<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:47:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:47:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'طیارہ حادثہ تحقیقات میں پائلٹس کو بھی شامل کیا جائے'</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1049097/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے اے ٹی آر طیارہ حادثے کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) کو خط  بھیج دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پالپا کی جانب سے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ 7 دسمبر کو حویلیاں کے نزدیک تباہ ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اے ٹی آر طیارے کی تحقیقات میں پائلٹس کو بھی شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/585a72d120a8e.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خط میں پالپا کا مؤقف ہے کہ کسی بھی طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات میں آپریٹر کو شامل کرنا لازم ہے تاکہ ایس آئی بی کی تحقیقات یکطرفہ نہ ہوں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع کے مطابق مذکورہ خط ایس آئی بی کے صدر کو موصول ہوگیا ہے اور جلد ہی باضابطہ طور پر پی آئی اے اور پالپا کو جواب سے آگاہ کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ رواں ماہ 7 دسمبر کو پی آئی اے کا چترال سے اسلام آباد آنے والا اے ٹی آر مسافر طیارہ &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048235/' &gt;حویلیاں کے قریب گر کر تباہ&lt;/a&gt; ہونے سے جہاز کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اس جہاز میں معروف شخصیت جنید جمشید بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جہاز کے تباہ ہونے اور اس میں سوار تمام مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی تھی، جبکہ حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعدازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے پی آئی اے کے تمام اے ٹی آر طیاروں کے شیک ڈاؤن ٹیسٹ کے فیصلے کے بعد تمام اے ٹی آر طیاروں کو گراؤنڈ کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048415' &gt;طیارہ حادثہ: تحقیقات کیلئے فرانسیسی ٹیم اسلام آباد آئے گی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اس سے قبل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے کے طیارے ’اے ٹی آر 42‘ نے 13 ہزار 375 فٹ کی بلندی تک روانی سے پرواز کی جس کے بعد اس کے بائیں انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا اور انجن کے دھماکے نے وِنگ کو نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹ کے مطابق طیارہ غیر متوازن طریقے سے پرواز کر رہا تھا جس کے بعد وہ تیزی سے نیچے آیا اور گر کر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1048397/' &gt;پی آئی اے طیارہ حادثہ: تحقیقاتی ٹیم نے شوہد اکٹھے کرلیے&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;دوسری جانب پی آئی اے ترجمان ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی پرواز پی کے 661 کے لیے استعمال ہونے والا اے ٹی آر 42 طیارہ &amp;#39;لگ بھگ 10 سال پرانا&amp;#39; اور &amp;#39; بہت اچھی حالت&amp;#39; میں تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دانیال گیلانی نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا تھا کہ چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثہ کا شکار ہونے والے طیارے کے انجن میں پہلے سے کوئی خرابی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پی آئی اے کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دوران پرواز کوئی مسئلہ پیدا ہوا جو حادثے کا سبب بنا، اس کی مکمل تحقیقات ایک خود مختار ادارہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے اے ٹی آر طیارہ حادثے کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) کو خط  بھیج دیا۔</p><p class=''>پالپا کی جانب سے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ 7 دسمبر کو حویلیاں کے نزدیک تباہ ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اے ٹی آر طیارے کی تحقیقات میں پائلٹس کو بھی شامل کیا جائے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/12/585a72d120a8e.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>خط میں پالپا کا مؤقف ہے کہ کسی بھی طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات میں آپریٹر کو شامل کرنا لازم ہے تاکہ ایس آئی بی کی تحقیقات یکطرفہ نہ ہوں۔</p><p class=''>ذرائع کے مطابق مذکورہ خط ایس آئی بی کے صدر کو موصول ہوگیا ہے اور جلد ہی باضابطہ طور پر پی آئی اے اور پالپا کو جواب سے آگاہ کردیا جائے گا۔</p><p class=''>یاد رہے کہ رواں ماہ 7 دسمبر کو پی آئی اے کا چترال سے اسلام آباد آنے والا اے ٹی آر مسافر طیارہ <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048235/' >حویلیاں کے قریب گر کر تباہ</a> ہونے سے جہاز کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، اس جہاز میں معروف شخصیت جنید جمشید بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوار تھے۔</p><p class=''>سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جہاز کے تباہ ہونے اور اس میں سوار تمام مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی تھی، جبکہ حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی تھی۔</p><p class=''>بعدازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے پی آئی اے کے تمام اے ٹی آر طیاروں کے شیک ڈاؤن ٹیسٹ کے فیصلے کے بعد تمام اے ٹی آر طیاروں کو گراؤنڈ کردیا گیا تھا۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1048415' >طیارہ حادثہ: تحقیقات کیلئے فرانسیسی ٹیم اسلام آباد آئے گی</a></h6>
<p class=''>اس سے قبل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پی آئی اے کے طیارے ’اے ٹی آر 42‘ نے 13 ہزار 375 فٹ کی بلندی تک روانی سے پرواز کی جس کے بعد اس کے بائیں انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا اور انجن کے دھماکے نے وِنگ کو نقصان پہنچایا۔</p><p class=''>رپورٹ کے مطابق طیارہ غیر متوازن طریقے سے پرواز کر رہا تھا جس کے بعد وہ تیزی سے نیچے آیا اور گر کر تباہ ہوگیا۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1048397/' >پی آئی اے طیارہ حادثہ: تحقیقاتی ٹیم نے شوہد اکٹھے کرلیے</a></h6>
<p class=''>دوسری جانب پی آئی اے ترجمان ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی پرواز پی کے 661 کے لیے استعمال ہونے والا اے ٹی آر 42 طیارہ &#39;لگ بھگ 10 سال پرانا&#39; اور &#39; بہت اچھی حالت&#39; میں تھا۔</p><p class=''>دانیال گیلانی نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا تھا کہ چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثہ کا شکار ہونے والے طیارے کے انجن میں پہلے سے کوئی خرابی تھی۔</p><p class=''>پی آئی اے کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دوران پرواز کوئی مسئلہ پیدا ہوا جو حادثے کا سبب بنا، اس کی مکمل تحقیقات ایک خود مختار ادارہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) کر رہا ہے۔</p><hr>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1049097</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Dec 2016 18:05:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید اصغر چوہدریویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/large/2016/12/585a754ca1c7f.jpg?r=1442773224" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/i.dawn.com/thumbnail/2016/12/585a754ca1c7f.jpg?r=430862312"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
