<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:36:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 12:36:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا سلمان بٹ اور آصف پی ایس ایل کا حصہ بن رہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1052193/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد یونائیٹڈ نے اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ قومی ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد آصف کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے زیر گردش افواہوں کی تردید کر دی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان سپر لیگ میں مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو لیگ سے معطل کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دونوں کھلاڑیوں کی وطن واپسی کے بعد حال ہی سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ شرجیل اور خالد کی جگہ سلمان بٹ اور محمد آصف کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر محمد عامر، محمد آصف اور اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: ’&lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052185/' &gt;اللہ جانتا ہے بے قصور ہوں، کچھ غلط نہیں کیا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تینوں کھلاڑیوں پر عائد پابندی کا 2015 میں خاتمہ ہو گیا تھا اور آئی سی سی نے انہیں ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;محمد عامر کی گزشتہ سال انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوئی تھی جبکہ بقیہ دونوں کرکٹرز تاحال قومی ٹیم میں واپسی کیلئے کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان سپر لیگ کے درافٹ میں بھی کسی ٹیم نے دونوں کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں کی لیکن شرجیل اور خالد کی معطلی کے بعد سوشل میڈیا پر افواہیں گرم تھیں کہ دونوں کھلاڑیوں کو اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;البتہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے اس خبر کی تردید کر دی ہے اور فرنچائز کے منیجر ریحان الحق نے کہا ہے کہ عامر اور سلمان بٹ کی اسلام آباد یونائیٹڈ میں شمولیت کے حوالے سے تمام افوہیں بے بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد یونائیٹڈ نے اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ قومی ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد آصف کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے زیر گردش افواہوں کی تردید کر دی ہے۔</p><p class=''>پاکستان سپر لیگ میں مبینہ طور پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو لیگ سے معطل کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔</p><p class=''>دونوں کھلاڑیوں کی وطن واپسی کے بعد حال ہی سوشل میڈیا پر یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ شرجیل اور خالد کی جگہ سلمان بٹ اور محمد آصف کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر محمد عامر، محمد آصف اور اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: ’<a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052185/' >اللہ جانتا ہے بے قصور ہوں، کچھ غلط نہیں کیا‘</a></strong></p><p class=''>تینوں کھلاڑیوں پر عائد پابندی کا 2015 میں خاتمہ ہو گیا تھا اور آئی سی سی نے انہیں ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔</p><p class=''>محمد عامر کی گزشتہ سال انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوئی تھی جبکہ بقیہ دونوں کرکٹرز تاحال قومی ٹیم میں واپسی کیلئے کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔</p><p class=''>پاکستان سپر لیگ کے درافٹ میں بھی کسی ٹیم نے دونوں کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں کی لیکن شرجیل اور خالد کی معطلی کے بعد سوشل میڈیا پر افواہیں گرم تھیں کہ دونوں کھلاڑیوں کو اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔</p><p class=''>البتہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے اس خبر کی تردید کر دی ہے اور فرنچائز کے منیجر ریحان الحق نے کہا ہے کہ عامر اور سلمان بٹ کی اسلام آباد یونائیٹڈ میں شمولیت کے حوالے سے تمام افوہیں بے بنیاد ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1052193</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Feb 2017 13:58:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/02/58a16f56c79f3.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/02/58a16f56c79f3.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/02/58a16f32399eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/02/58a16f32399eb.jpg"/>
        <media:title>2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر محمد عامر، محمد آصف اور اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی— فائل فوٹو: اے پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
