیہ بی بی کے بری ہونے سے شدت پسندوں کا رد عمل انتہائی خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1010998' &gt;آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ 2011 میں پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو آسیہ بی بی کی حمایت میں بات کرنے پر اسلام آباد میں دن کی روشنی میں ان کے اپنے گارڈ نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر 2016 کے آغاز میں پھانسی دی گئی اور اس فیصلے کو ترقی پسند حلقوں کی جانب سے پذیرائی ملی تاہم شدت پسندوں نے احتجاج شروع کردیا تھا آسیہ بی بی کو بھی سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسیہ کے شوہر عاشق مسیح دو سال پہلے ہی ایک کھلے خط کے ذریعے صدر ممنون حسین سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے فرانس منتقل ہونے کی اجازت مانگ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ پیرس کے میئر نے کہا ہے کہ وہ آسیہ اور ان کے خاوند کو یہاں خوش آمدید کہیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;آسیہ کے اہل خانہ روپوشی پر مجبور&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;2010 کے بعد سے آسیہ بی بی کے اہل خانہ روپوشی پر مجبور ہیں اور انہیں لوگوں کی جانب سے بدسلوکی کا خوف ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسیہ بی بی کی 18 سالہ بیٹی ایشام نے بتایا کہ ’جب ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تو پاپا ہمیں کہتے تھے کہ باہر مت جاؤ ، باہر حالات بہت خراب ہیں، ہم سارا دن گھر کے اندر ہی رہتے تھے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسیہ بی بی کی دو بیٹیاں مہینے میں دو بار اپنی ماں سے ملنے ملتان جاتی ہیں جہاں انہیں قید رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہیومن رائٹس واچ کے مطابق آسیہ بی بی سمیت 17 افراد توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسیہ بی بی کے معاملہ سے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس بھی واقف ہیں اور گزشتہ برس اپریل میں ایشام نے پوپ فرانسس سے ملاقات بھی کی تھی جنہوں نے ان کی والدہ کی رہائی کے لیے دعا کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایشام بھی اپنی والدہ کی رہائی کے لیے پر امید ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پوپ فرانسس بھی دعا کررہے ہیں اور ان کی دعا سے میری والدہ رہا ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>لاہور: توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف آخری اپیل کی سماعت جمعرات کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔</p><p class=''>فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے یہ آسیہ بی  بی کی اپنی سزائے موت کے خلاف آخری اپیل ہوگی اور اگر یہ اپیل بھی مسترد ہوگئی تو پھر آسیہ کے پاس آخری راستہ براہ راست صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں ہو گا۔</p><p class=''>جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کے ماہر مصطفیٰ قادری نے حال ہی میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقدمے میں پاکستانی ریاست اور عوام کا ضمیر داؤ پر لگا ہوا ہے: کیا پاکستان کمزور لوگوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے؟کیا پاکستان ان کے حقوق کا دفاع اس وقت بھی کرتا ہے جب لگائے جانے والے جھوٹے الزامات ان معاملات سے متعلق ہوں جنہیں بیشتر پاکستانی مقدس مانتے ہیں‘۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1024173' >آسیہ بی بی کی سزائے موت پر عملدر آمد مؤخر</a></h6>
<p class=''>آسیہ بی بی کو 2010 میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی حالانکہ ان کے وکلاء آسیہ کی بے گناہی پر اصرار کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔</p><p class=''>آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام جون 2009 میں لگایا گیا تھا جب ایک مقام پر مزدوری کے دوران ساتھ کام کرنے والی مسلم خواتین سے ان کا جھگڑا ہوگیا تھا۔</p><p class=''>آسیہ سے پانی لانے کے لیے کہا گیا تھا تاہم وہاں موجود مسلم خواتین نے اعتراض کیا کہ چونکہ آسیہ غیر مسلم ہے لہٰذا اسے پانی کو نہیں چھونا چاہیے۔</p><p class=''>بعد ازاں خواتین مقامی مولوی کے پاس گئیں اور الزام لگایا کہ آسیہ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، پاکستان میں اس جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1012770' >توہین رسالت کی مجرم آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ میں اپیل</a></h6>
