<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 00:22:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 00:22:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پارلیمنٹ کا بائیکاٹ: پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی کو تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1046905/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی جانب سے ترک صدر طیب اردگان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کے کئی ارکان اور دیگر جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد عمران خان نے اس فیصلے پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ترک سفیر صادق بابر گرگن کی درخواست کے بعد ان کی جماعت نے فیصلے پرنظرثانی کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے 3 رکنی وفد نے 14 نومبر کی دوپہر ترک سفیر سے ملاقات کی تاکہ انہیں ترک صدر کے پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ سے متعلق پی ٹی آئی کے فیصلے کے پس منظر سے آگاہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شفقت محمود اور منزہ حسن بھی اس وفد کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046835/' &gt;پارلیمنٹ کا بائیکاٹ، پی ٹی آئی کے اندر ہی پھوٹ پڑ گئی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;شاہ محمود قریشی کے مطابق انہوں نے ترک سفیر کو آگاہ کیا کہ ان کی جماعت کے لیے ترک صدر بہت محترم ہیں اور اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ چند اندرونی معاملات کی وجہ سے کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ترک سفیر کو بتایا کہ پی ٹی آئی ترکی کو پاکستان کا ’مخلص دوست‘ اور برادراسلامی ملک سمجھتی ہے اور ترک صدر کے لیے بہت تعظیم رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی رہنما کے مطابق وفد نے ترک سفیر کو پاناما لیکس کے معاملے، جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ بنچ کی سماعت جاری ہے، پر پارٹی کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک سفیر نے بتایا کہ وہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ وہ اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شاہ محمود قریشی کے مطابق ترک سفیر نے ان سے درخواست کی کہ وہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رہنما پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے عمران خان کو وفد اور ترک سفیر کی ملاقات اور بات چیت سے آگاہ کردیا جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلے پر نظرثانی کے لیے رضامندی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046797/' &gt;’پی ٹی آئی ترک صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرے گی‘&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;شاہ محمود قریشی کا یہ بھی بتانا تھا کہ عمران خان نے منگل 15 نومبر کو پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد پارٹی کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ہفتہ 12 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ اس کے ارکان، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ترک صدر رجب طیب اردگان کے خطاب میں شرکت نہیں کریں گے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک ایسے متنازع وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے جس پر کرپشن کے الزامات ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی کی ’اسٹریٹجی کمیٹی‘ کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے کو نہ صرف سیاسی مخالفین نے تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ جماعت کے کئی رہنماؤں نے بھی ناراضی کا اظہار کیا، پی ٹی آئی کے کئی سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی نے شکوہ کیا تھا کہ اس معاملے پر پارٹی قیادت نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ اہم فیصلے میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی کررہی ہے جسے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے حوالے سے پارٹی کا موقف تیار کرنے کے لیے اور پاناما کے معاملے پر وزراء کے بیانات کا جواب دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; چند ارکان اسمبلی نے ان خیال کا اظہار بھی کیا کہ قومی اسمبلی کے مسلسل بائیکاٹ کی منطق سمجھ سے باہر ہے جبکہ پارٹی کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ کہ وزیراعظم خود کو احتساب کے لیے پیش کریں، پورا ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پارٹی سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد اپنا دھرنا منسوخ کرسکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ جاری رکھنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی نے جماعت کی جانب سے نظرثانی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دیر سے ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے عمران خان کی جانب سے منگل 15 نومبر کو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی کے مطابق انہیں خوشی ہے کہ عمران خان، جن پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اہم معاملات پر پارٹی سے مشاورت کے بغیر اکیلے فیصلے لے لیتے ہیں،نے پارلیمانی گروپ کی اہمیت کو مدنظر رکھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیا تھا کہ پارٹی قیادت نے وقت کی کمی کی وجہ سے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی مشاورت کے بغیر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 15 نومبر 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی جانب سے ترک صدر طیب اردگان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کے کئی ارکان اور دیگر جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد عمران خان نے اس فیصلے پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا۔</p><p class=''>ڈان سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ترک سفیر صادق بابر گرگن کی درخواست کے بعد ان کی جماعت نے فیصلے پرنظرثانی کا فیصلہ کیا۔</p><p class=''>شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے 3 رکنی وفد نے 14 نومبر کی دوپہر ترک سفیر سے ملاقات کی تاکہ انہیں ترک صدر کے پارلیمنٹ سے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ سے متعلق پی ٹی آئی کے فیصلے کے پس منظر سے آگاہ کیا جاسکے۔</p><p class=''>تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شفقت محمود اور منزہ حسن بھی اس وفد کا حصہ تھے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046835/' >پارلیمنٹ کا بائیکاٹ، پی ٹی آئی کے اندر ہی پھوٹ پڑ گئی</a></h6>
