<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:38:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:38:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے پی کے کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے رکاوٹیں ہٹانے کاحکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1046023/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;لاہور/ پشاور:  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان پر حکومت  اسے شدید تنقید کا نشانہ بنارہی ہے لیکن دوسری جانب خود پنجاب حکومت اسی ڈگر پر گامزن ہے اور اس نے اسلام آباد آنے والے تمام داخلی راستوں کو بند کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پنجاب حکومت کے اس فیصلے نے نہ صرف عام شہریوں کو متاثر کیا بلکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پنجاب جانے والے اہم راستوں کی بندش کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے شاہراہوں پر رکاوٹیں لگاکر خیبر پختونخوا کو قید خانے میں تبدیل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مشتاق غنی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سزا دے سکتے ہیں لیکن انہیں پورے صوبے کے عوام کو تکلیف پہنچانے کا کوئی حق نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046018/' &gt;پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اسلام آباد آنے والے تمام افراد کی اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ رات گئے وزیر اعظم نواز شریف نے خیبر پختوانخوا کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات بھی جاری کیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سلسلے میں جب وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت نے اٹک کے قریب سڑکیں بند کیں تاکہ پی ٹی آئی کارکنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے جو اسلام آباد کی جانب جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ صوبے میں کسی بھی شاہراہ کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا البتہ اسلام آباد آنے والے تمام راستوں پر اسنیپ چیکنگ کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں رات گئے وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے تمام رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ موٹر وے پر رکاوٹیں جمعے کی شب لگائی گئیں تھیں جب 900 کے قریب مسلح افراد نے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور جب پولیس نے انہیں اٹک پل پر روکنے کی کوشش کی تو تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں علاقے کا ایس ایچ او زخمی بھی ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی مزید نفری کے آنے کے بعد مسلح افراد وہاں سے فرار ہوگئے اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد خیبر پختونخوا کو اسلام آباد سے ملانے والی موٹر وے سے تمام رکاوٹیں ہٹادی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046019/' &gt;’کنٹینرز کی رکاوٹ کے باعث کھائی میں گر کر فوجی ہلاک‘&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;قبل ازیں ہفتے کے روز پنجاب حکومت کے فیصلے کی وجہ سے پنجاب اور کے پی کے ، کے درمیان تمام سڑکوں پر ٹریفک معطل رہا بظاہر جس کا مقصد پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے رشکی انٹرچینج اور خیرآباد پل پر شپنگ کنٹینرز لگائے، پشاور اسلام آباد موٹر وے صوابی کے مقام پر بند تھی جبکہ مردان اور نوشہرہ روڈ پر بھی رکاوٹیں لگائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے حامیوں کی معاونت نہ کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس تمام صورتحال پر روزانہ سفر کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی سے عام آدمی کی زندگی جہنم بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں گزشتہ روز اسلام آباد کے بعد پنجاب بھر میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا اور یہ 8 نومبر تک نافذ رہے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہا تو صوبے میں اشیائے صرف کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045990/' &gt;’بنی گالا میں کوکین پہنچانے سے روکا گیا‘&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہائی ویز کو بند کرکے آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے تاہم ایسے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو اسلام آباد پہنچنے سے نہیں روکا جاسکتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر شاہ فرمان اور اسد قیصر نے کے پی کے میں کیمپس قائم کرکھے ہیں اور وہاں ورکرز کو جمع کررہے ہیں جنہیں لے کر وہ پنجاب میں اور پھر اسلام آباد جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو اٹک باؤنڈری پر ہی روک لیا جائے گا ، اٹک اور اسلام آباد کے درمیان پی ٹی آئی ورکرز کی چیکنگ کے لیے پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 30 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>لاہور/ پشاور:  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان پر حکومت  اسے شدید تنقید کا نشانہ بنارہی ہے لیکن دوسری جانب خود پنجاب حکومت اسی ڈگر پر گامزن ہے اور اس نے اسلام آباد آنے والے تمام داخلی راستوں کو بند کردیا۔</p><p class=''>پنجاب حکومت کے اس فیصلے نے نہ صرف عام شہریوں کو متاثر کیا بلکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔</p><p class=''>پنجاب جانے والے اہم راستوں کی بندش کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے شاہراہوں پر رکاوٹیں لگاکر خیبر پختونخوا کو قید خانے میں تبدیل کردیا ہے۔</p><p class=''>مشتاق غنی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سزا دے سکتے ہیں لیکن انہیں پورے صوبے کے عوام کو تکلیف پہنچانے کا کوئی حق نہیں۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046018/' >پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ</a></h6>
