<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:17:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:17:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی آبدوز کو پاکستانی سمندر سے باہر کیسے دھکیلا گیا؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1047167/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;پاک بحریہ نے 18 نومبر کو پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر اسے اپنی سمندری حدود سے نکال باہر کرنے کا انکشاف کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان حالات میں کہ جب نئی دہلی کی جانب سے اس خبر کی تردید کی جاچکی ہے پاکستانی دفاعی تجزیہ کار خیال ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آبدوز خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے مقصد سے پاکستانی سمندری علاقے میں اور اس کے آس پاس موجود تھی، واضح رہے کہ اس آبدوز کے سامنے آنے کا وقت اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے گوادر کی بندرگاہ سے پہلے بیڑے کے روانہ ہونے کا وقت تقریباً ایک ہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماہر اینٹی سب میرین، ریٹائرڈ کموڈر ظفر اقبال خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ آبدوز شاید ساحل کے نزدیک پہنچ کر دہشت گرد گروہوں تک تخریب کاری کے لیے اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش میں ہو۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;خفیہ آپریشنز میں آبدوز کا استعمال&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;خصوصی آپریشنل پیرامیٹرز کی وجہ سے آبدوزوں کو اس قسم کی کارروائیوں کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چونکہ بھارتی بحریہ کا آبدوزوں کے ذریعے باقاعدہ خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کا کوئی نظام نہیں، ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ مشن ان 15 میں سے کوئی ایک آبدوز انجام دے رہی تھی جو بھارتی بحریہ کی زیر سمندر بیڑے کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1047119/' &gt;بھارتی آبدوز کی پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;تاہم، چند آبدوزوں کے خراب یا مرمت کے لیے بھیجے جانے کی باعث بھارتی بحریہ کی موجودہ آپریشنل صلاحیت 15 آبدوزورں سے کم ہے، جبکہ بیڑے میں موجود چند آبدوزیں اپنی آپریشنل لائف کا 75 فیصد گزار چکی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھارتی بحریہ کی آبدوزوں کا یہ بیڑہ ممبئی کے مغربی حصے اور وساکھاپتنم کے مشرقی ساحل پر موجود ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;صلاحیت&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;1980 میں لانچ کی جانے والی بھارتی بحریہ کے آبدوزوں کا بیڑہ 10 ڈیزل الیکٹرک کلو کلاس پر مشتمل ہے جسے بھارتی بحریہ میں &lt;strong&gt;’سندھوگوش کلاس‘&lt;/strong&gt; کا نام دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھارتی نیوی میں ایٹمی توانائی سے لیس ایکولا کلاس کشتی بھی شامل ہے، جسے روسی فیڈریشن سے 10 سال کی لیز پر بھارتی بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک بحریہ کی جانب سے محدود کی جانے والی بھارتی آبدوز کے بارے میں بھی یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ سندھو گوش کلاس کی آبدوز تھی، اس آبدوز کی زیادہ سے زیادہ رفتار 18 ناٹس کے قریب ہے اور یہ 800 فیٹ گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، رپورٹ کے مطابق، 53 افسروں اور ملاحوں سے لیس یہ آبدوز