<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 22:57:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 22:57:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مخصوص اشیاء کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کا نفاذ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1052939/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو کم کرنے والے خطرنات اور تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لیے درآمد کی جانے والی کئی چیزوں پر 100 فیصد مارجن کا نفاذ کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق ان اقدامات سے ان درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ان کے عام عوام پر برائے نام اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جن اشیاء کی درآمد پر 100 فیصد مارجن کا نفاذ کیا گیا، ان میں گاڑیوں، ان کے پرزہ جات اور مکمل یونٹس، موبائل فون، سگریٹ، جیولری، کاسمیٹکس، ذاتی استعمال کی اشیاء، برقی اور گھریلو آلات جبکہ اسلحے سمیت دیگر چیزیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، 16-2015 میں ایک ارب 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی گاڑیاں اور پرزہ جات درآمد کیے گئے، جبکہ اس میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، رواں مالی سال 17-2016 کے ابتدائی 7 ماہ میں ایک ارب ایک کروڑ ڈالر کی درآمدات ہو چکی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان میں سال 16-2015 میں موبائل فون کی درآمدات نصف ارب سے تجاوز کر گئی تھی، گزشتہ مالی سال میں 66 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے موبائل فون درآمد کیے گئے، جب کہ رواں برس اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا، مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران درآمدات 33 کروڑ 40 لاکھ  ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1026571' &gt;اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں کمی کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ملک میں الیکٹریکل مشینری اور آلات میں بھی نمایاں طور پر اضافہ دیکھا گیا، جس وجہ سے حکومت کو زر مبادلہ کے ذخائر کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بینکاروں کے مطابق دباؤ بڑھنے کے باعث گزشتہ چار ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اکتوبر 2016 کے بعد رواں ماہ کے وسط میں کم ہوئے ہیں، اس وقت یہ ذخائر  21.9 ارب ڈالر ہیں ، جب کہ یہی ذخائر اکتوبر 2016 میں 24 ارب ڈالر تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;الیکٹریکل مشینری کی درآمدات سال 16-2015 کے درمیان ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تھیں، جب کہ رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران اس کے مزید بڑھنے کے اشارے ملے ہیں، کیوں کہ ان مشینری کی درآمدات کی ترسیلات 7 ماہ کے دوران 69 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046020' &gt;اسٹیٹ بینک کے ڈیپارٹمنٹس کی منتقلی رک گئی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اسٹیٹ بینک  نے امید ظاہر کی ہے کہ ایسی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمد ان اقدامات سے متوازن سطح پر رہیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ مرکزی بینک کو درآمدات میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات سال 16-2015 میں 4 ارب 60 کروڑ ڈالر  تھی، جو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران 3 ارب تک پہنچ گئی، جب کہ یہی درآمدات گزشتہ مالی سال میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 25 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو کم کرنے والے خطرنات اور تجارتی خسارے پر کنٹرول کے لیے درآمد کی جانے والی کئی چیزوں پر 100 فیصد مارجن کا نفاذ کردیا۔</p><p class=''>اسٹیٹ بینک کے مطابق ان اقدامات سے ان درآمدی اشیاء کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ان کے عام عوام پر برائے نام اثرات مرتب ہوں گے۔</p><p class=''>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جن اشیاء کی درآمد پر 100 فیصد مارجن کا نفاذ کیا گیا، ان میں گاڑیوں، ان کے پرزہ جات اور مکمل یونٹس، موبائل فون، سگریٹ، جیولری، کاسمیٹکس، ذاتی استعمال کی اشیاء، برقی اور گھریلو آلات جبکہ اسلحے سمیت دیگر چیزیں شامل ہیں۔</p><p class=''>گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، 16-2015 میں ایک ارب 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی گاڑیاں اور پرزہ جات درآمد کیے گئے، جبکہ اس میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، رواں مالی سال 17-2016 کے ابتدائی 7 ماہ میں ایک ارب ایک کروڑ ڈالر کی درآمدات ہو چکی ہیں۔ </p><p class=''>پاکستان میں سال 16-2015 میں موبائل فون کی درآمدات نصف ارب سے تجاوز کر گئی تھی، گزشتہ مالی سال میں 66 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے موبائل فون درآمد کیے گئے، جب کہ رواں برس اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا، مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران درآمدات 33 کروڑ 40 لاکھ  ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1026571' >اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں کمی کا اعلان</a></h6>
<p class=''>ملک میں الیکٹریکل مشینری اور آلات میں بھی نمایاں طور پر اضافہ دیکھا گیا، جس وجہ سے حکومت کو زر مبادلہ کے ذخائر کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔</p><p class=''>بینکاروں کے مطابق دباؤ بڑھنے کے باعث گزشتہ چار ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہوئی۔</p><p class=''>پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اکتوبر 2016 کے بعد رواں ماہ کے وسط میں کم ہوئے ہیں، اس وقت یہ ذخائر  21.9 ارب ڈالر ہیں ، جب کہ یہی ذخائر اکتوبر 2016 میں 24 ارب ڈالر تھے۔</p><p class=''>الیکٹریکل مشینری کی درآمدات سال 16-2015 کے درمیان ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تھیں، جب کہ رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران اس کے مزید بڑھنے کے اشارے ملے ہیں، کیوں کہ ان مشینری کی درآمدات کی ترسیلات 7 ماہ کے دوران 69 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1046020' >اسٹیٹ بینک کے ڈیپارٹمنٹس کی منتقلی رک گئی</a></h6>
<p class=''>اسٹیٹ بینک  نے امید ظاہر کی ہے کہ ایسی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمد ان اقدامات سے متوازن سطح پر رہیں گے۔</p><p class=''>دوسری جانب ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ مرکزی بینک کو درآمدات میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئیے۔</p><p class=''>کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات سال 16-2015 میں 4 ارب 60 کروڑ ڈالر  تھی، جو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران 3 ارب تک پہنچ گئی، جب کہ یہی درآمدات گزشتہ مالی سال میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تھیں۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 25 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1052939</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Feb 2017 13:33:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/02/58b1313b52516.jpg?r=301146049" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/02/58b1313b52516.jpg?r=475743411"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
