<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 08:32:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 08:32:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1054778/</link>
      <description>&lt;p class=''&gt;اسلام آباد کے چند علاقوں سے اکھٹا کیے گئے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بعد وفاقی دارالحکومت میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سرکاری خبر رساں ادارے (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق وائرس کی موجودگی چند ہفتوں قبل سامنے آئی تھی تاہم اب تک اسلام آباد میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے معاون ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تین روزہ ویکسی نیشن مہم کا آغاز پیر (27 مارچ) سے ہوچکا ہے جبکہ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کی جانب سے ضروری انتظامات بھی کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ اسلام آباد میں پولیو کا آخری کیس 10 برس قبل سامنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1017142' &gt;انسدادِ پولیو، پاکستان میں ایک خطرناک مہم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ملک کے مختلف علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کے ردعمل کے طور پر طالبان اور دیگر عسکریت پسند متعدد بار پولیو ویکسینیشن سینٹرز سمیت ہیلتھ ورکرز کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ پولیو کے قطرے پاکستانی بچوں کو بانجھ بنانے یا خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے لیے مغربی ممالک کا بہانہ ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خصوصاً قبائلی علاقوں میں اس پریشان کن رجحان میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ ابیٹ آباد کے قرب و جوار میں ایک پاکستانی فزیشن ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جانب سے چلائی جانے والی ایک جعلی ہیپٹائٹس ویکسین مہم نے ہی امریکا کو مئی 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرکے ہلاک کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='http://www.dawnnews.tv/news/1015214' &gt;پولیو ویکسین &amp;#39;حرام&amp;#39; نہیں : لیبارٹری رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مغرب میں پولیو کا خاتمہ ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پاکستان میں طالبان کی جانب سے حفاظتی ویکسین پر پابندی، طبّی عملے کو حملوں کا نشانہ بنانے اور اس ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے پولیو کا مرض ملک میں اب تک موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ پولیو انتہائی موذی وائرس ہے، جو عام طور پر حفظان صحت کی غیرتسلی بخش صورتحال کے باعث منتقل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس وائرس کا کوئی علاج نہیں، جس سے زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اور اسے صرف ویکسین کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p class=''>اسلام آباد کے چند علاقوں سے اکھٹا کیے گئے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بعد وفاقی دارالحکومت میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا۔</p><p class=''>سرکاری خبر رساں ادارے (اے پی پی) کی رپورٹ کے مطابق وائرس کی موجودگی چند ہفتوں قبل سامنے آئی تھی تاہم اب تک اسلام آباد میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔</p><p class=''>پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے معاون ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تین روزہ ویکسی نیشن مہم کا آغاز پیر (27 مارچ) سے ہوچکا ہے جبکہ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کی جانب سے ضروری انتظامات بھی کیے جاچکے ہیں۔</p><p class=''>واضح رہے کہ اسلام آباد میں پولیو کا آخری کیس 10 برس قبل سامنے آیا تھا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1017142' >انسدادِ پولیو، پاکستان میں ایک خطرناک مہم</a></strong></p><p class=''>ملک کے مختلف علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کے ردعمل کے طور پر طالبان اور دیگر عسکریت پسند متعدد بار پولیو ویکسینیشن سینٹرز سمیت ہیلتھ ورکرز کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن کا ماننا ہے کہ پولیو کے قطرے پاکستانی بچوں کو بانجھ بنانے یا خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے لیے مغربی ممالک کا بہانہ ہیں۔</p><p class=''>خصوصاً قبائلی علاقوں میں اس پریشان کن رجحان میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ ابیٹ آباد کے قرب و جوار میں ایک پاکستانی فزیشن ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جانب سے چلائی جانے والی ایک جعلی ہیپٹائٹس ویکسین مہم نے ہی امریکا کو مئی 2011 میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرکے ہلاک کرنے میں مدد دی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='http://www.dawnnews.tv/news/1015214' >پولیو ویکسین &#39;حرام&#39; نہیں : لیبارٹری رپورٹ</a></strong></p><p class=''>مغرب میں پولیو کا خاتمہ ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پاکستان میں طالبان کی جانب سے حفاظتی ویکسین پر پابندی، طبّی عملے کو حملوں کا نشانہ بنانے اور اس ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے پولیو کا مرض ملک میں اب تک موجود ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ پولیو انتہائی موذی وائرس ہے، جو عام طور پر حفظان صحت کی غیرتسلی بخش صورتحال کے باعث منتقل ہوجاتا ہے۔</p><p class=''>اس وائرس کا کوئی علاج نہیں، جس سے زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اور اسے صرف ویکسین کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1054778</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Mar 2017 15:23:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/03/58da33807a95b.jpg?r=317242276" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/03/58da33807a95b.jpg?r=1125964196"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