تقریباً 45 دن تک زیر سمندر رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں کھوج میں نہ آنے کے سبب اپنا مشن جاری رکھتی ہیں اور توانائی کا بہترین بچاؤ کرتے ہوئے آواز نہ کرنے کے سخت اصول پر کاربند رہتی ہیں، لیکن ان آبدوزوں کو معمول کے مطابق سطح پر آنا پڑتا ہے یا بیٹریز کو چارج کرنے کے لیے آبدوز کو اسنارکلنگ کی گہرائی تک لانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جب تک آبدوز کی بیٹری چارج نہ ہوجائے اسے حرکت میں رہنے اور توانائی حاصل کرنے کے لیے ڈیزل انجن پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آبدوزوں کے کمانڈر، وائس ایڈمرل ریٹائرڈ تسنیم کہتے ہیں کہ ’انڈین آبدوز کے پیری اسکوپ سطح تک  آنے کی وجہ شاید اس کی بیٹریز کا خشک ہوجانا تھا اور اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سطح پر آکر بیٹریز کو چارج کرے‘۔&lt;/p&gt;&lt;h3&gt;کیا انکشاف ہوا؟&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;اس مخصوص معاملے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آبدوز اسنارکلنگ کے دوران پہچان کے قابل ہوئی اور پکڑ میں آئی، جس کے بعد پاکستان بحریہ کے اینٹی سب میرین وارفیئر (اے ایس ڈبلیو) نے اس کی کھوج لگائی یا ریڈار اور سونار سے اس کی اطلاع حاصل کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سونار جہاز سے آنے والی آواز کی لہروں کو واپس بھیجتا ہے جبکہ ریڈار سمندر کی سطح پر یا زیرِ سطح ہونے والی کسی بھی تبدیلی کوکھوج سکتا ہے، آبدوز کے ایک بار پکڑ میں آنے کے بعد اے ایس ڈبلیو کی خصوصی ٹیم اور حدود میں داخل ہونے والی آبدوز کے درمیان چوہے بلی کا کھیل شروع ہوجاتا ہے جو آبدوز کے مقام کی معلومات تک رسائی حاصل کرنے تک جاری رہتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1043268/' &gt;پاکستان میری ٹائم ڈاکٹرائن کی تیاری میں مصروف&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt; اگر بھارتی آبدوز اسنارکلنگ کے بعد پانی میں واپس چلی بھی گئی تھی تو پاک بحریہ اے ایس ڈبلیو کو اس کی موجودگی کا اندازہ ہوچکا تھا اور یہ معلومات سرفیس یونٹس کو فراہم کرنے کے بعد آبدوز کی تلاش اور مقام کی نشاندہی کا آغاز کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایڈمرل تسنیم کے مطابق، آبدوز اسنارکلنگ کررہی تھی کیونکہ اسے علم ہوگیا تھا کہ اسے کھوجا جاچکا ہے اور بیٹری کو مزید ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حاصل ہونے والی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اے ایس ڈبلیو کے ہیلی کاپٹرز اور جہاز جن میں پی 3سی اوریون اور اٹلانٹک شامل ہیں، ان کی جانب سے سونوبوائز گرا کر آبدوز کو گھیرے میں لیا گیا ہوگا جبکہ ہیلی کاپٹروں سے بھیجے گئے سونارز کی مدد سے بھی سونار پنگس کی معلومات حاصل کی گئی ہوگی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسی معاملے سے جڑے ذرائع نے تصدیق کی کہ آبدوز کی موجودگی کو پہلے اے ایس ڈبلیو نے محسوس کیا جس کے بعد تلاش میں سرفیس یونٹس بھی شامل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک بحریہ کی جانب سے کی جانے والی اس ساری کارروائی کا اندازہ بھارتی آبدوز نے بھی لگالیا ہوگا جس سے انہیں اپنے پکڑے جانے کی تصدیق ہوگئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاک بحریہ کے علم میں آجانے کے بعد آبدوز کے عملے کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ پلٹ کر اپنی بندرگاہوں کی جانب لوٹ جائیں اور پاکستانی اے ایس ڈبلیو نے بھی اپنا گھیرا اس وقت تک برقرار رکھا ہوگا جب تک آبدوز کا پاکستانی علاقے سے نکل جانے کا یقین نہیں ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آبدوزوں سے جڑی تمام کارروائیاں مہارت، تربیت اور حاضر دماغی کا نچوڑ ہوتی ہیں، ایسی صورتحال میں جو فریق اپنے اعصاب پر قابو پالے وہی برتری لے جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>پاک بحریہ نے 18 نومبر کو پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر اسے اپنی سمندری حدود سے نکال باہر کرنے کا انکشاف کیا۔