<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:56:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:56:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1054510/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل ڈسٹرکٹ کورٹ منتقل کرنے سے متعلق سول سوسائٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کا ٹرائل بھی ہائی کورٹ میں ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;طیبہ تشدد کیس میں فریق بننے اور اس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلانے کے بجائے ڈسٹرکٹ کورٹ میں چلانے کے لیے سول سوسائٹی نے عاصمہ جہانگیر کے توسط سے ایک درخواست جمع کروائی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سول سوسائٹی کی دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت نے واضح احکامات دیئے کہ طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ساتھ ہی عدالت عالیہ نے سول سوسائٹی کی کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی مسترد کردی، بعدازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;یہ بھی پڑھین: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052060' &gt;طیبہ تشدد کیس: جج، اہلیہ کی درخواست ضمانت منظور&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ طیبہ تشدد کیس کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد کی گھریلو ملازمہ طیبہ پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان کے گھر میں مبینہ تشدد کا واقعہ دسمبر 2016 میں منظر عام پر آیا تھا، طیبہ کی تشدد زدہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1049869' &gt;&lt;strong&gt;ازخود نوٹس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; لیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعتیں کرنے کے بعد کیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سول سوسائٹی نے کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کے بجائے ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرانے کے لیے درخواست جمع کرائی، جسے عدالت نے مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1051453' &gt;ملازمہ تشدد کیس اسلام آباد ہائی کورٹ ارسال&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ معاملہ عدالت میں آنے کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان سے ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں تھیں اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا تھا، جب کہ سپریم کورٹ نے 8 مارچ 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ ملزمان کے خلاف &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1053615/' &gt;&lt;strong&gt;چالان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں غلامی اور انسانی فروخت کی دفعات بھی شامل کی جائیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب طیبہ کے والدین نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان کو &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1049803/' &gt;&lt;strong&gt;معاف&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت میں صلح نامہ بھی جمع کروا دیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل ڈسٹرکٹ کورٹ منتقل کرنے سے متعلق سول سوسائٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کا ٹرائل بھی ہائی کورٹ میں ہی ہوگا۔</p><p class=''>طیبہ تشدد کیس میں فریق بننے اور اس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلانے کے بجائے ڈسٹرکٹ کورٹ میں چلانے کے لیے سول سوسائٹی نے عاصمہ جہانگیر کے توسط سے ایک درخواست جمع کروائی تھی۔</p><p class=''>درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سول سوسائٹی کی دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔</p><p class=''>عدالت نے واضح احکامات دیئے کہ طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگا۔</p><p class=''>ساتھ ہی عدالت عالیہ نے سول سوسائٹی کی کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی مسترد کردی، بعدازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔</p><h6>یہ بھی پڑھین: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1052060' >طیبہ تشدد کیس: جج، اہلیہ کی درخواست ضمانت منظور</a></h6>
<p class=''>خیال رہے کہ طیبہ تشدد کیس کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا تھا۔</p><p class=''>اسلام آباد کی گھریلو ملازمہ طیبہ پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان کے گھر میں مبینہ تشدد کا واقعہ دسمبر 2016 میں منظر عام پر آیا تھا، طیبہ کی تشدد زدہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1049869' ><strong>ازخود نوٹس</strong></a> لیا تھا۔</p><p class=''>بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعتیں کرنے کے بعد کیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا تھا۔</p><p class=''>سول سوسائٹی نے کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کے بجائے ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرانے کے لیے درخواست جمع کرائی، جسے عدالت نے مسترد کردیا۔</p><h6>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1051453' >ملازمہ تشدد کیس اسلام آباد ہائی کورٹ ارسال</a></h6>
<p class=''>خیال رہے کہ معاملہ عدالت میں آنے کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان سے ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں تھیں اور ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا تھا، جب کہ سپریم کورٹ نے 8 مارچ 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ ملزمان کے خلاف <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1053615/' ><strong>چالان</strong></a> میں غلامی اور انسانی فروخت کی دفعات بھی شامل کی جائیں۔</p><p class=''>دوسری جانب طیبہ کے والدین نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان کو <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1049803/' ><strong>معاف</strong></a> کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت میں صلح نامہ بھی جمع کروا دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1054510</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Mar 2017 12:04:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر جامی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58d4b64cc6b03.jpg?r=823916084" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58d4b64cc6b03.jpg?r=1853896173"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
