<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:24:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:24:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کھیل میں اسپاٹ فکسنگ کی وجہ لالچ‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1054338/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ میں منظر عام پر آنے والے نئے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے لالچ کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی ابتدا میں ہی اسپاٹ فکسنگ تنازع نے سر اٹھایا تھا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر ابتدائی طور پر شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کردیا تھا جبکہ بعد میں مزید کارروائی کے بعد محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کو بھی معطل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1054304/' &gt;اسپاٹ فکسنگ کیس میں ناصر جمشید کے گرد گھیرا تنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گزشتہ مئی میں وقار یونس کی جگہ کوچ کی ذمے داریاں سنبھالنے والے آرتھر نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنے عمل کی ذمے داری لینے کی ضرورت ہے اور اس کرپشن میں ملوث کھلاڑی اپنے عمل کے خود ذمے دار ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ کھلاڑی لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے سبب انٹرنیشنل کرکٹ کو مجموعی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے اور حالیہ تنازع سے پاکستان کرکٹ کو دھچکا لگا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر انہوں نے خصوصی طور پر آل راؤنڈر شرجیل خان کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی جنہوں نے رواں سال جنوری میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں لگاتار تین نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جنوبی افریقی نژاد آرتھر نے کہا کہ شرجیل تینوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ خود کو فٹ رکھتے تھے اور ہمارے لیے ایک بہترین کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے تھے لیکن اس کیس میں ان کا ملوث ہونا افسوسناک ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1054316/' &gt;’پانی بھی پیوں تو وزن بڑھتا ہے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میچ فکسرز کی جانب سے کھلاڑیوں تک رسائی کے بعد بورڈ یا متعلقہ حکام کو اس سے بے خبر رکھنے والے کھلاڑیوں کو نظر انداز یا معاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کھلاڑیوں کو متعدد مرتبہ اس بارے میں خبردار کیا جا چکا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ہیڈ کوچ نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کھلاڑیوں کو کرپشن سے دور رہنے کے حوالے سے بے پناہ لیکچرز دیے گئے اور کھلاڑیوں کو اس سلسلے میں ہرگز لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے کیونکہ فکسنگ کی وجہ سے کھلاڑیوں کو کھونا بہت زیادہ مایوس کن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم شرجیل اور محمد عرفان کی خدمات سے محروم ہونے کے باوجود آرتھر دورہ ویسٹ انڈیز پر ٹیم کی فتوحات کیلئے پرامید ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اظہر علی کی جگہ نئے کپتان سرفراز احمد کی تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکواڈ میں موجود نئے نوجوان کھلاڑی ٹیم میں نئی روح پھونک دیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ قومی ٹیم اس وقت عالمی درجہ بندی میں آٹھویں اور ویسٹ انڈیز نویں نمبر پر موجود ہے اور دونوں ٹیموں کو 2019 ورلڈ کپ تک براہ راست رسائی کا چیلنج درپیش ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں ستمبر 2017 تک صف اول کی آٹھ ون ڈے ٹیمیں ایونٹ میں براہ راست رسائی کی اہل ہوں گی جبکہ بقیہ ٹیموں کو کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل کر ایونٹ میں شرکت کرنا ہو گی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ میں منظر عام پر آنے والے نئے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے لالچ کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔</p><p class=''>پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی ابتدا میں ہی اسپاٹ فکسنگ تنازع نے سر اٹھایا تھا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر ابتدائی طور پر شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کردیا تھا جبکہ بعد میں مزید کارروائی کے بعد محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کو بھی معطل کردیا گیا تھا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1054304/' >اسپاٹ فکسنگ کیس میں ناصر جمشید کے گرد گھیرا تنگ</a></strong></p><p class=''>گزشتہ مئی میں وقار یونس کی جگہ کوچ کی ذمے داریاں سنبھالنے والے آرتھر نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنے عمل کی ذمے داری لینے کی ضرورت ہے اور اس کرپشن میں ملوث کھلاڑی اپنے عمل کے خود ذمے دار ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ کھلاڑی لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے سبب انٹرنیشنل کرکٹ کو مجموعی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے اور حالیہ تنازع سے پاکستان کرکٹ کو دھچکا لگا ہے۔</p><p class=''>اس موقع پر انہوں نے خصوصی طور پر آل راؤنڈر شرجیل خان کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی جنہوں نے رواں سال جنوری میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں لگاتار تین نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔</p><p class=''>جنوبی افریقی نژاد آرتھر نے کہا کہ شرجیل تینوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کا حصہ تھے۔ وہ خود کو فٹ رکھتے تھے اور ہمارے لیے ایک بہترین کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے تھے لیکن اس کیس میں ان کا ملوث ہونا افسوسناک ہے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1054316/' >’پانی بھی پیوں تو وزن بڑھتا ہے‘</a></strong></p><p class=''>تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میچ فکسرز کی جانب سے کھلاڑیوں تک رسائی کے بعد بورڈ یا متعلقہ حکام کو اس سے بے خبر رکھنے والے کھلاڑیوں کو نظر انداز یا معاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کھلاڑیوں کو متعدد مرتبہ اس بارے میں خبردار کیا جا چکا تھا۔</p><p class=''>ہیڈ کوچ نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کھلاڑیوں کو کرپشن سے دور رہنے کے حوالے سے بے پناہ لیکچرز دیے گئے اور کھلاڑیوں کو اس سلسلے میں ہرگز لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے کیونکہ فکسنگ کی وجہ سے کھلاڑیوں کو کھونا بہت زیادہ مایوس کن ہوتا ہے۔</p><p class=''>تاہم شرجیل اور محمد عرفان کی خدمات سے محروم ہونے کے باوجود آرتھر دورہ ویسٹ انڈیز پر ٹیم کی فتوحات کیلئے پرامید ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اظہر علی کی جگہ نئے کپتان سرفراز احمد کی تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکواڈ میں موجود نئے نوجوان کھلاڑی ٹیم میں نئی روح پھونک دیں گے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ قومی ٹیم اس وقت عالمی درجہ بندی میں آٹھویں اور ویسٹ انڈیز نویں نمبر پر موجود ہے اور دونوں ٹیموں کو 2019 ورلڈ کپ تک براہ راست رسائی کا چیلنج درپیش ہے۔</p><p class=''>آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں ستمبر 2017 تک صف اول کی آٹھ ون ڈے ٹیمیں ایونٹ میں براہ راست رسائی کی اہل ہوں گی جبکہ بقیہ ٹیموں کو کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل کر ایونٹ میں شرکت کرنا ہو گی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1054338</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Mar 2017 20:41:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58d148dfb242b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58d148dfb242b.jpg"/>
        <media:title>مکی آرتھر نے کہا کہ حالیہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے پاکستان کرکٹ کو دھچکا لگا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
