<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:05:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:05:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایسی گاڑی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1049961/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;ٹویوٹا نے اپنی کانسیپٹ گاڑی آئی کو متعارف کرایا ہے جسے مستقبل کی سواری قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لاس ویگاس میں جاری سی ای ایس نمائش کے دوران اس مستقبل کے ڈیزائن اور ایرو ڈائنامک ساخت کی گاڑی کو پیش کیا گیا جو کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ لگ رہی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی کے مطابق یہ گاڑی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹم پر تیار کی گئی ہے جسے یوئی کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب خود سیکھ کر ڈرائیور کے ساتھ بڑھنا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کا انٹرفیس دنیا بھر کے افراد سے رابطوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جس کے اندر موجود سسٹمز کی بدولت یہ سواری لائٹ، آواز اور ضروری معلومات خودکار طور پر فراہم کرسکے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی کا تو دعویٰ ہے کہ اس گاڑی سے لوگوں کو زیادہ پرجوش اور دوستانہ تجربہ ہوگا اور ڈرائیونگ بہت آسان ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یوئی نامی یہ اے آئی سسٹم گاڑی کے اندر نصب کیا گیا ہے جو لوگوں سے رابطوں کے ساتھ ساتھ خودکار ڈرائیونگ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/01/586e72025df88.jpg'  alt='فوٹو بشکریہ ٹویوٹا' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ ٹویوٹا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس گاڑی کے دروازے ڈرائیور یا مسافروں کے قریب آنے پر خود کھل جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کی ہیڈ لائٹس درحقیقت آنکھوں کی پلکوں کی طرح جھپکتی یا جھلملاتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درحقیقت یہ کسی بڑے سائز کے اسمارٹ فون کی طرح کی گاڑی ہے جو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی تاہم یہ کب سڑکوں پر دوڑتی نظر آئے گی، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>ٹویوٹا نے اپنی کانسیپٹ گاڑی آئی کو متعارف کرایا ہے جسے مستقبل کی سواری قرار دیا گیا ہے۔</p><p class=''>لاس ویگاس میں جاری سی ای ایس نمائش کے دوران اس مستقبل کے ڈیزائن اور ایرو ڈائنامک ساخت کی گاڑی کو پیش کیا گیا جو کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ لگ رہی تھی۔</p><p class=''>کمپنی کے مطابق یہ گاڑی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹم پر تیار کی گئی ہے جسے یوئی کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب خود سیکھ کر ڈرائیور کے ساتھ بڑھنا ہے۔</p><p class=''>کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کا انٹرفیس دنیا بھر کے افراد سے رابطوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جس کے اندر موجود سسٹمز کی بدولت یہ سواری لائٹ، آواز اور ضروری معلومات خودکار طور پر فراہم کرسکے گی۔</p><p class=''>کمپنی کا تو دعویٰ ہے کہ اس گاڑی سے لوگوں کو زیادہ پرجوش اور دوستانہ تجربہ ہوگا اور ڈرائیونگ بہت آسان ہوجائے گی۔</p><p class=''>یوئی نامی یہ اے آئی سسٹم گاڑی کے اندر نصب کیا گیا ہے جو لوگوں سے رابطوں کے ساتھ ساتھ خودکار ڈرائیونگ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/01/586e72025df88.jpg'  alt='فوٹو بشکریہ ٹویوٹا' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ ٹویوٹا</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>اس گاڑی کے دروازے ڈرائیور یا مسافروں کے قریب آنے پر خود کھل جاتے ہیں۔</p><p class=''>اس کی ہیڈ لائٹس درحقیقت آنکھوں کی پلکوں کی طرح جھپکتی یا جھلملاتی رہتی ہیں۔</p><p class=''>درحقیقت یہ کسی بڑے سائز کے اسمارٹ فون کی طرح کی گاڑی ہے جو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی تاہم یہ کب سڑکوں پر دوڑتی نظر آئے گی، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1049961</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jan 2018 18:48:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/01/586e72025df41.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/01/586e72025df41.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ ٹویوٹا</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
