<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:22:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:22:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی ترقیاتی بینک کا دیامر بھاشا ڈیم کی فنڈنگ سے انکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1045856/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 14 ارب ڈالر کے دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کی فنڈنگ سے انکار کرتے ہوئے گورننس کی بہتری کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کردیا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور تمام پاکستانیوں کو ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے ڈی بی کے صدر تکیہیکو نکاؤ نے کہا کہ ’یہ بہت بڑا پروجیکٹ ہے لہٰذا ہم نے اس سلسلے میں کوئی وعدہ نہیں کیا‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بات انہوں نے سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کو آپریشن پروگرام کے 15 ہویں سالانہ وزراء سطح کے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) دیامر بھاشا ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کررہی تھی اور چونکہ یہ پاکستان کی توانائی کی ضرورتوں اور آبپاشی کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے لہٰذا اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کے لیے مزید شراکت داروں کو اکھٹا کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1042918' &gt;سڑکوں کی بہتری:ایشیائی ترقیاتی بینک قرض دینے پر راضی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی تک اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا کیوں کہ اس کے لیے بہت زیادہ رقم درکار ہے تاہم ممکن ہے کہ اے ڈی بی پروجیکٹ کے اگلے مراحل میں اس کی فنڈنگ پر غور کرے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش اور 4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل اس منصوبے کی فنڈنگ کے لیے پہلے ایشیائی ترقیاتی بینک پر پاکستان کی نگاہیں تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس منصوبے پر سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کی جانب سے ورلڈ بینک کو رضامند کرنے کی کوششیں بھی دو برس قبل ناکام ہوگئی تھیں جب حکومت نے اس منصوبے کے لیے بھارت سے این او سی لینے سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے برعکس وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے عالمی بینک کی فنڈنگ کو قبول کرلیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت دونوں منصوبوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045848/' &gt;کرپشن اور ٹیکس چوری حکومت کیلئے بڑے مسائل قرار&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اے ڈی بی حکومت پاکستان کو مسلسل یہ مشورہ دے رہا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے کے ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے پیشہ وارانہ طرز عمل اپنایا جائے کیوں کہ اس کے لیے جتنی رقم درکار ہے اور کو خطرات ہیں اس تناظر میں کوئی بھی ایک ملک یا ادارہ اس کی مکمل فنڈنگ نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس مقصد کے لیے اے ڈی بی نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ دیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن، اراضی کے حصول اور ڈیم کے اسٹرکچر کو علیحدہ کریں اور ان میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کوشش کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکومت نے پروجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے یوایس ایڈ سے رابطہ کیا اور اسے انڈیپنڈنٹ پاور پروجیکٹ (آئی پی پی) کے طور پر تعمیر کرنے کے لیے امریکی سرمایہ کاروں سے سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکومت اس پروجیکٹ کے لیے اراضی کے حصول کی فنڈنگ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام فنڈز سے کررہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/117706' &gt;ورلڈ بینک دیامر بھاشا ڈیم میں سرمایہ کاری پر آمادہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اے ڈی بی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے پروگرام کی کامیابی سے تکمیل حوصلہ افزا ہے تاہم اسے اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سخت ساختیاتی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے جن میں اسمارٹ میٹرنگ بھی شامل ہے جبکہ سرکاری کمپنیوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی اور بیرونی نجی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہو اور وہ آگے بڑھ کر سرمایہ کاری کرسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرپشن، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ جاری رکھنا پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے اور حکومت کو ان خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ٹیکس بچانے سے متعلق آرگنائزیشن آف اکنامک کو آپریشن کے معاہدے پر دستخط کرنا پاکستان کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایک