<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:05:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:05:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ یونیورسٹی: طالبہ کی مبینہ خودکشی پر آئی جی کا نوٹس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1049771/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;کراچی: سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل(آئی جی) اللہ ڈینو(اے ڈی) خواجہ نے سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا، تاہم نائلہ رند کے اہل خانہ نے تحفظات ظاہر کی ہیں کہ ان کو پوسٹ مارٹم کے بعد مطلع کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href='http://www.dawn.com/news/1306055/igp-khawaja-resumes-work-orders-probe-into-students-death' &gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آئی جی سندھ نے چھٹیوں سے واپسی کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل(ڈی آئی جی) حیدرآباد خادم رند کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کے واقعے کی جلد سے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز سندھ یونیورسٹی کے شعبہ’سندھی‘ کی طالبہ نائلہ رند نے انڈر گریجویٹس (یو جی) ہاسٹل کے کمرہ نمبر 36 میں پنکھے سے لٹک کر مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ رند ایم اے سندھی کے آخری سال کی طالبہ اور سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کی رہائشی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ رند واقعے سے  3 دن قبل ہی کلاسز شروع ہونے پر گاؤں سے واپس آئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یونیورسٹی انتظامیہ کی اطلاع پر پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر طالبہ کی لاش کو پنکھے سے اتارا تھا جبکہ پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جامشورو تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) طاہر مغل نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ واقعہ بظاہر خود کشی کا لگتا ہے، تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ رند کے اہل خانہ کو تاخیر سے اطلاع دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایس ایچ او طاہر مغل نے کہا کہ لڑکی کے گھر والوں سے رابطے کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نمبر نہیں تھا، مقتول لڑکی کے موبائل فون میں موجود ایک نمبر پر رابطے کی کوشش کی تھی مگر ان کے اہل خانہ کا نمبر بند جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/01/586a884b9b5e1.jpg'  alt='نائلہ نے اسٹڈی سرکل کے دوران پہلی پوزیشن حاصل کی تھی&amp;mdash;فوٹو: فیس بک' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نائلہ نے اسٹڈی سرکل کے دوران پہلی پوزیشن حاصل کی تھی—فوٹو: فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;h2&gt;طالبہ کے خاندان کے خدشات&lt;/h2&gt;
&lt;p class=''&gt;مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کے اہل خانہ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہیں اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے انہیں نائلہ کی خودکشی کی خبر بروقت کیوں نہیں دی؟&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ کے اہل خانہ کے مطابق ان کے خاندان کو مقامی ٹی وی چینل پر خبر چلنے کے بعد پتہ چلا کہ اس نے خودکشی کی ہے، جب کہ انہیں اس بات پر بھی افسوس ہے کہ پولیس اور میڈیا نے جلد بازی میں نائلہ کی ہلاکت کو خودکشی کے طور پرپیش کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;طالبہ کے خاندان  کا کہنا ہے کہ  میڈیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ  خود سے معاملے کو اپنی مرضی کا رنگ دیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اہل خانہ کے مطابق معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے جب انہوں نے  نائلہ کے موبائل پر فون کیا، تو پولیس نے انہیں حیدرآباد آکر لاش لے جانے کے لیے  کہا، جب کہ اہل خانہ کی غیر موجودگی اور مرضی کے بغیر   نائلہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ وہاں کے معاملات سے متعلق کچھ جانتے ہیں، بس انہیں یہ پتہ ہے کہ نائلہ اساتذہ کی گڈ بک میں شامل تھی اور بڑی محنتی بچی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اہل خانہ نے مزید بتایا کہ نائلہ رند 3 دن قبل موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے ہی  یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوئی تھی، اس نے کہا تھا اسے تھیسز لکھ کر جمع کروانا ہے، اس لیے جلدی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h2&gt;نائلہ رند کون تھی؟&lt;/h2&gt;
&lt;p class=''&gt;مبینہ خودکشی کرنے والی 24 سالہ نائلہ رند سندھ یونیورسٹی میں ایم اے سندھی ادب کے آخری سال کی طالبہ تھی، وہ اپنے کلاس کی ذہین ترین طلبہ میں شمار ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ رند نے تیسرے سیمسٹر میں سب سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے سمیت اپنے ڈپارٹمنٹ میں کئی ایوارڈز جیت چکی تھیں،وہ اخبارات اور میگزین میں ادب ، تعلیم اور سماجی مسائل پر تحریریں بھی لکھتی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ رند کی ہم جماعت طالبات نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا یا کوئی افیئر نہیں تھا، وہ کبھی بھی پریشان یا تنگ نظر نہیں آئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نائلہ کی یونیورسٹی ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کے واقعے کے بعد سول سوسائٹی کی تنظیمیں معاملے کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جب کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال معاملے کی تفتیش کرانے یا نہ کرانے سے متعلق کوئی اعلان سامنے نہیں آسکا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>کراچی: سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل(آئی جی) اللہ ڈینو(اے ڈی) خواجہ نے سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا، تاہم نائلہ رند کے اہل خانہ نے تحفظات ظاہر کی ہیں کہ ان کو پوسٹ مارٹم کے بعد مطلع کیا گیا۔