<p class=''>اسلام آباد آنے والے تمام افراد کی اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ رات گئے وزیر اعظم نواز شریف نے خیبر پختوانخوا کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات بھی جاری کیے۔</p><p class=''>اس سلسلے میں جب وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت نے اٹک کے قریب سڑکیں بند کیں تاکہ پی ٹی آئی کارکنوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے جو اسلام آباد کی جانب جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے وضاحت کی کہ صوبے میں کسی بھی شاہراہ کو مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا البتہ اسلام آباد آنے والے تمام راستوں پر اسنیپ چیکنگ کی جارہی ہے۔</p><p class=''>علاوہ ازیں رات گئے وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے تمام رکاوٹیں ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ موٹر وے پر رکاوٹیں جمعے کی شب لگائی گئیں تھیں جب 900 کے قریب مسلح افراد نے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور جب پولیس نے انہیں اٹک پل پر روکنے کی کوشش کی تو تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں علاقے کا ایس ایچ او زخمی بھی ہوا۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی مزید نفری کے آنے کے بعد مسلح افراد وہاں سے فرار ہوگئے اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد خیبر پختونخوا کو اسلام آباد سے ملانے والی موٹر وے سے تمام رکاوٹیں ہٹادی گئیں۔</p><h6>مزید پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046019/' >’کنٹینرز کی رکاوٹ کے باعث کھائی میں گر کر فوجی ہلاک‘</a></h6>
<p class=''>قبل ازیں ہفتے کے روز پنجاب حکومت کے فیصلے کی وجہ سے پنجاب اور کے پی کے ، کے درمیان تمام سڑکوں پر ٹریفک معطل رہا بظاہر جس کا مقصد پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنا تھا۔</p><p class=''>ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے رشکی انٹرچینج اور خیرآباد پل پر شپنگ کنٹینرز لگائے، پشاور اسلام آباد موٹر وے صوابی کے مقام پر بند تھی جبکہ مردان اور نوشہرہ روڈ پر بھی رکاوٹیں لگائی گئی تھیں۔</p><p class=''>اسلام آباد جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے حامیوں کی معاونت نہ کریں۔</p><p class=''>اس تمام صورتحال پر روزانہ سفر کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی سے عام آدمی کی زندگی جہنم بن گئی ہے۔</p><p class=''>علاوہ ازیں گزشتہ روز اسلام آباد کے بعد پنجاب بھر میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی جس کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا اور یہ 8 نومبر تک نافذ رہے گی۔</p><p class=''>مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ملانے والے شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہا تو صوبے میں اشیائے صرف کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045990/' >’بنی گالا میں کوکین پہنچانے سے روکا گیا‘</a></h6>
<p class=''>انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہائی ویز کو بند کرکے آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے تاہم ایسے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو اسلام آباد پہنچنے سے نہیں روکا جاسکتا۔</p><p class=''>دوسری جانب رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر شاہ فرمان اور اسد قیصر نے کے پی کے میں کیمپس قائم کرکھے ہیں اور وہاں ورکرز کو جمع کررہے ہیں جنہیں لے کر وہ پنجاب میں اور پھر اسلام آباد جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو اٹک باؤنڈری پر ہی روک لیا جائے گا ، اٹک اور اسلام آباد کے درمیان پی ٹی آئی ورکرز کی چیکنگ کے لیے پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ </p><p class=''><strong><em>یہ خبر 30 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1046023</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Oct 2016 11:25:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (منصور ملکذوالفقار علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/10/581563eee060c.jpg?r=197229542" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/10/581563eee060c.jpg?r=544256208"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/10/58156b551dc04.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/10/58156b551dc04.jpg?0.1969312615124118"/>
        <media:title>خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صوابی انٹرچینج کے قریب صحافیوں سے بات کررہے ہیں— فوٹو / آئی این پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
