<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:38:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:38:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کی حکومت کو بحران سے نکلنے کی پیشکش؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1046025/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بظاہر حکومت کو موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ وہ پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے 2 نومبر سے قبل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے قانون کو منظوری کرلے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکے اور پاناما پیپرز کی انکوائری کے حوالے سے اپوزیشن کے تیار کردہ بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کرلے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت سنجیدہ ہے تو وہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر پیش کردہ ٹی او آرز کے تحت انکوائری کمیشن کے قیام کے حوالے سے ایک آرڈیننس بھی جاری کرسکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046023/' &gt;کے پی کے کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے رکاوٹیں ہٹانے کاحکم&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت نے آپ کی یہ تجویز قبول کرلی تو کیا پی ٹی آئی 2 نومبر کا احتجاج منسوخ کردے گی تو انہوں نے کہا کہ ’صرف اعلان کافی نہیں ہوگا، ہم پارلیمنٹ میں عمل درآمد چاہتے ہیں، پہلے انہیں ایسا کرنے دیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ چند روز قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ دو میں سے ایک آپشن استعمال کرسکتے ہیں، یا تو وہ استعفیٰ دیں یا پھر اپوزیشن جماعتوں کے تیارہ کردہ ٹی او آرز کے تحت خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دریں اثناء اتوار کو اسلام آباد اور روالپنڈی میں صورتحال قدرے پر امن رہی البتہ عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان معمولی نوک جھوک دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہفتے کی صبح عمران خان اپنی رہائش گاہ سے باہر آکر وہاں موجود کارکنوں سے ملاقات کی تھی اور ان سے حال احوال پوچھا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عمران خان نے منتظمین سے کہا تھا کہ وہ بنی گالہ کے باہر موجود کارکنوں کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045947/' &gt;مجھے کس قانون کے تحت نظربند کیا گیا،عمران خان کا سوال&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;بعد ازاں عمران خان نے دستخط شدہ تحریری بیان جاری کیا تھا جس میں پاکستان کے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ 2 نومبر کو اپنے گھروں سے باہر نکلیں کیوں کہ یہ فیصلہ کن دن ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;قانون نافذ کرنے والے ادارے پارٹی کارکنوں یہاں تک کہ منتخب نمائندوں کو بھی عمران خان کی رہائش گاہ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے جبکہ انہوں نے ورکرز کو کھانا اندر بھیجنے کی بھی اجازت نہیں دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی مراد سعید نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے چیک پوائنٹ پر مذاکرات کیے تاہم انہیں بھی کھانے پینے کی اشیاء اندر نہیں لے جانے دی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 30 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بظاہر حکومت کو موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک موقع فراہم کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ وہ پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے 2 نومبر سے قبل جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے قانون کو منظوری کرلے۔</p><p class=''>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکے اور پاناما پیپرز کی انکوائری کے حوالے سے اپوزیشن کے تیار کردہ بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کرلے۔</p><p class=''>شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت سنجیدہ ہے تو وہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر پیش کردہ ٹی او آرز کے تحت انکوائری کمیشن کے قیام کے حوالے سے ایک آرڈیننس بھی جاری کرسکتی ہے‘۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046023/' >کے پی کے کو پنجاب سے ملانے والی ہائی ویز سے رکاوٹیں ہٹانے کاحکم</a></h6>
<p class=''>جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت نے آپ کی یہ تجویز قبول کرلی تو کیا پی ٹی آئی 2 نومبر کا احتجاج منسوخ کردے گی تو انہوں نے کہا کہ ’صرف اعلان کافی نہیں ہوگا، ہم پارلیمنٹ میں عمل درآمد چاہتے ہیں، پہلے انہیں ایسا کرنے دیں‘۔</p><p class=''>واضح رہے کہ چند روز قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ دو میں سے ایک آپشن استعمال کرسکتے ہیں، یا تو وہ استعفیٰ دیں یا پھر اپوزیشن جماعتوں کے تیارہ کردہ ٹی او آرز کے تحت خود کو احتساب کے لیے پیش کریں۔</p><p class=''>دریں اثناء اتوار کو اسلام آباد اور روالپنڈی میں صورتحال قدرے پر امن رہی البتہ عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان معمولی نوک جھوک دیکھنے میں آئی۔</p><p class=''>ہفتے کی صبح عمران خان اپنی رہائش گاہ سے باہر آکر وہاں موجود کارکنوں سے ملاقات کی تھی اور ان سے حال احوال پوچھا تھا۔</p><p class=''>عمران خان نے منتظمین سے کہا تھا کہ وہ بنی گالہ کے باہر موجود کارکنوں کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھیں۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1045947/' >مجھے کس قانون کے تحت نظربند کیا گیا،عمران خان کا سوال</a></h6>
<p class=''>بعد ازاں عمران خان نے دستخط شدہ تحریری بیان جاری کیا تھا جس میں پاکستان کے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ 2 نومبر کو اپنے گھروں سے باہر نکلیں کیوں کہ یہ فیصلہ کن دن ہوگا۔</p><p class=''>قانون نافذ کرنے والے ادارے پارٹی کارکنوں یہاں تک کہ منتخب نمائندوں کو بھی عمران خان کی رہائش گاہ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے جبکہ انہوں نے ورکرز کو کھانا اندر بھیجنے کی بھی اجازت نہیں دی۔</p><p class=''>پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی مراد سعید نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے چیک پوائنٹ پر مذاکرات کیے تاہم انہیں بھی کھانے پینے کی اشیاء اندر نہیں لے جانے دی گئیں۔</p><p class=''><strong><em>یہ خبر 30 اکتوبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1046025</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Oct 2016 09:03:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/10/58156dcd32a45.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/10/58156dcd32a45.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
