<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 23:44:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 23:44:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برسبین ٹیسٹ : پاکستان کو جیت کیلئے 490 رنز کا ہدف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1048855/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;برسبین: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جارہے پہلے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کے اختتام پر مہمان ٹیم نے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 70 رنز بنا لیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;میزبان ٹیم آسٹریلیا نے دوسری اننگز 202 رنز بناکر ڈکلیئر کر دی تھی، پاکستان نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو پاکستان کی پہلی وکٹ 12 ویں اوور میں 31 رنز پر گری، جب سمیع اسلم 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ دوسری وکٹ 27ویں اوور میں 54 رنز پر گری جب بابر اعظم 14 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برسبین میں جب تیسرے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 2 وکٹوں پر 70 رنز بنائے تھے اور جیت کے لیے مزید 420 رنز درکار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اظہرعلی 41 اور یونس خان بغیر کوئی رن بنائے وکٹ پر موجود تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری اننگز کے بعد آسٹریلیا کو پاکستان پر مجموعی طور پر 489 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی، میزبان ٹیم نے پہلی اننگز میں 429 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی، تاہم آسٹریلیا نے پاکستان کو فالو آن کروانے کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز بنائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسٹریلیا کی جانب سے دوسری اننگز میں عثمان خواجہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 109 گیندوں پر 74 رنز بنائے جبکہ اسمتھ نے 70گیندوں پر 63 رنز بنائے، ہینڈوکمب 35 رنز بنا کر نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کھانے کے وقفے پر 39 اوورز کا کھیل ہو چکا تھا جب آسٹریلیا نے  اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;قبل ازیں پہلی اننگز میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 142 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گابا اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ کے تیسرے روز پاکستان نے 97 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر کھیل کا آغاز کیا اور 31 رنز پر کھیلنے والے سرفراز احمد نے پاکستانی بیٹنگ لائن کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی کوشش کی.&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم 142 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کی پوری ٹیم ڈھیر ہوگئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; سرفراز احمد 59 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ اور محمد عامر 21 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک۔ جوش ہیزل ووڈ اور برڈ نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگز میں 429 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1048795/' &gt;برسبین میں پاکستان فالو آن کے دہانے پر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ پاکستان نے اپنی چھ سے زائد دہائیوں پر محیط ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں آسٹریلیا کے متعدد دورے کیے لیکن کامیابی کا تناسب غیر تسلی بخش رہا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ابتدائی عشروں میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی آسٹریلیا کے متعدد دوروں میں بہتر رہی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کارکردگی میں نمایاں تنزلی ہوئی ہے۔ پاکستان نے آسٹریلیا میں آخری مرتبہ سڈنی کے مقام پر 1995 میں ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل کی تھی اور اب پاکستان کو آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ جیتے 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048600/' &gt;آسٹریلیا میں پاکستان کی فتوحات کی تاریخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حالیہ دورہ آسٹریلیا کے دوران تیز اور باؤنسی پچز پاکستانی بلے بازوں کو شدید مشکلات میں ڈال سکتی ہیں جبکہ برسبین میں گلابی گیند اور گرین وکٹ پاکستان کے لیے کڑا امتحان ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل دورہ نیوزی لینڈ میں قومی بیٹنگ لائن بری طرح ناکام رہی تھی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>برسبین: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جارہے پہلے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کے اختتام پر مہمان ٹیم نے 490 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 70 رنز بنا لیے۔</p><p class=''>میزبان ٹیم آسٹریلیا نے دوسری اننگز 202 رنز بناکر ڈکلیئر کر دی تھی، پاکستان نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو پاکستان کی پہلی وکٹ 12 ویں اوور میں 31 رنز پر گری، جب سمیع اسلم 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ دوسری وکٹ 27ویں اوور میں 54 رنز پر گری جب بابر اعظم 14 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔</p><p class=''>برسبین میں جب تیسرے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 2 وکٹوں پر 70 رنز بنائے تھے اور جیت کے لیے مزید 420 رنز درکار تھے۔</p><p class=''>اظہرعلی 41 اور یونس خان بغیر کوئی رن بنائے وکٹ پر موجود تھے۔</p><p class=''>دوسری اننگز کے بعد آسٹریلیا کو پاکستان پر مجموعی طور پر 489 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی، میزبان ٹیم نے پہلی اننگز میں 429 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی، تاہم آسٹریلیا نے پاکستان کو فالو آن کروانے کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 202 رنز بنائے۔</p><p class=''>آسٹریلیا کی جانب سے دوسری اننگز میں عثمان خواجہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 109 گیندوں پر 74 رنز بنائے جبکہ اسمتھ نے 70گیندوں پر 63 رنز بنائے، ہینڈوکمب 35 رنز بنا کر نمایاں رہے۔</p><p class=''>کھانے کے وقفے پر 39 اوورز کا کھیل ہو چکا تھا جب آسٹریلیا نے  اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔</p><p class=''>قبل ازیں پہلی اننگز میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 142 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔</p><p class=''>گابا اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ کے تیسرے روز پاکستان نے 97 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر کھیل کا آغاز کیا اور 31 رنز پر کھیلنے والے سرفراز احمد نے پاکستانی بیٹنگ لائن کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی کوشش کی.</p><p class=''>تاہم 142 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کی پوری ٹیم ڈھیر ہوگئی۔</p><p class=''> سرفراز احمد 59 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ اور محمد عامر 21 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p><p class=''>آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک۔ جوش ہیزل ووڈ اور برڈ نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔</p><p class=''>اس سے قبل آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگز میں 429 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1048795/' >برسبین میں پاکستان فالو آن کے دہانے پر</a></strong></p><p class=''>یاد رہے کہ پاکستان نے اپنی چھ سے زائد دہائیوں پر محیط ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں آسٹریلیا کے متعدد دورے کیے لیکن کامیابی کا تناسب غیر تسلی بخش رہا۔</p><p class=''>یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ابتدائی عشروں میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی آسٹریلیا کے متعدد دوروں میں بہتر رہی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کارکردگی میں نمایاں تنزلی ہوئی ہے۔ پاکستان نے آسٹریلیا میں آخری مرتبہ سڈنی کے مقام پر 1995 میں ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل کی تھی اور اب پاکستان کو آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ جیتے 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048600/' >آسٹریلیا میں پاکستان کی فتوحات کی تاریخ</a></strong></p><p class=''>حالیہ دورہ آسٹریلیا کے دوران تیز اور باؤنسی پچز پاکستانی بلے بازوں کو شدید مشکلات میں ڈال سکتی ہیں جبکہ برسبین میں گلابی گیند اور گرین وکٹ پاکستان کے لیے کڑا امتحان ہے۔</p><p class=''>واضح رہے کہ اس سے قبل دورہ نیوزی لینڈ میں قومی بیٹنگ لائن بری طرح ناکام رہی تھی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1048855</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Dec 2016 12:14:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/12/5854bf8b7eb12.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/12/5854bf8b7eb12.jpg"/>
        <media:title>محمد عامر کی وکٹ لینے کے بعد آسٹریلیا کے جیکسن برڈ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے—۔فوٹو/ اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
