<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:06:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:06:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں 2016 میں یومیہ 11 بچوں کا جنسی استحصال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1054444/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: گزشتہ برس جنسی استحصال یا تشدد کے شکار ہونے والے بچوں سے متعلق ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں یومیہ 11 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے، جب کہ اس صورتحال میں مسلسل اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بات غیر سرکاری سماجی تنظیم ’ساحل‘ کی جانب سے جاری کردہ ’2016 کے بے رحمانہ اعداد و شمار‘ نامی رپورٹ میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں رپورٹ کو پیش کرنے کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کینیڈین ڈپٹی ہائی کمشنر اینڈریو ٹرنر نے غیر سرکاری سماجی تنظیم کی جانب سے جنسی استحصال اور تشدد کے شکار افراد کو مفت قانونی مدد فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہتے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ خصوصی طور پر میڈیا کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہئیے اور اس معاملے کی درست رپورٹنگ کرکے متعلقہ حکام کی مدد کو یقینی بنانے میں اپنا کردا ادا کرے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تقریب سے خطاب کے دوران اعزازی مہمان اور ناروے کے سفارتکار ٹام مارٹیشن نے غیر سرکاری تنظیم کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ بچوں کا جنسی استحصال ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا کے تقریبا تمام ممالک اس چیلنج سے نبرد آزما ہیں، اور ہم اس حوالے سے کینیڈا کی مثال لے سکتے ہیں کہ کس طرح اس نے اس سنگین معاملے پر کنٹرول کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ٹام مارٹیشن کا کہنا تھا کہ ساحل نے اپنے قیام 1997 سے لے کر پاکستانیوں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کو اہمیت نہ دینے یا اسے کوئی مسئلہ ہی نہ سمجھنے کے خلاف جدوجہد کی، ساحل نے نچلی سطح سے کام کا آغاز کیا اور وسط مدتی منصوبے بنائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ ناروے کے سفارتخانہ سمجھتا ہے کہ ’ساحل‘ کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تربیت کا پروگرام ان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سب سے تسلی بخش کام ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیشنل کمشنر برائے چائلڈ کمیشن اعجاز احمد قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے کام، ڈیٹا اور اعداود شمار کی تب تک مکمل تصدیق نہیں کی جاسکتی جب تک ہم گلیوں اور سڑکوں کے بچوں، اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے، گھریلو کام کرنے والوں، جبری مشقت کرنے والوں اور استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کر دیتے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر ’ساحل‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر منیزہ بانو نے ادارے کے 20 سالہ سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شروعات میں تحقیقات، آگاہی پھیلانے، تربیت دینے اور قانونی مدد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی،جس کے بعد اب یہ ادارہ ملکی اور عالمی سطح کا تحقیقاتی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تقریب کے اختتام پر قومی، علاقائی اور لوکل اخبارات کے رپورٹرز کو بچوں سے متعلق دوستانہ رپورٹنگ کرنے پر ایوارڈز بھی دئیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایوارڈ حاصل کرنے والے رپورٹرز کا تعلق روزنامہ نوائے وقت لاہور، سندھی روزنامہ کاوش حیدرآباد اور روزنامہ سٹی 42 سے تھا، جب کہ ساحل میں رضاکارانہ خدمتیں سرانجام دینے والے افراد کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، سب سے بہترین رضاکار کا ایوارڈ محمد الیاس بھاگت کو دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 23 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد: گزشتہ برس جنسی استحصال یا تشدد کے شکار ہونے والے بچوں سے متعلق ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں یومیہ 11 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے، جب کہ اس صورتحال میں مسلسل اضافہ ہوا۔</p><p class=''>یہ بات غیر سرکاری سماجی تنظیم ’ساحل‘ کی جانب سے جاری کردہ ’2016 کے بے رحمانہ اعداد و شمار‘ نامی رپورٹ میں سامنے آئی۔</p><p class=''>اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں رپورٹ کو پیش کرنے کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کینیڈین ڈپٹی ہائی کمشنر اینڈریو ٹرنر نے غیر سرکاری سماجی تنظیم کی جانب سے جنسی استحصال اور تشدد کے شکار افراد کو مفت قانونی مدد فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہتے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔</p><p class=''>ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ خصوصی طور پر میڈیا کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہئیے اور اس معاملے کی درست رپورٹنگ کرکے متعلقہ حکام کی مدد کو یقینی بنانے میں اپنا کردا ادا کرے۔</p><p class=''>تقریب سے خطاب کے دوران اعزازی مہمان اور ناروے کے سفارتکار ٹام مارٹیشن نے غیر سرکاری تنظیم کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ بچوں کا جنسی استحصال ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا کے تقریبا تمام ممالک اس چیلنج سے نبرد آزما ہیں، اور ہم اس حوالے سے کینیڈا کی مثال لے سکتے ہیں کہ کس طرح اس نے اس سنگین معاملے پر کنٹرول کیا۔</p><p class=''>ٹام مارٹیشن کا کہنا تھا کہ ساحل نے اپنے قیام 1997 سے لے کر پاکستانیوں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کو اہمیت نہ دینے یا اسے کوئی مسئلہ ہی نہ سمجھنے کے خلاف جدوجہد کی، ساحل نے نچلی سطح سے کام کا آغاز کیا اور وسط مدتی منصوبے بنائے۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ ناروے کے سفارتخانہ سمجھتا ہے کہ ’ساحل‘ کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تربیت کا پروگرام ان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سب سے تسلی بخش کام ہے۔ </p><p class=''>نیشنل کمشنر برائے چائلڈ کمیشن اعجاز احمد قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے کام، ڈیٹا اور اعداود شمار کی تب تک مکمل تصدیق نہیں کی جاسکتی جب تک ہم گلیوں اور سڑکوں کے بچوں، اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے، گھریلو کام کرنے والوں، جبری مشقت کرنے والوں اور استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کر دیتے۔</p><p class=''>اس موقع پر ’ساحل‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر منیزہ بانو نے ادارے کے 20 سالہ سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شروعات میں تحقیقات، آگاہی پھیلانے، تربیت دینے اور قانونی مدد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی،جس کے بعد اب یہ ادارہ ملکی اور عالمی سطح کا تحقیقاتی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔</p><p class=''>تقریب کے اختتام پر قومی، علاقائی اور لوکل اخبارات کے رپورٹرز کو بچوں سے متعلق دوستانہ رپورٹنگ کرنے پر ایوارڈز بھی دئیے گئے۔</p><p class=''>ایوارڈ حاصل کرنے والے رپورٹرز کا تعلق روزنامہ نوائے وقت لاہور، سندھی روزنامہ کاوش حیدرآباد اور روزنامہ سٹی 42 سے تھا، جب کہ ساحل میں رضاکارانہ خدمتیں سرانجام دینے والے افراد کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، سب سے بہترین رضاکار کا ایوارڈ محمد الیاس بھاگت کو دیا گیا۔</p><hr>
<p class=''><strong><em>یہ خبر 23 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1054444</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Mar 2017 12:56:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملیحہ صفیع اللہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58d3758b0b29e.jpg?r=656820441" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58d3758b0b29e.jpg?r=703193831"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
