<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 01:43:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 01:43:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا میں طیارہ گر کر تباہ، 13 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1048894/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;جکارتہ: انڈونیشیا میں کارگو طیارہ گر کر تباہ ہونے سے پائلٹ سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ابتدائی رپورٹس کے مطابق ایئرفورس کا ہرکولیس سی-130 طیارہ انڈونیشیا کے صوبے پاپوا میں گر کر تباہ ہوا، طیارے کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء منتقل کی جا رہی تھیں جبکہ طیارے میں 3 پائلٹ اور 10 فوجی اہلکار سوار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانوی خبر رساں ادارے کی &lt;a href='http://www.bbc.com/news/world-asia-38355451' &gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایئرفورس کے چیف آف اسٹاف آگسٹ سپریانتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ موسم کی خرابی کے باعث طیارہ حادثے کاشکار ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/585628da275c8.jpg'  alt='طیارے میں کھانے پینے کی اشیاء منتقل کی جا رہی تھیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;طیارے میں کھانے پینے کی اشیاء منتقل کی جا رہی تھیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فوجی طیارہ انڈونیشیا کے شہر ٹمیکا سے ومینا جاتے ہوئے اپنی منزل کے قریب پہاڑی علاقے میں اتوار کی صبح گرکر تباہ ہوا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے انڈونیشیا کے ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنل کے ڈائریکٹر آئیون احمد رسکی ٹائٹس نے کہا کہ ملبے اور لاشوں کو ومینا منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ انڈونیشیا میں اس سے پہلے بھی فضائی حادثات ہوتے رہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ برس جون میں بھی انڈونیشیا کی فضائیہ کا ایک &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1023233' &gt;&lt;strong&gt;طیارہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سماٹرا جزیرے کے شہر مدان کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس وجہ سے طیارے میں سوار تمام 116 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/585628dbb1992.jpg'  alt='طیارہ موسم کی خرابی کے باعث حادثے کا شکار بنا: رپورٹ&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;طیارہ موسم کی خرابی کے باعث حادثے کا شکار بنا: رپورٹ—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رواں برس مارچ میں بھی انڈونیشیا کا ایک &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1035047' &gt;فوجی طیارہ&lt;/a&gt; وسطی علاقے سولاویسی کے ضلع پوسو کے ایک گاؤں میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں سوار 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انڈونیشیا میں فوجی طیارہ تباہ ہونے کا ایک اور &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039953' &gt;&lt;strong&gt;واقعہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; رواں برس جولائی میں پیش آیا تھا، نیشنل آرمی کا طیارہ صوبے جاوا کے مرکزی شہر یوگویاکرتا کے شمال کی طرف مضافاتی علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا جس کی وجہ سے 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>جکارتہ: انڈونیشیا میں کارگو طیارہ گر کر تباہ ہونے سے پائلٹ سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے۔</p><p class=''>ابتدائی رپورٹس کے مطابق ایئرفورس کا ہرکولیس سی-130 طیارہ انڈونیشیا کے صوبے پاپوا میں گر کر تباہ ہوا، طیارے کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء منتقل کی جا رہی تھیں جبکہ طیارے میں 3 پائلٹ اور 10 فوجی اہلکار سوار تھے۔</p><p class=''>برطانوی خبر رساں ادارے کی <a href='http://www.bbc.com/news/world-asia-38355451' ><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایئرفورس کے چیف آف اسٹاف آگسٹ سپریانتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ موسم کی خرابی کے باعث طیارہ حادثے کاشکار ہوا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/585628da275c8.jpg'  alt='طیارے میں کھانے پینے کی اشیاء منتقل کی جا رہی تھیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">طیارے میں کھانے پینے کی اشیاء منتقل کی جا رہی تھیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>فوجی طیارہ انڈونیشیا کے شہر ٹمیکا سے ومینا جاتے ہوئے اپنی منزل کے قریب پہاڑی علاقے میں اتوار کی صبح گرکر تباہ ہوا۔ </p><p class=''>خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے انڈونیشیا کے ادارے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنل کے ڈائریکٹر آئیون احمد رسکی ٹائٹس نے کہا کہ ملبے اور لاشوں کو ومینا منتقل کیا جا رہا ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ انڈونیشیا میں اس سے پہلے بھی فضائی حادثات ہوتے رہے ہیں، اس سے قبل گزشتہ برس جون میں بھی انڈونیشیا کی فضائیہ کا ایک <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1023233' ><strong>طیارہ</strong></a> سماٹرا جزیرے کے شہر مدان کے رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس وجہ سے طیارے میں سوار تمام 116 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/585628dbb1992.jpg'  alt='طیارہ موسم کی خرابی کے باعث حادثے کا شکار بنا: رپورٹ&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">طیارہ موسم کی خرابی کے باعث حادثے کا شکار بنا: رپورٹ—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>رواں برس مارچ میں بھی انڈونیشیا کا ایک <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1035047' >فوجی طیارہ</a> وسطی علاقے سولاویسی کے ضلع پوسو کے ایک گاؤں میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں سوار 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p><p class=''>انڈونیشیا میں فوجی طیارہ تباہ ہونے کا ایک اور <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1039953' ><strong>واقعہ</strong></a> رواں برس جولائی میں پیش آیا تھا، نیشنل آرمی کا طیارہ صوبے جاوا کے مرکزی شہر یوگویاکرتا کے شمال کی طرف مضافاتی علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا جس کی وجہ سے 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1048894</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Dec 2016 18:58:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/12/58562833aa6b6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/12/58562833aa6b6.jpg"/>
        <media:title>طیارہ اپنی منزل کے قریب پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوا—فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
