<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:55:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:55:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دریائے راوی میں کشتی حادثہ، معاملہ پیچیدہ ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1051720/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;ننکانہ صاحب: صوبہ پنجاب میں دریائے راوی میں گزشتہ روز کشتی ڈوبنے کی وجہ سے 70 سے زائد افراد کو انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو کرنے کے دعویٰ کرنے کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز اوکاڑہ سے ننکانہ جانے والی کشتی دریائے راوی میں زیر تعمیر سیداں والا پل سے ٹکرانے کے بعد حادثے کا شکار ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈپٹی کمشنر( ڈی سی) ننکانہ سائرہ عمر کا کہنا تھا کہ کشتی میں 70 سے زائد افراد سوار تھے، جن میں سے 30 کو فوری طور پر ریسکیو کرلیا گیا تھا، بعد ازاں حکومت نے دیگر تمام افراد کو بھی ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/589580ff22ad1.jpg'  alt='انتظامیہ نے تمام افراد کو ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا&amp;mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;انتظامیہ نے تمام افراد کو ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا—فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈی سی ننکانہ نے 3 اور 4 فروری کی درمیانی شب ڈان نیوز کو بتایا کہ تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے اور ان کے پاس ایسے کوئی افراد نہیں آئے جنہوں نے اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم 4 فروری کی صبح انتظامیہ کی جانب سے دریائے راوی میں دوبارہ امدادی سرگرمیاں شروع کرانے سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہفتہ 4 جنوری کو پاک فوج کے 70 جب کہ ریسکیو 1122 کے 80 سے زائد اہلکاروں نے دریائے راوی میں امدادی سرگرمیاں شروع کیں تو حادثے میں مزید افراد کے لاپتہ ہونے کا شبہ کیا جانے لگا، مگر انتظامیہ کے مطابق تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/58958173ae35e.jpg'  alt='دعوے کے باوجود امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے معاملہ پیچیدہ ہوا&amp;mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دعوے کے باوجود امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے معاملہ پیچیدہ ہوا—فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے بعد 3 خاندان بھی سامنے آگئے، جنہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مبینہ طور پر لاپتہ ہونے افراد کے اہل خانہ کے مطابق تینوں خاندانوں کا ایک ایک فرد لاپتہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گزشتہ روز حادثے کے بعد عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ کشتی میں 150 سے زائد افراد سوار تھے، جب کہ انتظامیہ اس بات پر بضد تھی کہ کشتی میں 70 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/589581f7740b2.jpg'  alt='امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کے جوان بھی آئے&amp;mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کے جوان بھی آئے—فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حادثے کے 24 گھنٹے بعد امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا، تاہم انتظامیہ کے مطابق حادثے کا کوئی بھی شخص لاپتہ نہیں، امدادی سرگرمیاں حفاظتی نقطہ نظر کے تحت کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دریائے راوی میں اس سے پہلے بھی اسی مقام پر 1997 میں ایک کشتی کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 150 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/5895827b9c968.jpg'  alt='تین ایسے خاندان بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنے افراد لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا&amp;mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تین ایسے خاندان بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنے افراد لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا—فوٹو: ڈان نیوز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ ننکانہ میں دریائے راوی کے راستے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کے لیے سفری سہولیات کے لیے کشتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے، پنجاب کے علاوہ سندھ میں بھی ایسے کئی علاقے موجود ہیں جن کے درمیان دریا آنے کے باعث سفری سہولیات کے لیے کشتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کشتیوں میں بیک وقت لوگ، مویشی اور اشیاء خور و نوش سمیت دیگر کئی چیزیں رکھی جاتی ہیں اور یہ کشتیاں عام کشتیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>ننکانہ صاحب: صوبہ پنجاب میں دریائے راوی میں گزشتہ روز کشتی ڈوبنے کی وجہ سے 70 سے زائد افراد کو انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو کرنے کے دعویٰ کرنے کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ گزشتہ روز اوکاڑہ سے ننکانہ جانے والی کشتی دریائے راوی میں زیر تعمیر سیداں والا پل سے ٹکرانے کے بعد حادثے کا شکار ہوئی تھی۔