</p><p class=''>ان حالات میں کہ جب نئی دہلی کی جانب سے اس خبر کی تردید کی جاچکی ہے پاکستانی دفاعی تجزیہ کار خیال ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آبدوز خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے مقصد سے پاکستانی سمندری علاقے میں اور اس کے آس پاس موجود تھی، واضح رہے کہ اس آبدوز کے سامنے آنے کا وقت اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے گوادر کی بندرگاہ سے پہلے بیڑے کے روانہ ہونے کا وقت تقریباً ایک ہی ہے۔</p><p class=''>ماہر اینٹی سب میرین، ریٹائرڈ کموڈر ظفر اقبال خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ آبدوز شاید ساحل کے نزدیک پہنچ کر دہشت گرد گروہوں تک تخریب کاری کے لیے اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش میں ہو۔</p><h3>خفیہ آپریشنز میں آبدوز کا استعمال</h3>
<p class=''>خصوصی آپریشنل پیرامیٹرز کی وجہ سے آبدوزوں کو اس قسم کی کارروائیوں کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔</p><p class=''>چونکہ بھارتی بحریہ کا آبدوزوں کے ذریعے باقاعدہ خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کا کوئی نظام نہیں، ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ مشن ان 15 میں سے کوئی ایک آبدوز انجام دے رہی تھی جو بھارتی بحریہ کی زیر سمندر بیڑے کا حصہ ہے۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1047119/' >بھارتی آبدوز کی پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش</a></h6>
<p class=''>تاہم، چند آبدوزوں کے خراب یا مرمت کے لیے بھیجے جانے کی باعث بھارتی بحریہ کی موجودہ آپریشنل صلاحیت 15 آبدوزورں سے کم ہے، جبکہ بیڑے میں موجود چند آبدوزیں اپنی آپریشنل لائف کا 75 فیصد گزار چکی ہیں۔</p><p class=''>بھارتی بحریہ کی آبدوزوں کا یہ بیڑہ ممبئی کے مغربی حصے اور وساکھاپتنم کے مشرقی ساحل پر موجود ہوتا ہے۔</p><h3>صلاحیت</h3>
<p class=''>1980 میں لانچ کی جانے والی بھارتی بحریہ کے آبدوزوں کا بیڑہ 10 ڈیزل الیکٹرک کلو کلاس پر مشتمل ہے جسے بھارتی بحریہ میں <strong>’سندھوگوش کلاس‘</strong> کا نام دیا جاتا ہے۔</p><p class=''>بھارتی نیوی میں ایٹمی توانائی سے لیس ایکولا کلاس کشتی بھی شامل ہے، جسے روسی فیڈریشن سے 10 سال کی لیز پر بھارتی بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔</p><p class=''>پاک بحریہ کی جانب سے محدود کی جانے والی بھارتی آبدوز کے بارے میں بھی یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ سندھو گوش کلاس کی آبدوز تھی، اس آبدوز کی زیادہ سے زیادہ رفتار 18 ناٹس کے قریب ہے اور یہ 800 فیٹ گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، رپورٹ کے مطابق، 53 افسروں اور ملاحوں سے لیس یہ آبدوز تقریباً 45 دن تک زیر سمندر رہ سکتی ہے۔</p><p class=''>ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں کھوج میں نہ آنے کے سبب اپنا مشن جاری رکھتی ہیں اور توانائی کا بہترین بچاؤ کرتے ہوئے آواز نہ کرنے کے سخت اصول پر کاربند رہتی ہیں، لیکن ان آبدوزوں کو معمول کے مطابق سطح پر آنا پڑتا ہے یا بیٹریز کو چارج کرنے کے لیے آبدوز کو اسنارکلنگ کی گہرائی تک لانا پڑتا ہے۔