سوال کے جواب میں اے ڈی بی کے صدر کا کہنا تھا کہ لوگوں کے تحفظ اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045697/' &gt;پاکستان معاشی بحران سے باہر نکل چکا: آئی ایم ایف چیف&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ اے ڈی بی اس وقت سالانہ 1.5 ارب ڈالر پاکستان کو دے رہا ہے تاہم اس سلسلے میں رقم کی جلد از جلد تقسیم اور منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے تاکہ ان پروجیکٹس کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پروجیکٹس پر بھی عقلمندی کے ساتھ عمل درآمد کرے اور فنڈز کا بہتر طریقے سے استعمال کرے تاکہ قرض اور رقم کی واپسی میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی سی پیک کی طرح کے علاقائی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیوں کہ ان سے مشترکہ طور پر ترقی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں وزیر خزانہ اور اے ڈی بی کے صدر نے ’ریجنل امپرومنٹ آف بارڈر سروسز‘ کے لیے 25 کروڑ ڈالر قرض کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس معاہدے کے تحت طورخم، چمن اور واہگہ کی سرحد پر انتظام کاری کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان پروجیکٹس کا مقصد سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر انفرا اسٹرکچر کو جدید بنانا، اسکینرز، پیمائشی پل، آئی ٹی ہارڈویئر اینڈ سافٹ ویئر سپورٹ، لین دین کے لیے ون ونڈو سسٹم  وغیرہ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کو آپریشن کے اجلاس میں جارجیا کو باضابطہ طور پر 11 واں رکن ملک تسلیم کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس اتحاد میں افغانستان، آذربائیجان، چین، قازقستان، جمہوریہ کرغیز، منگولیا، تاجسکتان، ترکمانستان، ازبکستان اور پاکستان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اجلاس میں بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسیوں عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، جاپانی انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، یو ایس ایڈ، برطانیہ کے ڈی ایف آئی ڈی، یورپین بینک برائے ری کنسٹرکشن اینڈ دویلپمنٹ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے نمائندے بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 27 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 14 ارب ڈالر کے دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کی فنڈنگ سے انکار کرتے ہوئے گورننس کی بہتری کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کردیا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور تمام پاکستانیوں کو ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔</p><p class=''>وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے ڈی بی کے صدر تکیہیکو نکاؤ نے کہا کہ ’یہ بہت بڑا پروجیکٹ ہے لہٰذا ہم نے اس سلسلے میں کوئی وعدہ نہیں کیا‘۔</p><p class=''>یہ بات انہوں نے سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کو آپریشن پروگرام کے 15 ہویں سالانہ وزراء سطح کے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) دیامر بھاشا ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کررہی تھی اور چونکہ یہ پاکستان کی توانائی کی ضرورتوں اور آبپاشی کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے لہٰذا اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کے لیے مزید شراکت داروں کو اکھٹا کیا جانا چاہیے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1042918' >سڑکوں کی بہتری:ایشیائی ترقیاتی بینک قرض دینے پر راضی</a></h6>
<p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی تک اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا کیوں کہ اس کے لیے بہت زیادہ رقم درکار ہے تاہم ممکن ہے کہ اے ڈی بی پروجیکٹ کے اگلے مراحل میں اس کی فنڈنگ پر غور کرے‘۔</p><p class=''>واضح رہے کہ 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش اور 4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل اس منصوبے کی فنڈنگ کے لیے پہلے ایشیائی ترقیاتی بینک پر پاکستان کی نگاہیں تھیں۔</p><p class=''>اس منصوبے پر سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کی جانب سے ورلڈ بینک کو رضامند کرنے کی کوششیں بھی دو برس قبل ناکام ہوگئی تھیں جب حکومت نے اس منصوبے کے لیے بھارت سے این او سی لینے سے انکار کردیا تھا۔</p><p class=''>اس کے برعکس وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے عالمی بینک کی فنڈنگ کو قبول کرلیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت دونوں منصوبوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045848/' >کرپشن اور ٹیکس چوری حکومت کیلئے بڑے مسائل قرار</a></h6>
