<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 07:20:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 07:20:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا چوہدری نثار کے خلاف مقدمے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1046318/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;پشاور: اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مارچ میں کارکنان پر تشدد  کے الزام میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، فرنٹیئر کونسٹیبلری (ایف سی) کے کمانڈنٹ لیاقت علی خان اور پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) مشتاق سکھیرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق احمد غنی  نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد میں کارکنوں کے ساتھ برتے جانے والے رویئے پر ان تینوں افراد پر کیس دائر کریں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو پرویز خٹک کی سربراہی میں اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے پی ٹی آئی کارکنان کے قافلے نے جب رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی، پہلے پنجاب اور خیبرپختونخوا سرحد پر حضرو کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کا تصادم ہوا اور پھر پشاور اسلام آباد موٹروے پر برہان انٹرچینج کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آئے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046073/' &gt;پی ٹی آئی کارکنان و پولیس برہان انٹرچینج پرآمنے سامنے&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;مشتاق احمد غنی کے مطابق، پولیس کو نہتے کارکنان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور تشدد کے احکامات دیئے گئے تھے اور پولیس نے کارکنان پر ربڑ کی گولیاں کا استعمال بھی کیا، پی ٹی آئی مارچ میں امن و امان کا کوئی خیال نہ رکھا گیا اور پولیس کو اس تشدد کی اجازت وزیر داخلہ سمیت ان تمام افراد نے دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ترجمان خیبر پختونخوا نے سوال اٹھایا کہ آخر کس قانون کے تحت پرامن پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد کے احکامات جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید بتانا تھا کہ ایف آئی آر پنجاب کے پولیس اسٹیشن میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے جن کے احکامات کے مطابق یہ تشدد کیا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی وکلا سے اس بارے میں مزید مشاورت جاری ہے۔  &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 4 نومبر 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>پشاور: اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مارچ میں کارکنان پر تشدد  کے الزام میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، فرنٹیئر کونسٹیبلری (ایف سی) کے کمانڈنٹ لیاقت علی خان اور پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) مشتاق سکھیرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا فیصلہ کرلیا۔</p><p class=''>خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق احمد غنی  نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد میں کارکنوں کے ساتھ برتے جانے والے رویئے پر ان تینوں افراد پر کیس دائر کریں گے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو پرویز خٹک کی سربراہی میں اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے پی ٹی آئی کارکنان کے قافلے نے جب رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی، پہلے پنجاب اور خیبرپختونخوا سرحد پر حضرو کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کا تصادم ہوا اور پھر پشاور اسلام آباد موٹروے پر برہان انٹرچینج کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آئے۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046073/' >پی ٹی آئی کارکنان و پولیس برہان انٹرچینج پرآمنے سامنے</a></h6>
<p class=''>مشتاق احمد غنی کے مطابق، پولیس کو نہتے کارکنان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور تشدد کے احکامات دیئے گئے تھے اور پولیس نے کارکنان پر ربڑ کی گولیاں کا استعمال بھی کیا، پی ٹی آئی مارچ میں امن و امان کا کوئی خیال نہ رکھا گیا اور پولیس کو اس تشدد کی اجازت وزیر داخلہ سمیت ان تمام افراد نے دی۔</p><p class=''>ترجمان خیبر پختونخوا نے سوال اٹھایا کہ آخر کس قانون کے تحت پرامن پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد کے احکامات جاری کیے گئے۔</p><p class=''>ان کا مزید بتانا تھا کہ ایف آئی آر پنجاب کے پولیس اسٹیشن میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے جن کے احکامات کے مطابق یہ تشدد کیا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی وکلا سے اس بارے میں مزید مشاورت جاری ہے۔  </p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 4 نومبر 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1046318</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Nov 2016 13:18:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/11/581c3c7dd8de2.jpg?r=567850846" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/11/581c3c7dd8de2.jpg?r=1838445584"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