<p class=''>شاہ محمود قریشی کے مطابق انہوں نے ترک سفیر کو آگاہ کیا کہ ان کی جماعت کے لیے ترک صدر بہت محترم ہیں اور اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ چند اندرونی معاملات کی وجہ سے کیا گیا۔</p><p class=''>شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ترک سفیر کو بتایا کہ پی ٹی آئی ترکی کو پاکستان کا ’مخلص دوست‘ اور برادراسلامی ملک سمجھتی ہے اور ترک صدر کے لیے بہت تعظیم رکھتی ہے۔</p><p class=''>پی ٹی آئی رہنما کے مطابق وفد نے ترک سفیر کو پاناما لیکس کے معاملے، جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ بنچ کی سماعت جاری ہے، پر پارٹی کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔</p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک سفیر نے بتایا کہ وہ ملک میں جاری سیاسی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ وہ اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔</p><p class=''>شاہ محمود قریشی کے مطابق ترک سفیر نے ان سے درخواست کی کہ وہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کریں۔</p><p class=''>رہنما پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے عمران خان کو وفد اور ترک سفیر کی ملاقات اور بات چیت سے آگاہ کردیا جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلے پر نظرثانی کے لیے رضامندی ظاہر کی۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046797/' >’پی ٹی آئی ترک صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرے گی‘</a></h6>
<p class=''>شاہ محمود قریشی کا یہ بھی بتانا تھا کہ عمران خان نے منگل 15 نومبر کو پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد پارٹی کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ </p><p class=''>واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ہفتہ 12 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ اس کے ارکان، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ترک صدر رجب طیب اردگان کے خطاب میں شرکت نہیں کریں گے۔ </p><p class=''>پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایک ایسے متنازع وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے جس پر کرپشن کے الزامات ہیں۔</p><p class=''>پی ٹی آئی کی ’اسٹریٹجی کمیٹی‘ کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے کو نہ صرف سیاسی مخالفین نے تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ جماعت کے کئی رہنماؤں نے بھی ناراضی کا اظہار کیا، پی ٹی آئی کے کئی سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی نے شکوہ کیا تھا کہ اس معاملے پر پارٹی قیادت نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ </p><p class=''>انہوں نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ اہم فیصلے میڈیا اسٹریٹجی کمیٹی کررہی ہے جسے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے حوالے سے پارٹی کا موقف تیار کرنے کے لیے اور پاناما کے معاملے پر وزراء کے بیانات کا جواب دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔</p><p class=''> چند ارکان اسمبلی نے ان خیال کا اظہار بھی کیا کہ قومی اسمبلی کے مسلسل بائیکاٹ کی منطق سمجھ سے باہر ہے جبکہ پارٹی کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ کہ وزیراعظم خود کو احتساب کے لیے پیش کریں، پورا ہوچکا ہے۔</p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پارٹی سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد اپنا دھرنا منسوخ کرسکتی ہے تو پھر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ جاری رکھنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔</p><p class=''>دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی نے جماعت کی جانب سے نظرثانی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دیر سے ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے‘۔</p><p class=''>انہوں نے عمران خان کی جانب سے منگل 15 نومبر کو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔</p><p class=''>پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی کے مطابق انہیں خوشی ہے کہ عمران خان، جن پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اہم معاملات پر پارٹی سے مشاورت کے بغیر اکیلے فیصلے لے لیتے ہیں،نے پارلیمانی گروپ کی اہمیت کو مدنظر رکھا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیا تھا کہ پارٹی قیادت نے وقت کی کمی کی وجہ سے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی مشاورت کے بغیر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ </p><p class=''><strong><em>یہ خبر 15 نومبر 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1046905</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Nov 2016 11:53:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/11/582a94ab55b67.jpg?r=1689464397" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/11/582a94ab55b67.jpg?r=1553701507"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
