<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:30:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:30:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے طیارہ حادثہ: تحقیقاتی ٹیم نے شوہد اکٹھے کرلیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1048397/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;ایبٹ آباد: حویلیاں کے قریب گرکر تباہ ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کی تحقیق کرنے والی 10 رکنی ٹیم نے کیپٹن سلطان کی سربراہی میں جائے وقوع کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; تحقیقاتی ٹیم میں پاکستان ایئر فورس  (پی اے ایف) کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) حویلیاں خورشید تنولی نے ڈان کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوع کا دورہ کرکے جہاز کے ملبے کا جائزہ لیا ، واضح رہے کہ جائے وقوع اور جہاز کے ملبے کو پہلی ہی مقامی پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے رکھا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048235' &gt;پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ، 48 افراد جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ڈی ایس پی نے بتایا کہ حویلیاں پولیس نے جائے وقوع سے طیارے میں سوار مسافروں کا کچھ سامان تحویل میں لے لیا، پولیس نے جنید جمشید اور ان کی اہلیہ کے شناختی کارڈ سمیت، ایک گھڑی، کچھ سونے کے زیورات اور کچھ کاغذات بھی حفاظتی تحویل میں لیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوع کے قریبی گاؤں پپلیاں، مجاہداں اور باتلونی کے کچھ عینی شاہدین سے ملاقاتیں بھی کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; &lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 10 دسمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>ایبٹ آباد: حویلیاں کے قریب گرکر تباہ ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کی تحقیق کرنے والی 10 رکنی ٹیم نے کیپٹن سلطان کی سربراہی میں جائے وقوع کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے۔</p><p class=''> تحقیقاتی ٹیم میں پاکستان ایئر فورس  (پی اے ایف) کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔</p><p class=''>ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) حویلیاں خورشید تنولی نے ڈان کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوع کا دورہ کرکے جہاز کے ملبے کا جائزہ لیا ، واضح رہے کہ جائے وقوع اور جہاز کے ملبے کو پہلی ہی مقامی پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے رکھا ہے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048235' >پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ، 48 افراد جاں بحق</a></h6>
<p class=''>ڈی ایس پی نے بتایا کہ حویلیاں پولیس نے جائے وقوع سے طیارے میں سوار مسافروں کا کچھ سامان تحویل میں لے لیا، پولیس نے جنید جمشید اور ان کی اہلیہ کے شناختی کارڈ سمیت، ایک گھڑی، کچھ سونے کے زیورات اور کچھ کاغذات بھی حفاظتی تحویل میں لیے۔</p><p class=''>تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوع کے قریبی گاؤں پپلیاں، مجاہداں اور باتلونی کے کچھ عینی شاہدین سے ملاقاتیں بھی کیں۔</p><p class=''>دوسری جانب پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔</p><p class=''> <strong><em>یہ خبر 10 دسمبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1048397</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Dec 2016 09:56:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/12/584b8147251dc.jpg?r=1404341101" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/12/584b8147251dc.jpg?r=2045044479"/>
        <media:title>پی آئی اے کا طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں 48 افراد ہلاک ہوئے تھے —فوٹو: رائٹرز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