<p class=''>اے ڈی بی حکومت پاکستان کو مسلسل یہ مشورہ دے رہا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے کے ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے پیشہ وارانہ طرز عمل اپنایا جائے کیوں کہ اس کے لیے جتنی رقم درکار ہے اور کو خطرات ہیں اس تناظر میں کوئی بھی ایک ملک یا ادارہ اس کی مکمل فنڈنگ نہیں کرسکتا۔</p><p class=''>اس مقصد کے لیے اے ڈی بی نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ دیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن، اراضی کے حصول اور ڈیم کے اسٹرکچر کو علیحدہ کریں اور ان میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کوشش کریں۔</p><p class=''>حکومت نے پروجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے یوایس ایڈ سے رابطہ کیا اور اسے انڈیپنڈنٹ پاور پروجیکٹ (آئی پی پی) کے طور پر تعمیر کرنے کے لیے امریکی سرمایہ کاروں سے سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی۔</p><p class=''>حکومت اس پروجیکٹ کے لیے اراضی کے حصول کی فنڈنگ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام فنڈز سے کررہی ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/117706' >ورلڈ بینک دیامر بھاشا ڈیم میں سرمایہ کاری پر آمادہ</a></h6>
<p class=''>اے ڈی بی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے پروگرام کی کامیابی سے تکمیل حوصلہ افزا ہے تاہم اسے اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سخت ساختیاتی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے جن میں اسمارٹ میٹرنگ بھی شامل ہے جبکہ سرکاری کمپنیوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی اور بیرونی نجی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہو اور وہ آگے بڑھ کر سرمایہ کاری کرسکیں۔</p><p class=''>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرپشن، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ جاری رکھنا پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے اور حکومت کو ان خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ٹیکس بچانے سے متعلق آرگنائزیشن آف اکنامک کو آپریشن کے معاہدے پر دستخط کرنا پاکستان کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔</p><p class=''>ایک سوال کے جواب میں اے ڈی بی کے صدر کا کہنا تھا کہ لوگوں کے تحفظ اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045697/' >پاکستان معاشی بحران سے باہر نکل چکا: آئی ایم ایف چیف</a></h6>
<p class=''>ان کا کہنا تھا کہ اے ڈی بی اس وقت سالانہ 1.5 ارب ڈالر پاکستان کو دے رہا ہے تاہم اس سلسلے میں رقم کی جلد از جلد تقسیم اور منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے تاکہ ان پروجیکٹس کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔</p><p class=''>انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پروجیکٹس پر بھی عقلمندی کے ساتھ عمل درآمد کرے اور فنڈز کا بہتر طریقے سے استعمال کرے تاکہ قرض اور رقم کی واپسی میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی سی پیک کی طرح کے علاقائی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیوں کہ ان سے مشترکہ طور پر ترقی ہوتی ہے۔</p><p class=''>علاوہ ازیں وزیر خزانہ اور اے ڈی بی کے صدر نے ’ریجنل امپرومنٹ آف بارڈر سروسز‘ کے لیے 25 کروڑ ڈالر قرض کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔</p><p class=''>اس معاہدے کے تحت طورخم، چمن اور واہگہ کی سرحد پر انتظام کاری کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔</p><p class=''>ان پروجیکٹس کا مقصد سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر انفرا اسٹرکچر کو جدید بنانا، اسکینرز، پیمائشی پل، آئی ٹی ہارڈویئر اینڈ سافٹ ویئر سپورٹ، لین دین کے لیے ون ونڈو سسٹم  وغیرہ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔</p><p class=''>اس موقع پر وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کو آپریشن کے اجلاس میں جارجیا کو باضابطہ طور پر 11 واں رکن ملک تسلیم کرلیا گیا۔</p><p class=''>اس اتحاد میں افغانستان، آذربائیجان، چین، قازقستان، جمہوریہ کرغیز، منگولیا، تاجسکتان، ترکمانستان، ازبکستان اور پاکستان شامل ہیں۔</p><p class=''>اجلاس میں بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسیوں عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، جاپانی انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، یو ایس ایڈ، برطانیہ کے ڈی ایف آئی ڈی، یورپین بینک برائے ری کنسٹرکشن اینڈ دویلپمنٹ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے نمائندے بھی شامل تھے۔</p><p class=''><strong><em>یہ خبر 27 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1045856</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Oct 2016 09:25:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/10/58116d3aa6952.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/10/58116d3aa6952.jpg?0.028662473296389046"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/10/58116cee0c500.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/10/58116cee0c500.jpg"/>
        <media:title>اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں—فوٹو/ اے پی پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
