<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 15 May 2026 20:30:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 15 May 2026 20:30:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>14 بلیوں نے ایک دوسرے کو مار کھایا، خاتون کو سزاء</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1047424/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;آسٹریلوی خاتون کی 14 بلیوں نے ایک دوسرے پر حملہ کرکے ہلاک کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانوی خبر رساں ادارے کی &lt;a href='http://www.bbc.com/news/world-australia-38073139' &gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق یہ واقعہ جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈلڈ میں پیش آیا جہاں 43 سالہ خاتون اپنے گھر میں 14 پالتو بلیوں کو بند کرکے خود کہیں روانہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جانوروں کے تحفظ کے لیے قائم برطانوی تنظیم (آرایس پی سی اے) کے مطابق، کھانے پینے کو کچھ نہ ملنے پر یہ بلیاں ایک ایک کرکے مرتی گئیں اور 14 میں سے صرف ایک بلی زندہ بچی جس کی حالت کافی خراب تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خاتون کی جانب سے بلیوں کو اس طرح گھر پر اکیلا چھوڑ کر جانے کے بعد ان کی ہلاکت سامنے آنے کے بعد خاتون کو جانوروں کے ساتھ بےرحمی برتنے کا مجرم قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سزا کے طور پر خاتون کو ایک سال کے لیے نیک چال چلن اور جانوروں کو پالنے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ زندہ بچ جانے والی واحد بلی کو حالت میں بہتری کے بعد کسی اور کی ملکیت میں دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/11/5835a6cca1959.jpg'  alt='زندہ بچ جانے والی بلی کو نئے مالک کے حوالے کردیا گیا&amp;mdash;فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;زندہ بچ جانے والی بلی کو نئے مالک کے حوالے کردیا گیا—فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آر ایس پی سی اے کے جنوبی آسٹریلیا کے سینئر اہلکار کے مطابق، ان کی ٹیم کے لیے یہ ایک بہت ’&lt;strong&gt;دل خراش&lt;/strong&gt;‘ کیس تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید بتانا تھا کہ خاتون کے گھر میں چھاپے کے نتیجے میں انہیں بہت عجیب و غریب صورتحال دیکھنے کو ملی، گھر بلیوں کی پھیلائی گندگی سے بھرا ہوا تھا اور مردہ بلیوں کی باقیات ہر طرف موجود تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اہلکار کے مطابق، مردہ بلیوں کو ان کی ساتھی بلیوں کی جانب سے کھانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جوبہت افسوس ناک ہے، یہ ایسا واقعہ ہے جو انہیں طویل عرصے تک نہیں بھولے گا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/11/5835a6cc6aabb.jpg'  alt='&amp;mdash; فوٹو: اسکرین گریب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— فوٹو: اسکرین گریب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آر ایس پی سی اے کے چیف کے مطابق، اگر جانور کو نہیں رکھ سکتے تو انہیں اپنے دوستوں یا رشتے داروں کے حوالے کردیں یا پھر جانور کے تحفظ کے لیے قائم اداروں کے حوالے کردیں لیکن انہیں اس طرح نہ چھوڑا جائے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>آسٹریلوی خاتون کی 14 بلیوں نے ایک دوسرے پر حملہ کرکے ہلاک کردیا۔</p><p class=''>برطانوی خبر رساں ادارے کی <a href='http://www.bbc.com/news/world-australia-38073139' >رپورٹ</a> کے مطابق یہ واقعہ جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈلڈ میں پیش آیا جہاں 43 سالہ خاتون اپنے گھر میں 14 پالتو بلیوں کو بند کرکے خود کہیں روانہ ہوگئیں۔</p><p class=''>جانوروں کے تحفظ کے لیے قائم برطانوی تنظیم (آرایس پی سی اے) کے مطابق، کھانے پینے کو کچھ نہ ملنے پر یہ بلیاں ایک ایک کرکے مرتی گئیں اور 14 میں سے صرف ایک بلی زندہ بچی جس کی حالت کافی خراب تھی۔</p><p class=''>خاتون کی جانب سے بلیوں کو اس طرح گھر پر اکیلا چھوڑ کر جانے کے بعد ان کی ہلاکت سامنے آنے کے بعد خاتون کو جانوروں کے ساتھ بےرحمی برتنے کا مجرم قرار دے دیا گیا۔</p><p class=''>سزا کے طور پر خاتون کو ایک سال کے لیے نیک چال چلن اور جانوروں کو پالنے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ زندہ بچ جانے والی واحد بلی کو حالت میں بہتری کے بعد کسی اور کی ملکیت میں دے دیا گیا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/11/5835a6cca1959.jpg'  alt='زندہ بچ جانے والی بلی کو نئے مالک کے حوالے کردیا گیا&mdash;فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">زندہ بچ جانے والی بلی کو نئے مالک کے حوالے کردیا گیا—فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>آر ایس پی سی اے کے جنوبی آسٹریلیا کے سینئر اہلکار کے مطابق، ان کی ٹیم کے لیے یہ ایک بہت ’<strong>دل خراش</strong>‘ کیس تھا۔</p><p class=''>ان کا مزید بتانا تھا کہ خاتون کے گھر میں چھاپے کے نتیجے میں انہیں بہت عجیب و غریب صورتحال دیکھنے کو ملی، گھر بلیوں کی پھیلائی گندگی سے بھرا ہوا تھا اور مردہ بلیوں کی باقیات ہر طرف موجود تھیں۔</p><p class=''>اہلکار کے مطابق، مردہ بلیوں کو ان کی ساتھی بلیوں کی جانب سے کھانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جوبہت افسوس ناک ہے، یہ ایسا واقعہ ہے جو انہیں طویل عرصے تک نہیں بھولے گا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/11/5835a6cc6aabb.jpg'  alt='&mdash; فوٹو: اسکرین گریب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— فوٹو: اسکرین گریب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>آر ایس پی سی اے کے چیف کے مطابق، اگر جانور کو نہیں رکھ سکتے تو انہیں اپنے دوستوں یا رشتے داروں کے حوالے کردیں یا پھر جانور کے تحفظ کے لیے قائم اداروں کے حوالے کردیں لیکن انہیں اس طرح نہ چھوڑا جائے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1047424</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Nov 2016 19:37:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/11/5835a648703e0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/11/5835a648703e0.jpg"/>
        <media:title>14 میں سے صرف 1 بلی زندہ بچی تھی — فوٹو: بشکریہ آر ایس پی سی اے</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
