<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:28:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:28:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: باغیوں کے حملے میں 11 اہلکار ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1053815/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;رائے پور: بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ  نواز باغیوں کے حملے میں 11 اہلکار ہلاک جب کہ 5 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہلاک ہونے والے تمام اہلکاروں کا تعلق سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) سے ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس  سندر راج پی نے بتایا کہ دارالحکومت رائے پور سے 400 کلو میٹر دور ماؤ نواز باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے ضلع سکما میں حملہ آوروں نے گھات لگاکر اہلکاروں پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس کے مطابق ماؤ نواز باغیوں نے پولیس اہلکاروں پر اس وقت حملہ کیا، جب وہ ایک جنگل سے گزر رہے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی جی پی نے بتایا کہ سی آر پی ایف کے 100 اہلکاروں کو بھیجی تھانے کی حدود میں ایک زیر تعمیر روڈ کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا تھا، مگر راستے میں ہی ان پر حملہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ماؤ نواز باغیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جلد سکما ضلع کے حالات قابو میں آجا ئیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی ماؤ نواز باغی بھارتی پولیس اور فوج سمیت دیگر سیکیورٹی فورسز پرحملہ کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/94041/clash-between-mao-rebels-and-indian-security-forces-claims-eight-lives' &gt;سیکیورٹی فورسز اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان جھڑپ، آٹھ ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;باغیوں نے  2010 میں چھتیس گڑھ میں ہی جنگل سے گزرنے والے پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا تھا، جس وجہ سے 75 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماؤ باغیوں کا مؤقف ہے کہ وہ قبائلی عوام اور بے زمین کسانوں کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں،جب کہ حکومت انہیں ملک کی داخلی سکیورٹی کے لئے سنگین ترین خطرہ قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماؤ باغیوں نے 2003 سے مسلح کارروائیاں تیز کی تھیں ہندوستان کی وسطی ریاستیں چھتیس گڑھ، اڑیسا، بہار، جھاڑ کھنڈ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ان کے مراکز قائم ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ماؤ باغیوں کے خلاف حکومت نے بڑے پیمانے پر فوج، پولیس اور خصوصی پیرا ملٹری فورس کے ذریعے آپریشن شروع کر رکھا ہے، مگر تاحال حکومت کو ان کے خلاف مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>رائے پور: بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ  نواز باغیوں کے حملے میں 11 اہلکار ہلاک جب کہ 5 زخمی ہوگئے۔</p><p class=''>ہلاک ہونے والے تمام اہلکاروں کا تعلق سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) سے ہے۔</p><p class=''>انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس  سندر راج پی نے بتایا کہ دارالحکومت رائے پور سے 400 کلو میٹر دور ماؤ نواز باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے ضلع سکما میں حملہ آوروں نے گھات لگاکر اہلکاروں پر حملہ کیا۔</p><p class=''>پولیس کے مطابق ماؤ نواز باغیوں نے پولیس اہلکاروں پر اس وقت حملہ کیا، جب وہ ایک جنگل سے گزر رہے تھے۔</p><p class=''>آئی جی پی نے بتایا کہ سی آر پی ایف کے 100 اہلکاروں کو بھیجی تھانے کی حدود میں ایک زیر تعمیر روڈ کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا تھا، مگر راستے میں ہی ان پر حملہ کردیا گیا۔</p><p class=''>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ماؤ نواز باغیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جلد سکما ضلع کے حالات قابو میں آجا ئیں گے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی ماؤ نواز باغی بھارتی پولیس اور فوج سمیت دیگر سیکیورٹی فورسز پرحملہ کرتے رہے ہیں۔</p><h6>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/94041/clash-between-mao-rebels-and-indian-security-forces-claims-eight-lives' >سیکیورٹی فورسز اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان جھڑپ، آٹھ ہلاک</a></h6>
<p class=''>باغیوں نے  2010 میں چھتیس گڑھ میں ہی جنگل سے گزرنے والے پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا تھا، جس وجہ سے 75 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔</p><p class=''>ماؤ باغیوں کا مؤقف ہے کہ وہ قبائلی عوام اور بے زمین کسانوں کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں،جب کہ حکومت انہیں ملک کی داخلی سکیورٹی کے لئے سنگین ترین خطرہ قرار دیتی ہے۔</p><p class=''>ماؤ باغیوں نے 2003 سے مسلح کارروائیاں تیز کی تھیں ہندوستان کی وسطی ریاستیں چھتیس گڑھ، اڑیسا، بہار، جھاڑ کھنڈ، مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں ان کے مراکز قائم ہیں۔</p><p class=''>ماؤ باغیوں کے خلاف حکومت نے بڑے پیمانے پر فوج، پولیس اور خصوصی پیرا ملٹری فورس کے ذریعے آپریشن شروع کر رکھا ہے، مگر تاحال حکومت کو ان کے خلاف مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1053815</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Mar 2017 13:07:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58c4ffa25b985.jpg?r=1127667740" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58c4ffa25b985.jpg?r=1997670823"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
