<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 00:09:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 00:09:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکی: فوجیوں کی بس کے قریب دھماکا، 13 ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1048859/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;استنبول: ترکی کے شہر کیسری میں فوجیوں کو لے جانے والی بس کے قریب ہونے والے دھماکے میں 13 ترکی فوجی ہلاک جبکہ 48 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے مرکزی شہر کیسری میں ارشائس یونیورسٹی کے نزدیک فوجیوں کو لے جانی والی ایک بس کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/5854f7b8400d4.jpg'  alt='دھماکے میں عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دھماکے میں عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ترک آرمی نے دھماکے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 48 بتائی گئی۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ترک فوج کے مطابق بس میں سوار فوجیوں میں پرائیوٹ اور نان کمیشنڈ آفیسرز شامل تھے جو چھٹیوں پر جارہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دھماکے کے بعد علاقے میں ایمبولنسوں کی بڑی تعداد کو روانہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ترک خبر رساں ادارے کی جانب سے سامنے آنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا اُس وقت ہوا جب فوجیوں کی بس ایک کار کے برابر سے گزری جس میں بارودی مواد بھرا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ بم دھماکے کا یہ واقعہ استنبول کے فٹبال اسٹیڈیم کے باہر ہونے والے جڑواں دھماکوں کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، استنبول میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039473' &gt;استنبول ایئرپورٹ پر حملہ، 41افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اس دھماکے کی ذمہ داری کرد شدت پسندوں کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ رواں سال جون میں بھی استنبول کے کمال اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 3 خودکش حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 41 افراد ہلاک اور 239 زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اگرچہ حملے کی ذمہ داری کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی تھی تاہم ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے اسے داعش کی کارروائی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>استنبول: ترکی کے شہر کیسری میں فوجیوں کو لے جانے والی بس کے قریب ہونے والے دھماکے میں 13 ترکی فوجی ہلاک جبکہ 48 زخمی ہوگئے۔</p><p class=''>فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے مرکزی شہر کیسری میں ارشائس یونیورسٹی کے نزدیک فوجیوں کو لے جانی والی ایک بس کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/5854f7b8400d4.jpg'  alt='دھماکے میں عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دھماکے میں عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ترک آرمی نے دھماکے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 48 بتائی گئی۔ </p><p class=''>ترک فوج کے مطابق بس میں سوار فوجیوں میں پرائیوٹ اور نان کمیشنڈ آفیسرز شامل تھے جو چھٹیوں پر جارہے تھے۔</p><p class=''>دھماکے کے بعد علاقے میں ایمبولنسوں کی بڑی تعداد کو روانہ کردیا گیا۔</p><p class=''>ترک خبر رساں ادارے کی جانب سے سامنے آنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا اُس وقت ہوا جب فوجیوں کی بس ایک کار کے برابر سے گزری جس میں بارودی مواد بھرا ہوا تھا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ بم دھماکے کا یہ واقعہ استنبول کے فٹبال اسٹیڈیم کے باہر ہونے والے جڑواں دھماکوں کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، استنبول میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039473' >استنبول ایئرپورٹ پر حملہ، 41افراد ہلاک</a></h6>
<p class=''>اس دھماکے کی ذمہ داری کرد شدت پسندوں کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔</p><p class=''>یاد رہے کہ رواں سال جون میں بھی استنبول کے کمال اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 3 خودکش حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 41 افراد ہلاک اور 239 زخمی ہو گئے تھے۔</p><p class=''>اگرچہ حملے کی ذمہ داری کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی تھی تاہم ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے اسے داعش کی کارروائی قرار دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1048859</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Dec 2016 14:01:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/12/5854e739dad86.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/12/5854e739dad86.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
