<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 12 Jun 2026 03:50:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 12 Jun 2026 03:50:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>براعظم انٹارکٹکا میں پر اسرار ’ہرم‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1047695/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;قطب جنوبی میں واقع دنیا کے سرد اور خشک ترین براعظم انٹارکٹکا میں پر اسرار ’ہرم‘ (Pyramid)  ان دنوں انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گوگل ارتھ کے ذریعے منظر عام پر آنے والی تصویر میں اہرام مصر کی طرح کا ایک پہاڑ دکھائی دے رہا ہے اور انٹرنیٹ پر لوگوں نے اس حوالے سے کئی من گھڑت کہانیاں بنالی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم جرمن ریسرچ سینٹر برائے جیوسائنس نے ویب سائٹ &lt;a href='http://www.iflscience.com/editors-blog/the-truth-about-the-mysterious-pyramid-discovered-in-antarctica/' &gt;آئی ایف ایل سائنس&lt;/a&gt; کو بتایا کہ ’ہرم کی شکل کے پہاڑ ایلز ورتھ پہاڑی سلسلے میں موجود ہیں جو 400 کلو میٹر طویل رقبے پر پھیلا ہوا ہے لہٰذا اگر کسی پہاڑ کی چوٹی برف سے باہر نکل آئی ہے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں‘۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/11/583beea69507d.jpg'  alt='ماہرین ان پہاڑوں کے انسانی ساختہ ہونے کا امکان رد کررہے ہیں &amp;mdash; فوٹو بشکریہ گوگل ارتھ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماہرین ان پہاڑوں کے انسانی ساختہ ہونے کا امکان رد کررہے ہیں — فوٹو بشکریہ گوگل ارتھ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ ’پہاڑ کی چوٹی واضح طور پر چٹانوں پر مشتمل ہے اور یہ محض اتفاق ہے کہ اس کی شکل اہرام مصر سے مشابہت رکھتی ہے‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے مذکورہ پہاڑ کے انسانی ساختہ ہونے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’پہاڑوں کی تعریف کے مطابق یہ ایک نیوناٹاک قسم کا پہاڑ ہے جس کی چوٹی برف سے باہر نکل رہی ہے اور اتفاق سے یہ ہرم کی شکل کا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے انسانوں نے تعمیر کیا ہو‘۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انٹرنیٹ پر ایک اور شخص نے اس پہاڑ کو عام بات قرار دیتے ہوے کہا کہ ہرم کی طرح کے پہاڑ کوئی انوکھی بات نہیں اس طرح کے پہاڑ ایلپس کے پہاڑی سلسلے اور آئس لینڈ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>قطب جنوبی میں واقع دنیا کے سرد اور خشک ترین براعظم انٹارکٹکا میں پر اسرار ’ہرم‘ (Pyramid)  ان دنوں انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p><p class=''>گوگل ارتھ کے ذریعے منظر عام پر آنے والی تصویر میں اہرام مصر کی طرح کا ایک پہاڑ دکھائی دے رہا ہے اور انٹرنیٹ پر لوگوں نے اس حوالے سے کئی من گھڑت کہانیاں بنالی ہیں۔</p><p class=''>تاہم جرمن ریسرچ سینٹر برائے جیوسائنس نے ویب سائٹ <a href='http://www.iflscience.com/editors-blog/the-truth-about-the-mysterious-pyramid-discovered-in-antarctica/' >آئی ایف ایل سائنس</a> کو بتایا کہ ’ہرم کی شکل کے پہاڑ ایلز ورتھ پہاڑی سلسلے میں موجود ہیں جو 400 کلو میٹر طویل رقبے پر پھیلا ہوا ہے لہٰذا اگر کسی پہاڑ کی چوٹی برف سے باہر نکل آئی ہے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں‘۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/11/583beea69507d.jpg'  alt='ماہرین ان پہاڑوں کے انسانی ساختہ ہونے کا امکان رد کررہے ہیں &mdash; فوٹو بشکریہ گوگل ارتھ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماہرین ان پہاڑوں کے انسانی ساختہ ہونے کا امکان رد کررہے ہیں — فوٹو بشکریہ گوگل ارتھ</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ ’پہاڑ کی چوٹی واضح طور پر چٹانوں پر مشتمل ہے اور یہ محض اتفاق ہے کہ اس کی شکل اہرام مصر سے مشابہت رکھتی ہے‘۔</p><p class=''>انہوں نے مذکورہ پہاڑ کے انسانی ساختہ ہونے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’پہاڑوں کی تعریف کے مطابق یہ ایک نیوناٹاک قسم کا پہاڑ ہے جس کی چوٹی برف سے باہر نکل رہی ہے اور اتفاق سے یہ ہرم کی شکل کا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے انسانوں نے تعمیر کیا ہو‘۔</p><p class=''>انٹرنیٹ پر ایک اور شخص نے اس پہاڑ کو عام بات قرار دیتے ہوے کہا کہ ہرم کی طرح کے پہاڑ کوئی انوکھی بات نہیں اس طرح کے پہاڑ ایلپس کے پہاڑی سلسلے اور آئس لینڈ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1047695</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Nov 2016 13:49:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/11/583bee988adb4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/11/583bee988adb4.jpg"/>
        <media:title>براعظم انٹارکٹکا میں دریافت ہونے والا ہرم — فوٹو بشکریہ گوگل ارتھ</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