</p><p class=''>جب تک آبدوز کی بیٹری چارج نہ ہوجائے اسے حرکت میں رہنے اور توانائی حاصل کرنے کے لیے ڈیزل انجن پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔</p><p class=''>آبدوزوں کے کمانڈر، وائس ایڈمرل ریٹائرڈ تسنیم کہتے ہیں کہ ’انڈین آبدوز کے پیری اسکوپ سطح تک  آنے کی وجہ شاید اس کی بیٹریز کا خشک ہوجانا تھا اور اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سطح پر آکر بیٹریز کو چارج کرے‘۔</p><h3>کیا انکشاف ہوا؟</h3>
<p class=''>اس مخصوص معاملے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آبدوز اسنارکلنگ کے دوران پہچان کے قابل ہوئی اور پکڑ میں آئی، جس کے بعد پاکستان بحریہ کے اینٹی سب میرین وارفیئر (اے ایس ڈبلیو) نے اس کی کھوج لگائی یا ریڈار اور سونار سے اس کی اطلاع حاصل کی۔</p><p class=''>سونار جہاز سے آنے والی آواز کی لہروں کو واپس بھیجتا ہے جبکہ ریڈار سمندر کی سطح پر یا زیرِ سطح ہونے والی کسی بھی تبدیلی کوکھوج سکتا ہے، آبدوز کے ایک بار پکڑ میں آنے کے بعد اے ایس ڈبلیو کی خصوصی ٹیم اور حدود میں داخل ہونے والی آبدوز کے درمیان چوہے بلی کا کھیل شروع ہوجاتا ہے جو آبدوز کے مقام کی معلومات تک رسائی حاصل کرنے تک جاری رہتا ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1043268/' >پاکستان میری ٹائم ڈاکٹرائن کی تیاری میں مصروف</a></h6>
<p class=''> اگر بھارتی آبدوز اسنارکلنگ کے بعد پانی میں واپس چلی بھی گئی تھی تو پاک بحریہ اے ایس ڈبلیو کو اس کی موجودگی کا اندازہ ہوچکا تھا اور یہ معلومات سرفیس یونٹس کو فراہم کرنے کے بعد آبدوز کی تلاش اور مقام کی نشاندہی کا آغاز کردیا گیا۔</p><p class=''>ایڈمرل تسنیم کے مطابق، آبدوز اسنارکلنگ کررہی تھی کیونکہ اسے علم ہوگیا تھا کہ اسے کھوجا جاچکا ہے اور بیٹری کو مزید ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔</p><p class=''>حاصل ہونے والی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اے ایس ڈبلیو کے ہیلی کاپٹرز اور جہاز جن میں پی 3سی اوریون اور اٹلانٹک شامل ہیں، ان کی جانب سے سونوبوائز گرا کر آبدوز کو گھیرے میں لیا گیا ہوگا جبکہ ہیلی کاپٹروں سے بھیجے گئے سونارز کی مدد سے بھی سونار پنگس کی معلومات حاصل کی گئی ہوگی۔</p><p class=''>اسی معاملے سے جڑے ذرائع نے تصدیق کی کہ آبدوز کی موجودگی کو پہلے اے ایس ڈبلیو نے محسوس کیا جس کے بعد تلاش میں سرفیس یونٹس بھی شامل ہوگئیں۔</p><p class=''>پاک بحریہ کی جانب سے کی جانے والی اس ساری کارروائی کا اندازہ بھارتی آبدوز نے بھی لگالیا ہوگا جس سے انہیں اپنے پکڑے جانے کی تصدیق ہوگئی۔</p><p class=''>پاک بحریہ کے علم میں آجانے کے بعد آبدوز کے عملے کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ پلٹ کر اپنی بندرگاہوں کی جانب لوٹ جائیں اور پاکستانی اے ایس ڈبلیو نے بھی اپنا گھیرا اس وقت تک برقرار رکھا ہوگا جب تک آبدوز کا پاکستانی علاقے سے نکل جانے کا یقین نہیں ہوگیا۔</p><p class=''>آبدوزوں سے جڑی تمام کارروائیاں مہارت، تربیت اور حاضر دماغی کا نچوڑ ہوتی ہیں، ایسی صورتحال میں جو فریق اپنے اعصاب پر قابو پالے وہی برتری لے جاتا ہے۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1047167</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Nov 2016 13:51:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/11/58300c90af853.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/11/58300c90af853.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