<p class=''>اس سے قبل بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف متعدد اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اور اگر اب سپریم کورٹ نے بھی ان کی سزا برقرار رکھی اور ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کردیا گیا تو پاکستان میں توہین رسالت کے الزام میں دی جانے والی یہ پہلی سزا ہوگی۔</p><p class=''>انسانی حقوق کے وکیل شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ ’اگر ایسا ہوگیا تو اس کے اقلیتوں، انسانی حقوق اور توہین رسالت کے قوانین پر ہولناک اثرات مرتب ہوں گے‘۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے اور آسیہ بی بی کی سزائے موت پر عمل درآمد پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے لیے بڑا دھچکہ ہوگا جو پہلے ہی خوف کے سائے میں زندگی بسر کررہی ہے‘۔</p><p class=''>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر فیصلہ آسیہ بی بی کے حق میں ہوتا ہے تو ’دنیا کو ایک واضح پیغام جائے گا کہ پاکستان قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے‘۔</p><p class=''>تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ آسیہ بی بی کے بری ہونے سے شدت پسندوں کا رد عمل انتہائی خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1010998' >آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد</a></h6>
<p class=''>واضح رہے کہ 2011 میں پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو آسیہ بی بی کی حمایت میں بات کرنے پر اسلام آباد میں دن کی روشنی میں ان کے اپنے گارڈ نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔</p><p class=''>سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر 2016 کے آغاز میں پھانسی دی گئی اور اس فیصلے کو ترقی پسند حلقوں کی جانب سے پذیرائی ملی تاہم شدت پسندوں نے احتجاج شروع کردیا تھا آسیہ بی بی کو بھی سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔</p><p class=''>آسیہ کے شوہر عاشق مسیح دو سال پہلے ہی ایک کھلے خط کے ذریعے صدر ممنون حسین سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے فرانس منتقل ہونے کی اجازت مانگ چکے ہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ پیرس کے میئر نے کہا ہے کہ وہ آسیہ اور ان کے خاوند کو یہاں خوش آمدید کہیں گے۔</p><h3>آسیہ کے اہل خانہ روپوشی پر مجبور</h3>
<p class=''>2010 کے بعد سے آسیہ بی بی کے اہل خانہ روپوشی پر مجبور ہیں اور انہیں لوگوں کی جانب سے بدسلوکی کا خوف ہے۔</p><p class=''>آسیہ بی بی کی 18 سالہ بیٹی ایشام نے بتایا کہ ’جب ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تو پاپا ہمیں کہتے تھے کہ باہر مت جاؤ ، باہر حالات بہت خراب ہیں، ہم سارا دن گھر کے اندر ہی رہتے تھے‘۔</p><p class=''>آسیہ بی بی کی دو بیٹیاں مہینے میں دو بار اپنی ماں سے ملنے ملتان جاتی ہیں جہاں انہیں قید رکھا گیا ہے۔</p><p class=''>ہیومن رائٹس واچ کے مطابق آسیہ بی بی سمیت 17 افراد توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت کے منتظر ہیں۔</p><p class=''>آسیہ بی بی کے معاملہ سے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس بھی واقف ہیں اور گزشتہ برس اپریل میں ایشام نے پوپ فرانسس سے ملاقات بھی کی تھی جنہوں نے ان کی والدہ کی رہائی کے لیے دعا کی تھی۔</p><p class=''>ایشام بھی اپنی والدہ کی رہائی کے لیے پر امید ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پوپ فرانسس بھی دعا کررہے ہیں اور ان کی دعا سے میری والدہ رہا ہوجائیں گی۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1045035</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Oct 2016 12:33:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/10/57fde67f9709a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/10/57fde67f9709a.jpg"/>
        <media:title>آسیہ بی بی —رائٹرز / فائل فوٹو</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
