<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 22:18:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 22:18:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی سفری پابندیاں: ڈاکٹرز اور مریضوں کے استثنیٰ کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1051598/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;واشنگٹن: امریکی ڈاکٹروں کے ایک بڑے گروپ نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ 7 مسلم ممالک کے تارکین پر پابندی کے حکم نامے کے باوجود عالمی ڈاکٹرز اور تشویش ناک حالت میں آنے والے مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنائے جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (اے ایم اے) کی جانب سے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری جوہن کیلی کو بھیجے گئے خط میں مطلع کیا گیا ہے کہ اس حکم نامے سے دیگر ممالک کے ڈاکٹرز کو روکے جانے کی وجہ سے طب کے شعبے میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، اور اس سے ملک میں موجود ڈاکٹرز واپس جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt; اے ایم اے کی جانب سے اپنی  &lt;a href='https://wire.ama-assn.org/ama-news/travel-ban-threatens-care-access-ama-urges-clarity?utm_source=TWITTER&amp;utm_medium=Social_AMA&amp;utm_term=795994729&amp;utm_content=other&amp;utm_campaign=article_alert' &gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ پر جاری کردہ خط&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں یہ بھی کہا گیا کہ ایگزیکٹو آرڈرز کا اطلاق ان مریضوں پر بھی روک دیا جائے، جو علاج کی غرض سے ضرورت کے تحت ریاست ہائے متحدہ امریکا آنا چاہتے ہوں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خط میں مزید کہا گیا کہ ایگزیکیٹو احکامات سے مریضوں پر برے اثرات مرتب  ہو رہے ہیں، اور یہ نادانستہ طور پر ہمارے قومی ہیلتھ کیئر سسٹم کو غیر اہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خط کے مطابق یہ بے حد ضروری ہے کہ یہ احکامات مریضوں کے لیے رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈاکٹروں کی تنظیم نے اپنے خط میں امریکا میں میڈیکل تعلیم لینے والے غیر ملکی طلبہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر 4 میں سے ایک غیر ملکی میڈیکل گریجویٹ اس وقت امریکا میں زیر تربیت ہے، ان ڈاکٹرز کے پسماندہ اور غریب طبقے میں کام کرنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، پابندی کی وجہ سے ان کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب دوسرے ڈاکٹرز کے گروپس ایسوسی ایشن امریکن میڈیکل کالجز اور امریکن کالج آف فزیشنز نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر تحفظات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے بعد ایسے مریض بھی متاثر ہوئے، جنہوں نے علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے امریکا کی مختلف ہسپتالوں میں درخواستیں دے رکھیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی ریاست میری لینڈ کی مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیم ہیبرو امیگرنٹ ایڈ سوسائٹی (ایچ آئی اے ایس) کے مطابق ایگزیکٹو آرڈرز کے بعد علاج کے لیے درخواستیں دینے والے 800 مریض امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادھرہوم لینڈ سیکیورٹی کے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی عوام کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایجنسی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے 27 جنوری 2017 کو ایک ایگزیکٹیوآرڈر کے ذریعے تارکین وطن کے داخلے کا پروگرام معطل کرتے ہوئے 7 مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا آمد پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکیوں کی دہشت گرد حملوں سے حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے متنازع احکامات کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، جب کہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اور سوشل ویب سائٹس کی مشہور کمپنیوں گوگل اور فیس بک نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر خدشات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>واشنگٹن: امریکی ڈاکٹروں کے ایک بڑے گروپ نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ 7 مسلم ممالک کے تارکین پر پابندی کے حکم نامے کے باوجود عالمی ڈاکٹرز اور تشویش ناک حالت میں آنے والے مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنائے جائے۔</p><p class=''>امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (اے ایم اے) کی جانب سے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری جوہن کیلی کو بھیجے گئے خط میں مطلع کیا گیا ہے کہ اس حکم نامے سے دیگر ممالک کے ڈاکٹرز کو روکے جانے کی وجہ سے طب کے شعبے میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، اور اس سے ملک میں موجود ڈاکٹرز واپس جاسکتے ہیں۔</p><p class=''> اے ایم اے کی جانب سے اپنی  <a href='https://wire.ama-assn.org/ama-news/travel-ban-threatens-care-access-ama-urges-clarity?utm_source=TWITTER&utm_medium=Social_AMA&utm_term=795994729&utm_content=other&utm_campaign=article_alert' ><strong>ویب سائٹ پر جاری کردہ خط</strong></a> میں یہ بھی کہا گیا کہ ایگزیکٹو آرڈرز کا اطلاق ان مریضوں پر بھی روک دیا جائے، جو علاج کی غرض سے ضرورت کے تحت ریاست ہائے متحدہ امریکا آنا چاہتے ہوں۔</p><p class=''>خط میں مزید کہا گیا کہ ایگزیکیٹو احکامات سے مریضوں پر برے اثرات مرتب  ہو رہے ہیں، اور یہ نادانستہ طور پر ہمارے قومی ہیلتھ کیئر سسٹم کو غیر اہم کر رہا ہے۔</p><p class=''>خط کے مطابق یہ بے حد ضروری ہے کہ یہ احکامات مریضوں کے لیے رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔</p><p class=''>ڈاکٹروں کی تنظیم نے اپنے خط میں امریکا میں میڈیکل تعلیم لینے والے غیر ملکی طلبہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر 4 میں سے ایک غیر ملکی میڈیکل گریجویٹ اس وقت امریکا میں زیر تربیت ہے، ان ڈاکٹرز کے پسماندہ اور غریب طبقے میں کام کرنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، پابندی کی وجہ سے ان کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔</p><p class=''>دوسری جانب دوسرے ڈاکٹرز کے گروپس ایسوسی ایشن امریکن میڈیکل کالجز اور امریکن کالج آف فزیشنز نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر تحفظات کا اظہار کیا۔</p><p class=''>رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے بعد ایسے مریض بھی متاثر ہوئے، جنہوں نے علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے امریکا کی مختلف ہسپتالوں میں درخواستیں دے رکھیں تھی۔</p><p class=''>امریکی ریاست میری لینڈ کی مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیم ہیبرو امیگرنٹ ایڈ سوسائٹی (ایچ آئی اے ایس) کے مطابق ایگزیکٹو آرڈرز کے بعد علاج کے لیے درخواستیں دینے والے 800 مریض امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔</p><p class=''>ادھرہوم لینڈ سیکیورٹی کے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی عوام کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایجنسی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔</p><p class=''>خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے 27 جنوری 2017 کو ایک ایگزیکٹیوآرڈر کے ذریعے تارکین وطن کے داخلے کا پروگرام معطل کرتے ہوئے 7 مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا آمد پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔</p><p class=''>ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکیوں کی دہشت گرد حملوں سے حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔</p><p class=''>ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے متنازع احکامات کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، جب کہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اور سوشل ویب سائٹس کی مشہور کمپنیوں گوگل اور فیس بک نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر خدشات کا اظہار کیا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1051598</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Feb 2017 14:56:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/02/5892f14e13872.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/02/5892f14e13872.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
