<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 18:53:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 18:53:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھری ڈی پرنٹڈ گھر کی تعمیر صرف ایک دن میں ممکن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1053348/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;ایک گھر کی تعمیر کے لیے کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ لاکھوں روپوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ آپ صرف چوبیس گھنٹے یعنی ایک دن میں محض دس ہزار ڈالرز کی لاگت سے ایک گھر کے مالک بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جی ہاں واقعی ایک کمپنی اپیس کور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے 400 اسکوائرفٹ کاگھرایک دن میں تعمیر کردیتی ہے جس کی لاگت دس ہزار ڈالرز یا دس لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ کمپنی گھر کی تعمیر موبائل تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے کرتی ہے جیسا آپ نیچے ویڈیو میں دیکھ بھی سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گھر کے اہم عناصر بشمول دیواریں، کمرے اور دیگر کو کنکریٹ کے مکسچر کے ساتھ پرنٹ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے بعد کھڑکیاں اور دیگر سامان جیسے سیڑھیوں وغیرہ کو بعد میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ پینٹ کو بھی گھر کے باہر کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس پوورے کام کی لاگت یا گھر کی تعمیر کا خرچہ 10134 ڈالرز ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تھری ڈی پرنٹڈ یہ گھر 175 سال تک قابل استعمال رہ سکتا ہے اور اس کے لیے انہوں نے روس میں ایک گھر تعمیر بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی کے مطابق ہم لوگوں کے اس نظریے کو بدلنا چاہتے ہیں کہ کسی گھر کی تعمیر بہت جلد نہیں ہوسکتی درحقیقت یہ ماحول دوست اور پائیدار گھر ایک دن میں تعمیر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمپنی کا عزم ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی بن کر ہر ملک میں رہائش کے مسائل کو حل کردے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل دنیا کی پہلی تھری ڈی پرنٹڈ اپارٹمنٹ بلڈنگ چین میں گزشتہ سال تعمیر کی گئی تھی جس کے لیے 45 دن کا عرصہ لگا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/xktwDfasPGQ?enablejsapi=1&amp;showinfo=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>ایک گھر کی تعمیر کے لیے کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ لاکھوں روپوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔</p><p class=''>مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ آپ صرف چوبیس گھنٹے یعنی ایک دن میں محض دس ہزار ڈالرز کی لاگت سے ایک گھر کے مالک بن سکتے ہیں۔</p><p class=''>جی ہاں واقعی ایک کمپنی اپیس کور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے 400 اسکوائرفٹ کاگھرایک دن میں تعمیر کردیتی ہے جس کی لاگت دس ہزار ڈالرز یا دس لاکھ پاکستانی روپے سے زیادہ ہے۔</p><p class=''>یہ کمپنی گھر کی تعمیر موبائل تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے کرتی ہے جیسا آپ نیچے ویڈیو میں دیکھ بھی سکتے ہیں۔</p><p class=''>گھر کے اہم عناصر بشمول دیواریں، کمرے اور دیگر کو کنکریٹ کے مکسچر کے ساتھ پرنٹ کیا جاتا ہے۔</p><p class=''>اس کے بعد کھڑکیاں اور دیگر سامان جیسے سیڑھیوں وغیرہ کو بعد میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ پینٹ کو بھی گھر کے باہر کیا جاتا ہے۔</p><p class=''>اس پوورے کام کی لاگت یا گھر کی تعمیر کا خرچہ 10134 ڈالرز ہے۔</p><p class=''>کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تھری ڈی پرنٹڈ یہ گھر 175 سال تک قابل استعمال رہ سکتا ہے اور اس کے لیے انہوں نے روس میں ایک گھر تعمیر بھی کیا ہے۔</p><p class=''>کمپنی کے مطابق ہم لوگوں کے اس نظریے کو بدلنا چاہتے ہیں کہ کسی گھر کی تعمیر بہت جلد نہیں ہوسکتی درحقیقت یہ ماحول دوست اور پائیدار گھر ایک دن میں تعمیر ہوسکتا ہے۔</p><p class=''>کمپنی کا عزم ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی بن کر ہر ملک میں رہائش کے مسائل کو حل کردے۔</p><p class=''>اس سے قبل دنیا کی پہلی تھری ڈی پرنٹڈ اپارٹمنٹ بلڈنگ چین میں گزشتہ سال تعمیر کی گئی تھی جس کے لیے 45 دن کا عرصہ لگا تھا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/xktwDfasPGQ?enablejsapi=1&showinfo=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1053348</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Mar 2017 18:01:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58b968fb2853f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58b968fb2853f.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ ایپس کور</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