</p><p class=''>ڈان اخبار کی <a href='http://www.dawn.com/news/1306055/igp-khawaja-resumes-work-orders-probe-into-students-death' ><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آئی جی سندھ نے چھٹیوں سے واپسی کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔</p><p class=''>آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل(ڈی آئی جی) حیدرآباد خادم رند کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کے واقعے کی جلد سے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ گزشتہ روز سندھ یونیورسٹی کے شعبہ’سندھی‘ کی طالبہ نائلہ رند نے انڈر گریجویٹس (یو جی) ہاسٹل کے کمرہ نمبر 36 میں پنکھے سے لٹک کر مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔</p><p class=''>نائلہ رند ایم اے سندھی کے آخری سال کی طالبہ اور سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کی رہائشی تھی۔</p><p class=''>نائلہ رند واقعے سے  3 دن قبل ہی کلاسز شروع ہونے پر گاؤں سے واپس آئی تھی۔</p><p class=''>یونیورسٹی انتظامیہ کی اطلاع پر پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر طالبہ کی لاش کو پنکھے سے اتارا تھا جبکہ پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا۔</p><p class=''>جامشورو تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) طاہر مغل نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ واقعہ بظاہر خود کشی کا لگتا ہے، تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔</p><p class=''>نائلہ رند کے اہل خانہ کو تاخیر سے اطلاع دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایس ایچ او طاہر مغل نے کہا کہ لڑکی کے گھر والوں سے رابطے کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نمبر نہیں تھا، مقتول لڑکی کے موبائل فون میں موجود ایک نمبر پر رابطے کی کوشش کی تھی مگر ان کے اہل خانہ کا نمبر بند جا رہا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/01/586a884b9b5e1.jpg'  alt='نائلہ نے اسٹڈی سرکل کے دوران پہلی پوزیشن حاصل کی تھی&mdash;فوٹو: فیس بک' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نائلہ نے اسٹڈی سرکل کے دوران پہلی پوزیشن حاصل کی تھی—فوٹو: فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><h2>طالبہ کے خاندان کے خدشات</h2>
<p class=''>مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نائلہ رند کے اہل خانہ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہیں اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے انہیں نائلہ کی خودکشی کی خبر بروقت کیوں نہیں دی؟</p><p class=''>نائلہ کے اہل خانہ کے مطابق ان کے خاندان کو مقامی ٹی وی چینل پر خبر چلنے کے بعد پتہ چلا کہ اس نے خودکشی کی ہے، جب کہ انہیں اس بات پر بھی افسوس ہے کہ پولیس اور میڈیا نے جلد بازی میں نائلہ کی ہلاکت کو خودکشی کے طور پرپیش کیا۔</p><p class=''>طالبہ کے خاندان  کا کہنا ہے کہ  میڈیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ  خود سے معاملے کو اپنی مرضی کا رنگ دیں۔</p><p class=''>اہل خانہ کے مطابق معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے جب انہوں نے  نائلہ کے موبائل پر فون کیا، تو پولیس نے انہیں حیدرآباد آکر لاش لے جانے کے لیے  کہا، جب کہ اہل خانہ کی غیر موجودگی اور مرضی کے بغیر   نائلہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ </p><p class=''>اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ وہاں کے معاملات سے متعلق کچھ جانتے ہیں، بس انہیں یہ پتہ ہے کہ نائلہ اساتذہ کی گڈ بک میں شامل تھی اور بڑی محنتی بچی تھی۔</p><p class=''>اہل خانہ نے مزید بتایا کہ نائلہ رند 3 دن قبل موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے ہی  یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوئی تھی، اس نے کہا تھا اسے تھیسز لکھ کر جمع کروانا ہے، اس لیے جلدی جارہی ہے۔</p><h2>نائلہ رند کون تھی؟</h2>
<p class=''>مبینہ خودکشی کرنے والی 24 سالہ نائلہ رند سندھ یونیورسٹی میں ایم اے سندھی ادب کے آخری سال کی طالبہ تھی، وہ اپنے کلاس کی ذہین ترین طلبہ میں شمار ہوتی تھی۔</p><p class=''>نائلہ رند نے تیسرے سیمسٹر میں سب سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے سمیت اپنے ڈپارٹمنٹ میں کئی ایوارڈز جیت چکی تھیں،وہ اخبارات اور میگزین میں ادب ، تعلیم اور سماجی مسائل پر تحریریں بھی لکھتی تھیں۔</p><p class=''>نائلہ رند کی ہم جماعت طالبات نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا یا کوئی افیئر نہیں تھا، وہ کبھی بھی پریشان یا تنگ نظر نہیں آئی۔</p><p class=''>نائلہ کی یونیورسٹی ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کے واقعے کے بعد سول سوسائٹی کی تنظیمیں معاملے کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جب کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال معاملے کی تفتیش کرانے یا نہ کرانے سے متعلق کوئی اعلان سامنے نہیں آسکا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1049771</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Jan 2017 18:34:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ساگر سہندڑو)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/01/586ba2c8d0a3a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/01/586ba2c8d0a3a.jpg"/>
        <media:title>نائلہ رند کا شمار کلاس کی ذہین لڑکیوں میں ہوتا تھا—فوٹو: فیس بک</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