</p><p class=''>ڈپٹی کمشنر( ڈی سی) ننکانہ سائرہ عمر کا کہنا تھا کہ کشتی میں 70 سے زائد افراد سوار تھے، جن میں سے 30 کو فوری طور پر ریسکیو کرلیا گیا تھا، بعد ازاں حکومت نے دیگر تمام افراد کو بھی ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/589580ff22ad1.jpg'  alt='انتظامیہ نے تمام افراد کو ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا&mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">انتظامیہ نے تمام افراد کو ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا—فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>ڈی سی ننکانہ نے 3 اور 4 فروری کی درمیانی شب ڈان نیوز کو بتایا کہ تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے اور ان کے پاس ایسے کوئی افراد نہیں آئے جنہوں نے اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔</p><p class=''>تاہم 4 فروری کی صبح انتظامیہ کی جانب سے دریائے راوی میں دوبارہ امدادی سرگرمیاں شروع کرانے سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا۔ </p><p class=''>ہفتہ 4 جنوری کو پاک فوج کے 70 جب کہ ریسکیو 1122 کے 80 سے زائد اہلکاروں نے دریائے راوی میں امدادی سرگرمیاں شروع کیں تو حادثے میں مزید افراد کے لاپتہ ہونے کا شبہ کیا جانے لگا، مگر انتظامیہ کے مطابق تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/58958173ae35e.jpg'  alt='دعوے کے باوجود امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے معاملہ پیچیدہ ہوا&mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دعوے کے باوجود امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے معاملہ پیچیدہ ہوا—فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے بعد 3 خاندان بھی سامنے آگئے، جنہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا۔</p><p class=''>مبینہ طور پر لاپتہ ہونے افراد کے اہل خانہ کے مطابق تینوں خاندانوں کا ایک ایک فرد لاپتہ ہے۔</p><p class=''>گزشتہ روز حادثے کے بعد عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ کشتی میں 150 سے زائد افراد سوار تھے، جب کہ انتظامیہ اس بات پر بضد تھی کہ کشتی میں 70 افراد سوار تھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/589581f7740b2.jpg'  alt='امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کے جوان بھی آئے&mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کے جوان بھی آئے—فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>حادثے کے 24 گھنٹے بعد امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہوگیا، تاہم انتظامیہ کے مطابق حادثے کا کوئی بھی شخص لاپتہ نہیں، امدادی سرگرمیاں حفاظتی نقطہ نظر کے تحت کی جا رہی ہیں۔</p><p class=''>دریائے راوی میں اس سے پہلے بھی اسی مقام پر 1997 میں ایک کشتی کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 150 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/02/5895827b9c968.jpg'  alt='تین ایسے خاندان بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنے افراد لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا&mdash;فوٹو: ڈان نیوز' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تین ایسے خاندان بھی سامنے آئے جنہوں نے اپنے افراد لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا—فوٹو: ڈان نیوز</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>یاد رہے کہ ننکانہ میں دریائے راوی کے راستے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کے لیے سفری سہولیات کے لیے کشتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے، پنجاب کے علاوہ سندھ میں بھی ایسے کئی علاقے موجود ہیں جن کے درمیان دریا آنے کے باعث سفری سہولیات کے لیے کشتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔</p><p class=''>ان کشتیوں میں بیک وقت لوگ، مویشی اور اشیاء خور و نوش سمیت دیگر کئی چیزیں رکھی جاتی ہیں اور یہ کشتیاں عام کشتیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1051720</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Feb 2017 12:37:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بلال شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/02/589580a836012.jpg?r=1882901439" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/02/589580a836012.jpg?0.8218072945782853"/>
        <media:title>دریائے راوی میں کشتی گزشتہ روز ڈوبی تھی—فوٹو: ڈان نیوز</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
