<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health - Special</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:06:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:06:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چائے پینے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1054069/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;ویسے تو چائے پینے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں تاہم اگر آپ اسے پسند نہیں کرتے تو جان لیں کہ یہ گرم مشروب دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ دعویٰ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کم از کم ایک کپ چائے پینا دماغی تنزلی یا یوں کہہ لیں دماغی مرض ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس تحقیق کے دوران 55 سال سے زائد عمر کے 957 افراد کی چائے نوشی کی عادت کا جائزہ بارہ سال تک لیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیق کے دوران ہر دو برس بعد رضاکاروں کے دماغی افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ محققین نے ان کے طرز زندگی، طبی عوارض اور جسمانی سرگرمیوں کی معلومات بھی اکھٹی کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں مقبول اس مشروب کا روزانہ استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو لاحق ہونے والے اس مرض کا خطرہ 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیق کے مطابق سبز یا ہو سیاہ چائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ دونوں ہی دماغ پر یکساں انداز سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور چائے ورم کش ہوتی ہے جو کہ دماغ کی رگوں کو پہنچنے والے نقصان اور دماغی تنزلی سے تحفظ دیتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عام اور ہر جگہ آسانی سے دستیاب مشروب ڈیمینیشا اور پارکنسن امراض سے درمیانی عمر میں بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ عہد کی ترقی کے باوجود دماغی امراض جیسے ڈیمینشیا تاحال چیلنج سے کم نہیں اور اس کی روک تھام کی موجودہ حکمت عملیاں اطمینان بخش نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم محقین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ واضح جوابات سامنے آسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ تحقیق طبی جریدے دی جرنل آف نیوٹریشن، ہیلتھ اینڈ ایجنگ میں شائع ہوئی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>ویسے تو چائے پینے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں تاہم اگر آپ اسے پسند نہیں کرتے تو جان لیں کہ یہ گرم مشروب دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔</p><p class=''>یہ دعویٰ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔</p><p class=''>نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کم از کم ایک کپ چائے پینا دماغی تنزلی یا یوں کہہ لیں دماغی مرض ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔</p><p class=''>اس تحقیق کے دوران 55 سال سے زائد عمر کے 957 افراد کی چائے نوشی کی عادت کا جائزہ بارہ سال تک لیا گیا۔</p><p class=''>تحقیق کے دوران ہر دو برس بعد رضاکاروں کے دماغی افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ محققین نے ان کے طرز زندگی، طبی عوارض اور جسمانی سرگرمیوں کی معلومات بھی اکھٹی کی۔</p><p class=''>تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں مقبول اس مشروب کا روزانہ استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو لاحق ہونے والے اس مرض کا خطرہ 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔</p><p class=''>تحقیق کے مطابق سبز یا ہو سیاہ چائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ دونوں ہی دماغ پر یکساں انداز سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔</p><p class=''>اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور چائے ورم کش ہوتی ہے جو کہ دماغ کی رگوں کو پہنچنے والے نقصان اور دماغی تنزلی سے تحفظ دیتی ہے۔</p><p class=''>محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عام اور ہر جگہ آسانی سے دستیاب مشروب ڈیمینیشا اور پارکنسن امراض سے درمیانی عمر میں بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ موجودہ عہد کی ترقی کے باوجود دماغی امراض جیسے ڈیمینشیا تاحال چیلنج سے کم نہیں اور اس کی روک تھام کی موجودہ حکمت عملیاں اطمینان بخش نہیں۔</p><p class=''>تاہم محقین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ واضح جوابات سامنے آسکیں۔</p><p class=''>یہ تحقیق طبی جریدے دی جرنل آف نیوٹریشن، ہیلتھ اینڈ ایجنگ میں شائع ہوئی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1054069</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Mar 2017 23:32:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58cada25b4d26.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58cada25b4d26.jpg"/>
        <media:title>یہ دعویٰ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا— شٹر اسٹاک فوٹو</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
